وہ پاکستان ضرور آئے گا ! 25-09-2008

میری آج کی بات ایک لفظ کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ لفظ ہے ” انتظار“
ہماری تاریخ میں اس ایک لفظ نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ کئی مقام اور مواقع ایسے آئے جب ہم نے خود کو من حیث القوم ” انتظار کی کیفیت“ میں پایا۔
میںیہاں چند مثالیں دوں گا۔
پہلی صلیبی جنگ کے نتیجے میں جب صلیبی لشکر نے بیت المقدس پر قبضہ کیا 1098)ئ(اور شہر کی پوری آبادی کو تہ تیغ کیا تو ہمارا ” انتظار “ شروع ہوا۔ اس بطل جلیل کے لئے جو قبلہ اول کو صلیبی قبضے سے آزاد کرائے گا۔ یہ انتظار 93برس تک ہوتا رہا تا آں کہ صلاح الدین ایوبی ؒ نے تیسری صلیبی جنگ میں صلیبی لشکر کو فیصلہ کن شکست دے کر بیت المقدس کو آزاد نہیں کرالیا۔
ایسا ہی ایک اور انتظار چند دہائیاں بعد اس وقت شروع ہوا جب چنگیزی لشکر نے ہلاکو خان کی قیادت میں بغداد کو تاخت وتاراج کیا۔ یہ انتظار اس بطل جلیل کے لئے تھا جو چنگیزی طوفان کی ہلاکت خیزیوں اور تباہ کاریوں سے مشرق و سطیٰ کو نجات دلائے گا۔ اور یہ انتظار زیادہ طویل ثابت نہ ہوا۔ دو ہی دہائیاں بعد اسلام کے ایک اور رجل عظیم سلطان رکن الدین بیبرس نے این جالوت (مصر)کے میدان میں ہلاکو خان کے ” لشکر قہار“ کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ منگول طاقت کا ظہور ایک داستان پارینہ بن کر رہ گیا۔
یہ تمام باتیں میں علامتی طور پر لکھ رہا ہوں۔ انتظار کی اس کیفیت پر روشنی ڈالنے کے لئے جس میں ہم آج مبتلا ہیں۔
کتنا ہی اچھا ہوتا کہ 18فروری 2008ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں ایک ایسا پاکستان معرض وجود میں آچکا ہوتا جس کا چیف ایگزیکٹو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے مخاطب ہو کر کہتا:۔
” اقوام عالم کا یہ ادارہ دنیا کے مسائل اور جھگڑے انصاف کی بنیاد پر نمٹانے کے لئے قائم ہوا تھا۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جنگل کے قانون نے آج بھی انصاف کو دیوار کے ساتھ لگا رکھا ہے۔!اہل فلسطین کو آج بھی انصاف کا انتظار ہے۔ اہل کشمیر آج بھی انصاف کے انتظار میں ہیں۔ جس روز اہل فلسطین اور اہل کشمیر کو انصاف مل گیا دہشت گرد بھی ختم ہوجائیں گے اور دہشتگردی کے خلاف خون آشام جنگ کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی۔“
ہنوز وہ پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا۔ مگر میں یہ کیوں نہ کہوں کہ ہماری رگ رگ کو نس نس کو ریشہ ریشہ کو اور بوند بوند کو ایسے پاکستان کا انتظار ہے؟

Scroll To Top