ذیابیطس ٹائپ کے 7 انتباہی اشارے

بیشتر افراد اس وقت حیران رہ جاتے ہیں جب ڈاکٹر ان کے اندر ذیابیطس کی تشخیص کرتے ہیں— کریٹیو کامنز فوٹو

بیشتر افراد اس وقت حیران رہ جاتے ہیں جب ڈاکٹر ان کے اندر ذیابیطس کی تشخیص کرتے ہیں حالانکہ وہ وہاں معمول کا چیک اپ یا کسی اور مسئلے کی وجہ سے گئے ہوتے ہیں۔

جیسے کمر میں درد یا تھکاوٹ وغیرہ، مگر ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ خون میں بلڈ شوگر کی سطح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

تاہم اگر آپ اپنے جسم پر توجہ دیں تو آپ کو یہ حیرت نہیں ہوگی۔

ذیابیطس کا مرض جب کسی کو شکار کرتا ہے تو وہ مختلف طریقوں سے اس کا اعلان بھی کرتا ہے جو کہ واضح ہوتا ہے۔

پیاس محسوس ہونا

آپ کا منہ زیادہ تر خشک رہنے لگتا ہے اور دل کرتا ہے کہ ہر وقت پانی پیتے رہیں، مگر پیاس کا یہ احساس منہ میں نہیں دماغ میں ہوتا ہے چاہے منہ خشک ہی کیوں نہ ہورہا ہو۔ درحقیقت دماغی خلیات کو گلوکوز کی مستحکم سپلائی چاہئے ہوتی ہے، مگر جب بلڈ شوگر بڑھتا ہے تو دماغ میں اس کی کمی ہوتی ہے اور وہ کسی بھی ذریعے سے سیال چیز کو اپنے پاس منگواتا ہے، دیگر خلیات سے حاصل کیے جانے والا یہ سیال پیاس کا باعث بنتا ہے۔

پیشاب زیادہ آنا

یہ تو کوئی حیران کن امر نہیں کہ جب آپ پانی زیادہ استعمال کریں گے تو آپ کو پیشاب بھی بہت زیادہ آئے گا، مگر آپ کو عام معمول سے زیادہ واش روم کے چکر لگانا پڑتے ہیں کیونکہ خون میں شوگر بہت زیادہ ہوجاتی ہے اور گردوں کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ اسے پیشاب کے راستے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بعد آپ کو پیاس لگتی ہے اور پانی پیتے ہیں تو یہ چکر پھر شروع ہوجاتا ہے۔ ایسا کرنے سے پروٹین کی مقدار بھی خارج ہونے لگتی ہے جو کہ گردوں کے فلٹر کرنے کے عمل کو متاثر کتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ انہیں نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

کمزوری اور تھکاوٹ

متعدد افراد تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور انہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ بلڈ شوگر کے مسئلے کی وجہ سے ہے، درحقیقت جب غذا میں موجود گلوکوز خلیات تک نہیں پہنچتی تو جسم کو توانائی کا احساس بھی نہیں ہوتا اور ہر وقت تھکاوٹ کا احساس طاری رہتا ہے۔ اور ہاں ہر وقت بھوک کا احساس بھی ہوتا ہے چاہے کھانا کھائے بہت کم وقت ہی کیوں نہ وہا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ خوراک سے گلوکوز تو خلیات کو ملتی نہیں لہذا جسم مزید خوراک کی مانگ کرنے لگتا ہے۔

ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا اور سوئیاں چبھنا

یہ علامت اعصاب کو نقصان پنچانے والی ہوتی ہے اور ذیابیطس کے شکار افراد میں یہ کئی ماہ یا کئی برسوں بعد سامنے آتی ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دوران خون میں گلوکوز بہت زیادہ ہوجاتی ہے جو کہ اعصاب کے لیے تیزاب کی طرح کام کرتی ہے، یہ اعصاب کے آخری حصوں جیسے ہاتھوں، ٹانگوں اور پیروں کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں درد، سن یا بے حس ہونا، سوئیاں چبھنا، خارش اور دیگر احساسات کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ اس علامت کا سامنا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

نظر دھندلانا

اگر بلڈ گلوکوز کی سطح بلند رہے تو یہ آنکھوں کو بھی متاثر کتی ہے، جس سے آپ کی چیزوں پر نظر مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ مضر مالیکیولز بینائی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

جلدی مسائل

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار کئی افراد کے جسموں پر گہرے دھبے سے بن جاتے ہیں جو کہ عام طور پر بغلوں، گردن، انگلیوں کے جوڑوں وغیرہ پر نظر آتے ہیں، ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ مٹی سے بنے ہیں مگر دھلنے سے بھی صاف نہیں ہوتے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم اضافی بلڈ گلوکوز سے نمٹنے کے لیے انسولین کی بہت زیادہ مقدار بنانے لگتا ہے۔

وزن میں بغیر کوشش کے کمی

ذیابیطس کے شکار افراد کا جسمانی وزن کم ہو تو بہتر ہوتا ہے مگر جب یہ کمی بغیر کسی کوشش کے اچانک ہونے لگے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خلیات انسولین کو نظر انداز کررہے ہیں جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کو موثر انداز سے کنٹرول نہیں کیا جارہا، ایسا ہونے پر ہر وقت شدید بھوک کا احساس جنم لیتا ہے، مگر اس کے باوجود وزن میں بغیر کوشش کے کمی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مسلز کا حجم کم ہونے لگتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جسم توانائی یا ایندھن (گلوکوز) کو تلاش کررہا ہوتا ہے اور اس کوشش میں وہ مسلز کے خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسا عام طور پر ذیابیطس ٹائپ ون کے شکار افراد میں ہوتا ہے اور ٹائپ ٹو میں یہ علامت کئی برسوں بعد سامنے آتی ہے کیونکہ اس کے بیشتر مریضوں کا جسمانی وزن زیادہ وہتا ہے اور اس میں کمی محسوس نہیں ہوتی۔

Scroll To Top