‘ جیسی ماں، ویسی بیٹی’

برائنا اور ملی اینا — فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک

آپ نے ایسے متعدد افراد دیکھے ہوں گے جن کی جلد خصوصاً ہاتھوں، بازوؤں اور چہرے وغیرہ پر سفید دھبے ہوتے ہیں جسے طبی زبان میں ‘برص’ بھی کہا جاتا ہے۔

مگر کسی کے بالوں میں ایسا نشان ہو اور وہ نسل در نسل منتقل ہو ایسا کبھی سننے یا دیکھنے میں نہیں آیا۔

تاہم امریکی ریاست ساﺅتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ برائنا ورتھی اور ان کی 18 ماہ کی بیٹی ملی اینا دونوں کے بالوں کے سامنے والے حصے پر پیدائشی طور پر ایسا سفید نشان موجود ہے۔

فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک
فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک

درحقیقت ملی اینا اس خاندان کی چوتھی نسل ہے جس میں یہ امتیازی نشان موجود ہے جو اس سے پہلے ان کی پر نانی، نانی اور والدہ میں بھی موجود تھا۔

برائنا کے مطابق ہمیں معلوم نہیں کہ یہ پیدائشی نشان ہمارے خاندان میں کتنا پرانا ہے کیونکہ میری پرنانی کو بچپن میں ایک خاندان نے گود لیا تھا اور انہیں اپنے حقیقی گھروالوں سے ملنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔

برائنا اپنی ماں اور بیٹی کے ساتھ — فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک
برائنا اپنی ماں اور بیٹی کے ساتھ — فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک

اگرچہ برص کے مرض کا علاج نہیں ہوتا مگر اس میں کمی لانا ضرور ممکن ہے، جو کہ عام طور پر جسم میں میلانن نامی جزو کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے جو رنگت کا تعین کرتا ہے۔

برائنا کا کہنا تھا ‘میں اس نشان کے ساتھ پلی بڑھی اور مجھے اپنے بالوں سے محبت ہے، جس نے مجھے منفرد شناخت دی اور میرے اندر اعتماد پیدا ہوا’۔

فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک
فوٹو بشکریہ برائنا ورتھی فیس بک

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو اس طرح پالنا چاہتی ہیں کہ اسے لگے کہ وہ خوبصورت اور دوسروں سے بہت خاص ہے جسے لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔

انگریزی محاورہ ہے ‘جیسا باپ، ویسا بیٹا’ مگر اس خاندان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ‘ جیسی ماں، ویسی بیٹی’۔

Scroll To Top