حتمی کامیابی تک جنگ جاری رہے گی 

چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے سات دہشت گردوں کی سزا موت کی توثیق ایسے موقعہ پر سامنے آئی جب بھارت مسلسل پاکستان پر شدت پسندی کی پشت پناہی کا الزام عائد کررہا ہے۔روایتی حریف اس حقیقت کو دانستہ نظر انداز کرنے کا مرتکب ہوا ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان وہ واحد ملک نے جس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی ومالی قربانیاں دیں۔ معاملہ یہ نہیں کہ چانکیہ سیاست کے پیروکار حقائق سے نابلد ہیں بلکہ مسلہ یہ ہے کہ انتہاپسند ہندو کسی طور پر پاکستان کو کوئی کریڈٹ نہیں دینا چاہتا۔ جنرل راحیل شریف نے ان مجرموں کو شہریوں ، پولیس اور مسلح افواج پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی۔ سزائے موت پانے والے فرقہ واریت پھیلانے، ٹارگٹ کلنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں بھی ملوث پائے گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مجرموں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جبکہ مقدمات کی سماعت کے دوران انھوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔
وطن عزیز میں ضرب عضب کے بعد سے لے کر سیکورٹی فورسز کو جو کامیابیاں ملی ہیں وہ یقینا قابل رشک ہیں۔ فوج اور عوام شانہ بشانہ اس جنگ میں پیش پیش ہیں جس کی آخری منرل ارض وطن کو انتہاپسندی کے عفریت سے پاک کرنا ہے۔ اس میں دوآراءنہیں کہ جنگ سپاہ نہیں قوم لڑا کرتی ہے۔ یہی وہ سچائی ہے جسے پاکستانی قوم اور فوج نے بار بار اپنے طرزعمل سے ثابت کیا ۔آج بڑی حد تک یہ دعوے کیا جاسکتا کہ ملک کے کونے کونے میں چھپے ایسے عناصر کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قانون کے کٹہرے میں لایا جارہا ہے جو عملا ریاست کی عملدآری تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
بطور قوم ہمیں یہ خوش فہمی دل سے نکال دینی چاہے کہ ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہکاروں کی قربانی ہمارے ان بدخواہوں کو مطعمن کردے گی جو ہمہ وقت اس سرزمین کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کیونکر خوش ہوگا جب پاکستان میں مذہب اور مسلمہ اخلاقی اقدار کو پاوں تک روندنے والے جتھے کمزور پڑ گے۔ اب تو یہ راز قطعی طور پر پوشیدہ نہیںرہا کہ مملکت خداداد میں لسانی ، سیاسی اور مذہبی دہشت گردوں کو سرحد پار سے تربیت اور رقم دونوں وافر مقدار میں مل رہی۔
عصر حاضر میں قوموں نے جہاں دیگر طور طریقوں کو بدل لیا ہے وہی جنگ کا انداز بھی بدل چکا۔ آمنے سامنے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے سے کہیں بہتر حریف ملکوں کے ان گروہوں کی سرپرستی کی جاتی ہے جو مختلف شکلوں میں وہاں مسائل کو جنم دینے کا باعث بنیں۔ یہاں اس نقطہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ دشمن اب مسلح جدوجہد کرنے والے عناصر کی سرپرستی ہی نہیں کرتا بلکہ ان سیاسی ، مذہبی اور سماجی شخصیات پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشیش کی جاتی ہے جو قومی سطح پر اتفاق ویکجہتی کی فضا خراب کرنے میں معاون بنیں۔ مثلا ہمارے ہاں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما وقتا فوقتاایسے بیانات جاری کرتے ہیں جو کسی طور قومی وحدت کے لیے سازگار نہیں۔ حال ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے محمود خان اچکزئی کا افغان مہاجرین کے تناظر میں کہا گیا بیان کروڈوں پاکستانیوں کے احساسات مجروع کرگیا۔ یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کیا ہمارے بعض دانشور وسیاست دان سوچھی سمجھی حکمت عملی کے تحت ملک دشمنوں کو خوش کرتے ہیں یا ایسے الفاظ ان کے منہ سے غیر دانستہ طور پر ادا ہو جاتے ہیں جنھیں کسی طور پر مناسب نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کا محل وقوع ایک طرف ہمارے لیے نعمت عظمی سے کم نہیں تو دوسری جانب اس کی وجہ سے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو ایسی ترغیب بھی ملی وہ اس سرزمین سے مفادات حاصل کرنے کے لیے درپہ ہوجائیں۔اہل پاکستان کی بدقسمتی دراصل یہ بھی رہی کہ انھیں ایسی قیادت نصیب نہ ہوئی جو شر کو خیر میں بدل ڈالے۔ 70سالہ تاریخ میں اکثر وبیشر ایسے حکمران ہی برسر اقتدار آئے جو ذاتی یا خاندانی مفادات سے آگے نہ دیکھ سکے۔ دوسری جانب ناخواندگی کے سبب عام پاکستانیوں کی اکژیت اپنے مسائل کا درست انداز میں ادراک نہ کرسکی۔ برادری ازم اور لسانی اختلافات کو اہل اقتدار نے اپنے مفادات کے لیے اس طرح تحفظ دیا جو بالا آخر پاکستان کے روشن اور محفوظ مسقبل کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔
اس سوال کا جواب حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ آخر عوام ان ہی جماعتوں کو بار بار کیونکر منتخب کرتے رہے جو ان کے مسائل کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کرنے کے درپے ہیں۔دراصل جمہوریت بارے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ نظام صرف ان ہی معاشروں میں اپنے مثبت اثرات مرتب کرسکا جہاں فروغ تعلیم کے لیے تیزی سے اقدمات اٹھائے گے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی جمہوریت میں بنیادی فرق تعلیم ہی کا ہے جو کامیابی اور ناکامی کے لیے اہم کردار ادا کررہا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کو ہر قمیت پر جیتنا ہے۔ بطور قوم ان تمام رکاوٹوں پر بطور قوم ہمیں خود ہی قابو پانا ہے جو اس ناسور کے ختم کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہیں۔ یہ امر باعث اطمنیان ہے کہ عسکری قیادت کو دیکھتے ہوئے اب سیاسی زعماءبھی کسی نہ کسی حد تک اپنا فرض نبھانے کے لیے میدان عمل میں نکل آئے ہیں۔ آنے والے ماہ وسال میں دہشت گردی کے خلاف اس نظریاتی محاذ پر بھی پیش رفت ہونے کا امکان ہے جہاں تاحال خاطر توجہ نہیں دی جا سکی۔

Scroll To Top