ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکہ کا 45 واں صدر بن جانا بلاشبہ دنیا بھر کے ان تمام لوگوں کو حیران کرگیاجو سپرپاور کے الیکشن پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ صدارتی انتخاب کی دوڈ میں ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا مگر جیت ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح پر ایک طرف جہاں دنیا بھر میں حیرت کے ساتھ تشویش کا اظہار کیا جارہا وہی امریکہ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالف سڑکوں پر نکل آئے ۔ حال ہی میں امریکہ صدر بارک اوباما کا یہ بیان بھی سامنے آچکاکہ جو شخص اپنا ٹویٹر اکاونٹ نہیںسنبھال سکتا وہ جوہری کوڈ کیسے سبنھالے گا ۔ اوباما نے یہ تبصرہ اس انکشاف کے بعد کیا کہ انتخابی مہم کے آخری چند روز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سٹاف نے انھیں سماجی ویب سائیٹ کا اکاونٹ استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڈ جانا بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوام عالم نے امریکی عوام کے اس فیصلہ کو دل وجان سے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ روس کی شکست کے بعد امریکی دنیا کی اکلوتی سپرپاور کہلاتاہے۔ انکل سام کا اقوام عالم میں موجود اثررسوخ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اس میں بجا طور پر ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے اقدامات سے دنیا کے حالات کو بدل کر رکھ سکتا ہے۔ اس ضمن میں نائن الیون کا واقعہ کوبطور خاص لینے کی ضرورت ہے۔ چند مسلمان نوجوانوں کو اس دہشت گرد کاروائی کا ذمہ دار قرار دے کر امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔مگر سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں لاکھوں معصوم شہریوں کے قتل عام کے بعد بھی افغانستان آج بھی امن سے دور ہے۔ پندرہ سال گزرنے پھر بھی امریکہ بہادر یہ کہنے میں تامل کا شکار ہے کہ افغانستان میں اسے کسی نہ کسی شکل میں فتح ہوئی۔ اس کے برعکس عملا حالات یہ ہیںکہ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کی سی صورت حال پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ملکوں کو بھی متاثر کررہی۔
ڈونلڈ ٹرمپ یقینا امریکیوں کی پسند ہے مگرتاحال واضح نہیںکہ نئے امریکی صدر انتخابی کے مہم دوران پیش کےے جانے والے نظریات یا خیالات کو لے کر کیوں اور کیسے اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن انداز میںادا کرنے میں کامیاب ہونگے۔ ڈونلڈٹرمپ نے جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں دنیا کو امن اور تعاون کا پیغام دیا۔ ان کی چند منٹ کی تقریر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انھیںخود پر ہونے والی تنقید کا باخوبی حساس ہے اور وہ کسی صورت ان خدشات کو سچ ثابت نہیں کرنا چاہتے جن کا ان کے مخالفین برملا اظہار کررہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاست میں کہا کچھ اور کیا کچھ جاتا ہے چنانچہ وسیع پیمانے پر کامیاب کاروبار چلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو اندازہ ہوگیا کہ امریکیوں سے ووٹ لینے کے لیے جو بیانات دئیے گے وہ کسی طور پر حکومت چلانے میں معاون نہیں ہو سکتے۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی چنانچہ کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اقوام عالم سے الگ تھلگ رہ کر کاروبار حیات چلا سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی چاہنے کے باوجود اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہ سکتے ہیں جن کا اظہار وہ انتخابی مہم کے دوران کھل کر کرتے رہے۔
امریکی صدارتی الیکشن جیتنے والے ڈونلڈبارے یہ کہنا غلط نہیں کہ انھیں دنیا کو بدلنے کی بجائے خود کو ہی بدلنے پر اکتفا کرنا ہوگا۔دوسری جانب یہ بھی عین ممکن ہے کہ اپنی متنازعہ شخصیت کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سماج اور سیاست کو اس انداز میں تبدیل کرنے کے لیے میدان عمل میں نکل آئیں جو کسی بھی شکل میںامریکہ کے لیے سودمند نہ ہو۔ ایسی قیاس آرائیاں اس وقت تک کسی صورت نہیں تھم سکتیں جب تک نئے امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر درست طور پر ذمہ داریاں ادا کرنا شروع نہ کردیں۔
ٹھیک کہا جارہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی جاری حکمت عملی میںخاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام ہونگے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ امریکہ جیسے ملکوں کی پالیساں کسی مخصوص ادوار کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ہر منصوبہ کئی دہائیوں قبل سوچ وبچار کے بعد ترتیب دیا جاتا ہے۔
اس میں کس کو شک ہے کہ امریکہ میں ہندو کمینونٹی کو پسند کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ باخوبی جانتا ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی معیشت ان کے مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرسکتی ہے۔ دوسری بنیادی وجہ چین کے عالمی منظر نامہ پر بڑھتا ہوا اثررسوخ ہے جو انکل سام کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانیوںکی کسی سازش کا سہارا تلاش کرنے کی بجائے کھل کر اپنی ان ناکامیوں کا اعتراف کرنا چاہے جو ہلیری اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کو پاکستانی موقف کو درست تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے میںناکام رہیں۔
بدقسمتی ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیاںکا ادارک کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں۔ وزرات خارجہ کا متحرک رہنا تو ایک طرف عالم یہ ہے کہ حکمران جماعت ایک مکمل وزیر خارجہ تک کا تقرر نہیں کرسکی۔ ہمارے بڑوں کو ان تبصروں اور تجزیوں کو کسی صورت ہلکا نہیں لینا چاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کے اندار اور باہر دہشت گردی کی ایسی کاروائیاںکی درپردہ حمایت کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے مسائل میںدوگنا اضافہ ہوجائے۔ زمہ داروں کو یہ بھی سمجھ لینا چاہے کہ جب تک ہم بطورقوم اندار سے مضبوط نہیں ہونگے اس وقت تک امریکہ ہو یا بھارت کہیں بھی کسی بھی شکل کی منفی تبدیلی ہم پراثر انداز ہوتی رہیگی۔

Scroll To Top