جب ایک سبزی خور نے پہلی بار گوشت کھایا

اسٹیفنی پوٹاکیز — اسکرین شاٹ

امریکا سے تعلق رکھنے والی اسٹیفنی پوٹاکیز 22 سال تک گوشت سے منہ موڑے رہی اور صرف سبزیوں کو اپنی غذا بناتی رہیں۔

اس خاتون نے اسکول کی ابتدائی کلاسوں سے گوشت کھانا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں اس سے ماحولیاتی نظام میں بہتری آتی ہے۔

مگر 22 سال بعد آخرکار جب انہوں نے پہلی بار گوشت کا ذائقہ چکھا تو پھر کیا ہوا؟

درحقیقت انہیں گوشت اتنا پسند آیا کہ اب زندگی بھر اسے کھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اسٹیفنی کی یوٹیوب پر اس حوالے سے ویڈیو پر بہت زیادہ مقبول ہوئی جسے لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں جسے یہاں بھی آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

گوشت کو دوبارہ کھانے کا فیصلہ اسٹیفنی نے اس وقت کیا جب انہوں نے شکاگو مین ایک فیسٹیول کے دوران گوشت کے پکوانوں کی مک سونگھی۔

درحقیقت گوشت پروٹین سے بھرپور ایسی غذا ہے جو صحت کو متعدد فوائد پہنچانے کا باعث بنتی ہے اور ان کا حصول دیگر ذرائع سے مشکل ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گوشت بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض سے تحفظ دیتا ہے جبکہ یہ پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ دیر تک برقرار رکھتا ہے جس سے موٹاپے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ مسلز بنانا چاہتے ہیں تو گوشت اچھا جسم بنانے کی کنجی ثابت ہوتا ہے۔

گوشت سے جسم کو ضروری امینیو ایسڈز بھی ملتے ہیں جو جسمانی افعال اور دماغی کارکردگی کو مستحکم اور کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ یہ نیند، وزن اور جذباتی کیفیت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

Scroll To Top