گورنر کی تبدیلی کچھ نہیں بدلے گا !

14سال تک گورنر رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد کو تبدیل کر ریٹائر چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو سندھ کا گورنر لگانے کی بظاہر کوئی وجہ بیان نہیں کی گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حال ہی میں پاک سرزمین وطن پارٹی کے رہنما مصطفے کمال کی تنقید اس فیصلے کا باعث بنی تو شائد یہ بات مکمل طور پر درست نہ ہو۔ ڈاکٹر عشرت العباد پر جو الزمات سابق ناظم کراچی نے لگائے اس سے کہیں بڑھ الزمات ماضی میں بھی لگائے گئے۔ ادھر اس فیصلے کے بعد یہ تاثر بھی ابھرا جب عشرت العباد کو ہٹا کر مسلم لیگ ن کے قریب کہلانے والے سعیدالزمان صدیقی کو گورنر لگانا صوبے میں اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم بنانا ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر عشرت العباد نے اپنی سیاست کا آغاز آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن سے کیا تھا۔ ان کا شمار الطاف حسین کے قریبی ساتھیوں میں کیاجاتا تھا۔ 1990 کے عام انتخاب میں ایم کیوایم کے ٹکٹ پر کامیابی کے بعد وہ صوبائی وزیر مقرر ہوئے ۔ 1992 میں کراچی آپریشن کے بعد عشر ت العباد روپوش ہوگے اور پھر لندن جا پہنچے جہاں انھوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دائر کردی۔ ادھر نامزد نئے گورنر ریٹائر جسٹس سعید الزمان صدیقی کو جسٹس سجاد علی شاہ کے بعد چیف جسٹس تعینات کیا گیا ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک میںدوسپریم کورٹ بن گئی تھیں۔ جسٹس سعیدالزمان صدیقی پاکستان مسلم لیگ ن کے 2003 اور 2008 میں صدارتی امیدوار بھی رہے۔
اگرچہ کراچی میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن میں عسکری قیادت کاکردار ناقابل فراموش ہے مگر اس میں شک نہیںکہ سیاسی حکومت امن وامان بحال کرنے کا کریڈٹ لیتی ہوئی نہیں تھکتی ۔ شہر قائد کے حالات بہتر بنانے کے عزم کا اظہار قومی ایکشن پلان میں بھی کیا گیا تاکہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا شہر میں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ بدقسمتی ہے کہ وفاقی حکومت اور سندھ کی صوبائی انتظامیہ ان عناصر کو جڑ سے ختم کرنے کے وہ اقدمات نہیں اٹھا سکی جس کی ضرورت بجا طور پر موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے کراچی امن وامان کیس میں برملا طور پر ان وجوہات کو بیان کیا جو شہر کی سیاست اور جرائم پیشہ افراد میں گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ثابت ہوئیں۔
کراچی کے مسائل حل کرنے میں پی پی پی قیادت کی غیر سنجیدیگی کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ وفاق اورسندھ میں پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود نہ تو پولیس سیاسی اثررسوخ سے آزاد ہوئی نہ اس محکمہ کو وہ جدید سہولیات ملیں جن کی کئی دہائیوں سے ضرورت محسوس کی جارہی۔ افسوس کہ اب تک پی پی پی کا طرزعمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ کسی طور پر اپنے اس سیاسی مفادات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں جو بظاہر صوبے میں جاری بدامنی کے ساتھ وابستہ رہے۔
مخصوص پیرائے میں مسلم لیگ ن کی پالیسی بھی سندھ میں امن وامان کی بہتری کے اقدامات کے لیے قابل رشک نہیں رہی۔ وفاق نے آئین کے دائرے میں رہ کر سیاسی مصلحتوں کے باعث صوبے کی دیہی اور شہری آبادی کی نمائندہ جماعتوں کو مجبور نہیں کیا کہ وہ عوامی فلاح وبہود کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔
درحقیقت جمہوریت کی بالادستی اس وقت قائم ہوگی کہ جب منتخب نمائندے عوامی مشکلات حل کے لیے پورے اخلاص اور جانفشانی سے اپنے فرائض ادا کریں۔سندھ میں مسائل کی بنیادی وجہ بلدیاتی اداروں کا فعال نہ ہونا ہے۔ کہنے کو لوکل باڈیز کے الیکشن بھی ہوگئے مگر منتخب نمائندوں کو نہ تو فنڈز دئیے گے اور نہ ہی انھیں اختیارات سے نواز گیا۔ وفاقی حکومت صوبے کے مسائل کم کرنے میں اسی صورت بہتر کردار ادا کرسکتی ہے جب وہ پی پی پی کو مجبور کرے کہ وہ لوکل باڈیز سسٹم بحال کرے۔ طویل عرصے سے شہر قائد میں گندگی کے جا بجا ڈھیر صوبائی انتظامیہ کی غفلت اورلاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لہذا یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ نئے گورنر ایسے عوامی مسائل کو حل کرنے میں عملا کوئی اقدام اٹھا پائے گے کہ نہیں۔
سعید الزمان صدیقی کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع بہرکیف نہیں کی جاسکتی کہ وہ سندھ کے ایسے فعال گورنر کا کردار ادا کریں جو قابل رشک کہلائے۔ایک طرف تو گورنر کے آئینی اختیارات محدود ہیں تو دوسرا عوامی مزاج نہ ہونا بھی سعید الزمان کے آڑ ے آسکتا ہے۔ پی پی پی نے وفاقی حکومت کے اس اقدام پر یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ ترین سطح پر لائی جانے والی اس تبدیلی کے لیے مشورہ نہیں کیا ۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ گورنر لگانا وفاقی حکومت کا استحاق ہے مگر مشاورت نہ کرکے اچھا پیغام نہیں دیا گیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو دراصل یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ماضی کی پالیسوں کے برعکس انھیں حقیقی طور پر عوام کی فلاح وبہود کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے ہونگے ۔ دونوں جماعتوں کے ووٹ بنک میں تیزی سے کمی آنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ سیاسی چال چلتے ہوئے خالصتا اپنے گروہی مفاد کو مدنظر رکھنے کی ہی خوگر ثابت ہوئیں۔اگر یہ مان لیا جائے کہ موجودہ انتظام اپنی مدت پوری کریگی اور عام انتخابات دوہزار اٹھارہ میں ہی ہونگے تو پھر بھی عوامی عدالت میں جانے کے لیے ان کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ۔ ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ سیاست کے اس پہلو پر تو جہ مرکوز کی جائے جس میں قدم بہ قدم عوامی مسائل حل کرنا ہی ترجیح اول کہلائے۔

Scroll To Top