سرجری کے بغیر دل کے سوراخ بند

Image result for surgery heart

ملتان: ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے آپریشن کے بغیر 7 بچوں کے دل کے سوراخ بند کیے، ملتان کے چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے 7 بچوں کے دل کے سوراخ آپریشن کے بجائے اینجیوگرافی سے بند کیے۔

انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا الطاف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں کی طبیعت میں مسلسل بہتری آرہی ہے، انہیں جلد اسپتال سے خارج کردیا جائے گا۔

مریض بچوں کے دل کے اوپر والے حصے میں اٹرائل سیپٹل ڈفیکٹ ( اے ایس ڈی ) اور دوسرے حصے میں وینٹرری کولر سیپٹل ڈوائسز ( وی ایس ڈی ) تھا جس وجہ سے بچوں کے دل میں سوراخ ہوگئے تھے۔ بچوں کے دلوں میں اے ایس ڈی اور وی ایس ڈی ہوجانے کی وجہ سے دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے کو خون کی ترسیل میں رکاوٹ تھی۔

ڈاکٹر رانا الطاف کے مطابق مریض بچوں کے دلوں میں سیپٹل ڈوائسز اور وینٹری کولر ڈوائسز اینجیو گرافی کے ذریعے نصب کردی گئیں، جب کہ اس سے پہلے مریضوں کا آپریشن کے ذریعے اے ایس ڈی اور وی ایس ڈی کا علاج بھی کیا جا رہا تھا۔

مریض بچوں کی اینجیو گرافی کرنے والی ٹیم میں لندن کے ڈاکٹر پروفیسر شکیل قریشی، چلڈرن کمپلیکس لاہور کے ڈاکٹر پروفیسر مسعود صادق اور کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیز کے ڈاکٹر کلیم الدین سمیت دیگر ڈاکٹر شامل تھے۔

ڈاکٹروں کی ٹیم نے چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والی 13 ویں نیشنل پیڈیاٹرک کارڈیولوجی کانفرنس میں شرکت کی۔

ڈاکٹروں کی ٹیم نے پیڈیاٹرک یونٹ میں اسپیشل سرجری ٹریننگ سیشن میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ ڈاکٹر یونس، ڈاکٹر احسان بیگ اور ڈاکٹر سہیل نے مستقبل میں آپریشن کے بغیر اینجیوگرافی سے متعلق ٹریننگ پروگرام کا انعقاد کیا۔

ڈاکٹر رانا الطاف کے مطابق لاہور کے چلڈرن کمپلیکس کے بعد چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ صوبے کا دوسرا ادارہ ہے، جو اینجیوگرافی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر رانا کے مطابق اینجیوگرافی کے لیے 75 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک اخراجات اآتے ہیں، جو صوبائی حکومت برداشت کرتی ہے۔

Scroll To Top