فضائی مشقیں معمول کی کارروائی لیکن دفاع کے لیے تیار

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کی مشقیں معمول کی کارروائی ہیں تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم ملکی دفاع اور سالمیت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اڑی سیکٹر میں بھارتی برگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد کسی بھی ثبوت کے بغیر بھارتی قیادت کی طرف سے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی گئی۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ نہیں آرہا کہ کسی بھی واقعے کے بعد پاکستان پر الزام تراشی بھارت کی پالیسی ہے یا بھارتی قیادت کی عادت ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی ایئرفورس کے طیاروں کی مشقوں کےلیےگزشتہ دو روز سے موٹر وے کو مختلف مقامات سے بند کردیاگیا ہے جہاں پر لڑاکا طیارے اترنے کے علاوہ وہاں سے اڑان بھی بھرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے اڑی سیکٹر میں حملے کے بعد بھارتی میڈیا جنگ کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں ملک کے دفاع میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا جبکہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں امن وامان کی صورت حال خراب کرنے اور شدت پسندی کو ہوا دینے کے متعدد ثبوت موجود ہیں۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پٹھان کوٹ اور ممبئی حملوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات میں بھارت کے ساتھ تعاون کیا ہے جبکہ بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس سمیت دیگر کئی واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات لگائے لیکن جب ان واقعات کی تحقیقات کی گئیں تو خود بھارتی باشندے اور بھارتی فوج کے اہلکار بھی ان واقعات میں ملوث نکلے۔

بلوچ قوم پرست رہنما براہمداغ بگٹی کو بھارت میں سیاسی پناہ لینے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کا اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان میں شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

بھارت کے زیرِِ انتظام کمشیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پوری دنیا نے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ اور دوسری انسانی حقوق کی تنظیموں کو سری نگر اور دیگر علاقوں میں شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حقائق جاننے کے لیے مشن بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اسلامی ملکوں کی تنظیم نے بھی نہتے کشمریوں پر بھارتی افواج کے مظالم پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Scroll To Top