میاں صاحب نے بانکی مون کو رُلا رُلا دیا !

ملیحہ لودھی کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔
موصوفہ کی خدمات سے میر شکیل الرحمان سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک اور محترمہ سے لے کر میاں نوازشریف تک سب بھرپور استفادہ کرچکے ہیں۔ میں ” فیضیاب “ کا لفظ اس لئے استعمال نہیں کروں گا کہ میرے خیال میں ” فیض“ کسی کو نہیں ملا۔
آج کل محترمہ میاں نوازشریف کے ” پے رول “ پر ہیں۔ اسی لئے انہوں نے دنیا بھر کو اعتماد میں لے کر بتایا ہے کہ میاں نوازشریف نے اہلِ کشمیر پر ڈھائے جانے والے دلدوز مظالم کی داستان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو ایسے رقتّ آمیز انداز میں سنائی کہ موصوف رو پڑے۔
میں نہیں جانتا کہ اس انکشاف کی خبر دیتے ہوئے اخبار نے یہ سرخی کیوں نہیں لگائی۔۔۔ ” میاں صاحب نے بانکی مون کو رُ لا رُلا دیا۔۔۔۔؟“ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ ملیحہ لودھی کو شاباش زبردست ملی ہوگی۔
کاش کہ وہ یہ بھی سوچتیں کہ میاں صاحب بانکی مون کو رُلا نے کے لئے نیویارک نہیں گئے تھے۔ اور وہ دنیا پر یہ انکشاف کرنے بھی نہیں گئے تھے کہ بھارت نے اہل کشمیر پر ظل وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں۔ دنیا کے لئے یہ کوئی انکشاف نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت کشمیر میں کیا کررہا ہے۔
میاں نوازشریف کے دورے کا مقصد یہ تھا یا یہ ہونا چاہئے تھا کہ دنیا کو بتاتے کہ اگر کشمیر میں وحشت و بربریت کا کھیل جاری رہا تو برصغیر کا امن قائم نہیں رہ سکے گا۔وہ وہاں جاکر دنیا کے سامنے بھارت سے مطالبہ کرتے کہ اہل کشمیر پر سنگینوں کے پہرے ذرا کم کرے اور وہاں سے اپنی فوجوں کا ایک بڑا حصہ واپس بلا کر اس بات کا ثبوت پیش کرے کہ کشمیر ایک مقبوضہ علاقہ نہیں۔
میاں صاحب وہاں دنیا کو اُس شرمناک کھیل کے بارے میں بھی اعتماد میں لیتے جو بھارت بلوچستان ہی نہیں پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی کھیل رہا ہے۔ اس کھیل کے چند کرداروں کا نام لینے میں یہاں کوئی ہرج نہیں۔ محمود خان اچکزئی ` اسفند یار ولی خان اور کلبھوشن یادیو۔
اقوام متحدہ میں میاں صاحب نے جو تقریر کی اس میں کم ازکم ایک بار کلبھوشن یادیو کا ذکر ضرور آنا چاہئے تھا۔
پھر علامہ طاہر القادری کا یہ الزام بھی غلط ثابت ہوجاتا کہ کلبھوشن یادیو کا ” کُھرا“ شریف فیملی کی رمضان شو گرملز سے پکڑا گیا تھا جہاں بھارت سے سینکڑوں کی تعداد میں ٹیکنیشن آتے جاتے رہے ہیں۔ ہر ٹیکنیشن ” را “ کا ایجنٹ نہیں ہوگا۔مگر شریف فیملی کے پاس ایسا کون سا فارمولا ہے جس سے یہ پتہ لگایا جاسکے کہ کون ” را“ کا ایجنٹ ہے۔ اور کون نہیں۔۔۔
اُن کی نظروں میں تو ” پاکستان مردہ باد“ کا نعرہ لگانے والے کے چیلے بھی قابل قبول ہیں۔۔۔
ملیحہ لودھی صاحبہ ۔۔۔۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کو میلوڈرامہ کا سپیشلسٹ ادارہ نہ بنائیں !

Scroll To Top