کشمیر: فوجی نقل و حرکت تیز، بوفرز ایل او سی پر نصب

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی جگہوں پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار اگلے مورچوں پر پہنچانا شروع کر دیے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان کے دفترِ خارجہ نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

سرینگر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے زیادہ وقت ملٹری آپریشن روم میں گزارا جہاں وہ لائن آف کنٹرول پر فوج کی نقل و حرکت کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیتے رہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں فوجی کیمپ پر ہونے والے شدت پسند حملے کے بعد انڈین فوج کی نقل و حرکت میں اضافے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور دوسری طرف پاکستان کی فضائیہ نے ملک کے شمالی حصے کی فضائی حدود اور موٹر ویزے کو بند کر کے جنگی مشقیں مکمل کر لی ہیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں فضائیہ کی جانب فضائی حدود اور موٹر ویز پر جنگی مشقوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا۔

البتہ دفتر خارجہ کے ترجمان نے انڈیا کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ پاکستان کی فوج ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

انڈیا کے اعلیٰ دفاعی اہلکاروں نے بی بی سی سے بات چیت میں لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی طرف سے بھاری اور درمیانے توپ خانوں کی نقل و حرکت کی تصدیق کی۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ بوفرز توپوں اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو اُوڑی کے چڑی میدان، موہرا اور بونیار میں نصب کیا جا رہا ہے۔ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیاروں کی تنصیب ہو رہی ہے۔ ان مقامات سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر مِیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

تاہم بھارتی فوج کے مطابق یہ موسم سرما شروع ہونے اور برف پڑنے سے پہلے اس کی معمول کی سالانہ تیاریوں کا حصہ ہے لیکن اس بار کی تیاری میں کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول لائن پر بوفرز توپوں، اور دیگر طرح کا جنگی ساز و سامان سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

پاکستان فوج بھی پوری طرح چوکس ہے

فوج کے اعلی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ خفيہ بیورو سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر فوج یہ تیاری کر رہی ہے۔

گذشتہ روز سرینگر کے ہوائی اڈے پر مگ 21 ساخت کا ایک جنگی طیارہ حادثہ کا شکار ہوگیا تھا، تاہم پائلٹ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا مگ طیارے کی پرواز کسی جنگی تیاری کا حصہ تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ’ہماری تنصیبات اور پاکستانی اہداف کے تازہ سروے کے بعد اسلحہ اور جنگی سازوسامان کی نقل و حرکت ہو رہی ہے۔‘

فوج کو اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند سرحد پار سے دراندازی کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ادھر ایک سرکاری اہلکار نے کہا ہے کہ سرحد پر کسی بھی جنگی صورت حال سے نمٹنے کے لیے انڈین فوج یہ تیاری کر رہی ہے۔

تاہم فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ وہ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ اوڑی پر شدت پسند حملے کے پیش نظر مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے تیاری میں تیزی آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کی رات دیر گئے شمالی کشمیر کے مختلف حصوں میں اگلے مورچوں پر تعینات مسلح افواج کے دستوں کو متحرک اور ضروری جنگی مواد پہنچانا شروع کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار سنجے مجمودار کے مطابق انڈین فوج نے کشمیر کے متنازع علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

انڈین فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ کنٹرول لائن کے ساتھ ہی کشمیر میں بھارت اور پاکستان کی حقیقی سرحد پر دو جگہوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔

اتوار کو اوڑی سیکٹر میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر شدت پسندوں کے مسلح حملے میں 18 انڈین فوجی اور چار شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

اُڑی حملے کے بعد انڈیا میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے شدید مطالبوں کے پس منظر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب جنگی طرز کی فوجی نقل و حرکت سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔

Scroll To Top