سوات میں فوجی چھاونی کا قیا م مثبت پیش رفت

وطن عزیز میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڈنے کے لیے پاک فوج کی قربانیان کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ خبیر تا کراچی انتہاپسند عناصرکے خاتمے کے لیے پاک آرمی کے جوانوں نے ہمہ وقت اپنی جان کا نذارنہ پیش کیا وہی جنرل تک عہدے کے افسران بھی کسی طور پر پچھے نہ رہے۔ وفاقی دالحکومت سمیت پاکستان کا شائد ہی کوئی نمایاں شہر بچا ہو جہاں سیکورٹی اداروں نے ان عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں نہ لائے جو ملک وملت کے خلاف کسی بھی اقدام سے کسی صورت گریز نہیں کرتے۔
تاریخی طور پر سوات میں کیا جانے والا آپریشن راہ راست دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابی کے حصول کا باعث بنا۔ سوات کی خوبصورت وادی پر دہشت گردوں نے جس طرح قبضہ کرکے اسے من پسند طورطریقوں سے چلانا شروع کردیا وہ یقینا پاکستان کے علاوہ عالمی برداری کی تشویش بھی بڑھا گیا۔ سوات میں ملکی تاریخ کی نمایاں نقل مکانی ہوئی۔ شہریوں نے دہشت گردوں سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز کے لیے اپنا گھر بار چھوڈا۔ معاملے کا افسوسناک پہلو یہ رہا کہ پاک فوج کی جانب سے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کیے جانے کے باوجود سول انتظامیہ ایسے اقدمات اٹھانے میںناکام رہی جو اس علاقے کو ایک بار پھر شدت پسند عناصر کی آمجگاہ نہ بنے دے ۔ یہی وجہ ہے کہ سوات آپریشن کو سالوں گزرنے کے باوجود بھی علاقے میں فوج پوری قوت سے موجود ہے۔ اس پس منظر میں سوات میں جسے چند برس قبل فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان کے قبضے سے چھڑیا گیا تھا وہاں جمعہ کو فوج کے سربراہ راحیل شریف نے فوجی چھاونی کا افتتاح کیا ۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق آرمی چیف نے سوات میں فوجی چھانی کا سنگ بنیاد منگورا، کانجو اور خوزاخیلہ کے دورے کے موقع پر رکھا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی اور گورنر بھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر نے غیر مبہم الفاظ میں بتایا کہ سوات میں مقامی افراد کی جانب سے علاقے کی سکیورٹی کے مطالبے کے پیش نظر فوجی چھانی کی باقاعدہ منظوری گذشتہ سال آٹھ ستمبر کو دی گئی تھی۔ فوجی چھاونی کے سنگ بنیاد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف راحیل شریف نے سواتی عوام کا خطے میں دہشت گردی کے خلاف کھڑنے ہونے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فوج سوات میں امن اور سکیورٹی کے لیے مسلسل اور اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ان کے بعقول سوات میں چھانی دہشت گردوں کے لیے رکاوٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اعتماد بڑھانے اور علاقے میں کسی بھی خطرے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔جنرل راحیل شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ فاٹا اور مالاکنڈ میں ترقیاتی کام ترجیحی بنیادوں پر بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ کہا گیا کہ جن علاقوں میں آپریشن کیے جا چکے وہاں اب تک پاکستان آرمی سات سو سے زائد بڑے اور چھوٹے منصوبوں کا آغاز کر چکی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ان علاقوں کے رہائشیوں کا معیار زندگی بہتر بنانا اور مقامی سطح پر شدت پسندی کے مسائل سے مکمل طور پر نمٹنا ہے۔ بلاشبہ چیف آف آرمی سٹاف کے اس موقف کو کسی صورت نہیں نظر اندازنہیں کیا جاسکتا کہ پوری دنیا پاکستان آرمی کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے سے لے کر تعمیر نو تک اور پھر ان ہی علاقوں میں لوگوں کو آباد کرنے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کا اعتراف کرتی ہے۔
سوات میں دہشت گردوں سے علاقے کو خالی کرانے کے لیے مئی 2009 میں بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا تو پاکستان کے بدخواہوں نے واضح کامیابی کے امکان کو مسترد کردیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاک فوج اور عوام کے تعاون سے علاقے میں دہشت گردوںکو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ عملا سوات کو ان کے وجود سے پاک کردیا گیا۔ یہ بات سوفیصد درست ہے کہ دنیا کی کوئی بھی جنگ عوام کے تعاون کے بغیر نہ لڑی اور نہ جیتی جاسکتی ہے۔ سوات ہو فاٹا کا علاقے سیکورٹی فورسز کو واضح کامیابی اسی صورت ملی جب پاکستانی عوام نے کندھے سے کندھا ملا کر ملک وقوم کے دشمنون کو شکست دی۔
سیاسی حکومتوں سے عام آدمی کا یہ شکوہ غلط نہیں کہ قومی ایکش پلان کی شکل میں وہ اس منصوبہ پر پوری سنجیدیگی سے عمل کرنے میں ناکام رہیں جو حقیقی معنوں میں پاکستان سے انتہاپسندی کے عفریت کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا تھا۔سوات اور فاٹا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گرد کاروائیوں کے جاری وساری رہنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاسکا جس کو بنیاد بنا کر کالعدم تنظمیں اب بھی فعال ہیں۔
سیاسی قوتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک محکمہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیاجاتا۔ ملک کے اندار تادیر فوج کا ان شدت پسند عناصر کے خلاف برسر پیکار رہنا مناسب نہیں چنانچہ جس قدر ممکن ہوسکے پولیس کو امن وامان بہتر بنانے کی زمہ داری سونپ دی جائے۔یہ اب تو کھلا راز ہے کہ بھارت سمیت پاکستان کے بدخواہوں کی کوشیش اور خواہش یہی ہے کہ کسی طرح پاک فوج ہی انتہاپسند عناصر کے خلاف الجھی رہے چنانچہ ایسی پالیسی سے وہ ملک کے دفاعی اداروں کے لیے ہمہ وقت امحتان میں رہنے کا باعث بن سکتی ہے جو کسی صورت اطمنیان بخش نہیں۔

Scroll To Top