آرمی چیف کی سات شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق

جن مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اُن میں محمد قاسم طوری، عابد علی، محمد دانش، سید جہانگیر حیدر، ذیشان، متعبر خان اور رحمان الدین شامل ہیں

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے سات شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ ان شدت پسندوں کو پولیس، مسلح افواج اور عام شہریوں پر دہشتگرد حملے کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مجرموں کو ملک بھر میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ یہ سزا پانے والے افراد فرقہ واریت پھیلانے اور ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں اور انھیں ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔

جن مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اُن میں محمد قاسم طوری، عابد علی، محمد دانش، سید جہانگیر حیدر، ذیشان، معتبر خان اور رحمان الدین شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کہنا ہے کہ محمد قاسم طوری، عابد علی اور محمد دانش کالعدم تنظیموں کے سرگرم کارکن تھے اور انھوں نے قانون نفاذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کیے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف حملے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے جرم میں ان مجرمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

سید جہانگیر حیدر اور ذیشان ولد مرید عباس کو فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔

معتبر خان اور رحمان الدین کا تعلق کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے اور یہ افراد امن کمیٹی کے ممبران کے قتل سمیت مسلح افواج کے خلاف حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان مجرمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا ہے اس کے علاوہ عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کے دوران مجرموں نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔

Scroll To Top