چین میں بازو میں کان اگانے کا کامیاب تجربہ

مریض کے ہاتھ میں لگائے جانے والا کان — رائٹرز فوٹو

چین میں ایک پلاسٹک سرجن نے کامیابی سے مصنوعی کان ایک شخص کے بازو میں اگانے کا کامیاب تجربہ کیا جس نے دنیا بھر کو حیران کردیا ہے۔

چینی روزنامے پیپلز ڈیلی کے مطابق یہ واقعہ چین کے صوبے شانسی کے علاقے ژیان میں پیش آیا جہاں جی (پورا نام نہیں بتایا گیا) نامی شخص ایک حادثے کے نتیجے میں اپنے دائیں کان سے محروم ہوگیا۔

ڈاکٹر گیو شیزونگ نے متاثرہ شخص کی پسلیوں کی نرم ہڈی کو استعمال کرتے ہوئے نیا کان تیار کیا اور ابتدائی طور پر بازو میں لگا دیا۔

چونکہ حادثے کے نتیجے میں مریض کے چہرے کے دائیں جانب شدید زخم آئے تھے اور کئی آپریشنز بھی ہوچکے ہیں تاکہ جلد اور گالوں کو بحال کیا جاسکے، اسی لیے کان کو بازو میں لگایا گیا۔

ڈاکٹر گیو مریض کا چیک اپ کرتے ہوئے — رائٹرز فوٹو
ڈاکٹر گیو مریض کا چیک اپ کرتے ہوئے — رائٹرز فوٹو

اس شخص کی عمر بھی واضح نہیں کی گئی تاہم وہ اپنے دائیں کان کی محرومی پر بہت زیادہ مایوس تھا اور اسے لگتا تھا کہ وہ جسمانی طور پر مکمل نہیں۔

مختلف طبی ماہرین سے رائے لینے کے بعد جی کو احساس ہوا کہ کان کی واپسی روایتی طبی طریقہ کار کے تحت ناممکن ہے کیونکہ دائیں کان کا ضروری حصہ غائب ہے۔

اس کے بعد مریض نے ڈاکٹر گیو شیزونگ سے رابطہ کیا جو کہ چین میں 2006 میں چہرے کا پہلا ٹرانسپلانٹ کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

ابتدائی چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے تین نکاتی پروگرام پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا۔

پہلے اقدام کے طور پر ڈاکٹر گیو اور ان کی ٹیم نے ایک اسکن ایکسپنڈر مریض کی دائیں کہنی میں نصب کیا جبکہ دوسرے مرحلے میں پسلیوں سے نرم ہڈی لی گئی جسے کان کی شکل دے کر دائیں کہنی میں لگا دیا گیا۔

تیسرے مرحلہ کچھ عرصے بعد ہوگا جب بازو میں کان مکمل ہونے کے بعد اسے سر میں منتقل کیا جائے گا۔

ڈاکٹر گیو کے مطابق دوسرا مرحلہ سب سے مشکل تھا مگر ان کی ٹیم اس میں کامیاب رہی۔

اب تیسرے مرحلے میں کان کی ٹرانسپلانٹیشن تین سے چار ماہ میں اس وقت ہوگی جب یہ مصنوعی عضو مکمل طور پر اگ جائے گا۔

Scroll To Top