خبیر پختوانخواہ میں بہتری کا عمل جاری

پاکستان تحریک انصاف کے ناقدین کے بقول عمران خان خبیر پختوانخواہ میںا یسی تبدیلی لانے میں ناکام رہے جو بڑی حد تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری لے آتی۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ صوبے میں پولیس اصلاحات ، پٹواری نظام کو عوام دوست بنانے اور سب سے بڑھ کر سرکاری محکموں میں بدعنوانی ختم کرنے کے لیے دور رس اقدامات اٹھائے گے جن کے اثرات اب ظاہر ہورہے ہیں۔ دوسری جانب اب تک ہونے والے غیر جانبدار سروے بھی اس پی ٹی آئی کے اس دعوے پر مہر تصدیق ثبت کررہے کہ خیبر پختوانخواہ میں صوبائی انتظامیہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں بہتری کے لیے کوشاں ہے یہاں اس پہلو کوئی فراموش نہ کرے کہ خبیر پختوانخواہ کے عوام کا سیاسی شعور پنجاب اور سندھ سے کہیں بڑھ کرہے۔ اہم یہ ہے کہ صوبے کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومتوں کو ووٹ کے زریعہ مسترد کرچکے ۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صوبائی سیاست کے اس پہلو سے باخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی قیادت ماضی کی حکومتوں کے برعکس ایسے اقدمات اٹھا رہی جو حقیقی معنوں میں بہتری کا باعث بنیں۔ اسی پس منظر میں خبیر پختوانخواہ کے کم عمر بچوں میں صحت کی ابتر صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی۔صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹفکیشن کے مطابق صوبائی وزیر اعلی نے کم عمر بچوں میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت کی سنگینی کے پیش نظر صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جس کا فوری طور پر اطلاق ہوگا۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سال سے کم عمر کے تقریبا 24 لاکھ بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔ چنانچہ خیبرپختوانخواہ کی حکومت نے فوری طورپر صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع اور قابل عمل منصوبہ تیار کیا ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں غذائی کمی کے شکار بچوں کے لیے سٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کئے جائیں گے جبکہ قوت اور توانائی سے بھرپور فوڈ سپلیمنٹ درآمد کی جائیں گی۔اس ضمن میں بیرون ملک تعاون بھی حاصل کیا جارہا ہے۔ مثلا خیبر پختونخوا حکومت نے آسٹریلوی حکومت کے تعاون سے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا منصوبہ بھی ترتیب دیا جسے منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ۔اس منصوبے کی روشنی میں صوبے بھر میں 500 سے زائد سٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ بچوں کی صحت کی بحالی کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ معاملے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادرہ صحت کے نیشنل نیوٹریشنل سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں غذائی کمی کی وجہ سے 5 سال سے کم عمر بچوں میں 17.3 فیصد بچے سوکھے پن کا شکار ہیں۔سروے کے نتائج میں کہا گیا کہ سوکھے پن کا تناسب 15 فیصد سے زائد ہونا انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، جبکہ صوبے میں47.8 فیصد بچے پست قامت اور ذہنی کمزوری کا شکار ہیں۔
وطن عزیز میں صحت ان شعبوں میں سے ایک ہے جسے ایسی اہمیت نہیںدی گی جس کا وہ بجا طور پر مستحق ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک تو آبادی کے اعتبار سے ملک میں سرکاری ہسپتالوں کی کمی ہے مگر جو موجود ہیں ان میں بھی ایسی سہولیات میسر نہیں جن پر اطمنیان کا اظہار کیا جاسکے۔ اس حقیقت کو کسی صورت نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ ملک میں صحت کا شعبہ ایسے کاروبار کی شکل اختیار کرچکا جس میں کسی طور پر خسارہ کا امکان نہیں۔ زائد المیاد ادویات کا معاملہ ہو یا غیر تربیت یافتہ عملہ ہر غریب مریضوں کے لیے ہر مصیبت اپنی تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ موجود ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بچوں کے علاج معالجے کو بہتر بنانے کی جانب قدم بڑھانا حوصلہ افزاءہے چنانچہ مستقبل قریب میں امید کرنی چاہے کہ صوبے بھر میں غریب اور نادار افراد کو اس انداز میں علاج کی سہولیات میسر ہونگی جو دیگر صوبوں کے رہنے والوں کے لیے قابل رشک کہلائے۔
عمران خان نے دسمبر دوہزار پندرہ میں پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کا افتتاح کیا۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پشاورمیں شوکت خانم ہسپتال کا قیام ایک خواب تھا جس کو تعبیر مل گی۔ اس موقعہ پر عمران خان دوٹوک انداز میں کہا کہ پشاور کے شوکت خانم ہسپتال میں خاص وعام کا یکساں علاج کیا جائیگا۔“
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ عمران خان کا شمار پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو عوام کی خدمت کے لیے محض زبانی جمع خرچ پر یقین نہیںرکھتے بلکہ انھوں نے عملا کردکھایا ۔ ہوسکتا ہے کہ سچ یہی ہو کہ عمران خان کی مقبولیت کا راز ان کے اندر پائے جانے والے عوامی خدمت کا جذبہ ہی ہو۔
ایک خیال یہ ہے کہ آنے والے عام انتخاب سیاسی جماعتوں کا بڑا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف دونوں کا کڑا امتحان ہوگا کہ انھوں نے کہاں تک اپنے کہے ہوئے الفاظ کی لاج رکھی۔کسی کو ہرگز بھولنا چاہے کہ عام پاکستان بجا طور پر سمجھتا ہے کہ سیاست دان دعوے یا وعدے زیادہ جبکہ عمل کم کرتے ہیں۔لہذا کئی دہائیوں سے تعلیم اور صحت جیسے بنیادی اہمیت کے شعبوں کا مسلسل نظر اندازہونا باشعور پاکستانی کسی طور پر قبول نہیں کرسکتے۔

Scroll To Top