’نواز شریف سےاختلافات لیکن کشمیر پر یکساں موقف‘

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کو ملک میں مختلف حلقوں کی جانب سے جامع اور مکمل قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ اب دنیا مسئلہ کشمیر کی جانب توجہ دے گی۔

وزیراعظم کے خطاب کا مرکز مسئلہ کشمیر تھا جس میں انھوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ذریعے کروائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے خطاب اور کشمیر کے حوالے سے خاصی گرما گرمی رہی البتہ پاکستان میں حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہان بلاول بھٹو زرداری اور عمران خان کی جانب سے ٹوئٹر پر اس حوالے سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ باہمی اختلافات کے باوجود کشمیر کے معاملے پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف یکساں ہے۔

حالیہ ماہ میں کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور انڈیا میں تلخی میں اضافہ ہوا ہے

سابق سفیر عزیز احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے خطاب کے حوالے سے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی جانب دنیا کی توجہ مبذول تو ہوئی ہے لیکن نواز شریف کے اس بیان کے بعد دنیا کشمیر کے مسئلے پر مزید توجہ دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے عالمی فورم پر کشمیر کے مسئلے کو ایک اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایک پرامن احتجاج کو انڈیا دہشت گردی کہتا ہے اور دنیا اسے تسلیم کرتی ہے تو یہ ایک انتہائی افسوس ناک بات ہے۔‘

پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد انڈیا کی جانب سے اس کا سخت ردعمل آیا ہے، تاہم عزیز احمد خان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی جانب سے اس قسم کے ردعمل کی پہلے ہی سے امید تھی۔‘

سابق سفیر اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے ماہر اشرف جہانگیر قاضی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر دونوں جوہری ممالک کے مابین تنازع ہے جس کے بارے میں وزیراعظم پاکستان نے عالمی برادری کو متنبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں ’صحیح معنوں میں‘ کشمیر کے مسئلے اور انڈیا کی جانب سے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔

اشرف جہانگیر قاضی کے مطابق کشمیر میں انڈیا کی جانب سے مظالم اور موجودہ صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے رویہ بھی غیرذمہ دارانہ ہے۔ امریکی صدر براک اوباما نے اپنے خطاب میں ’کشمیر کا نام تک نہیں لیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے اور وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کشمیریوں کا نکتہ نظر بین الاقوامی سطح پر پیش کیا ہے جو کہ پورے پاکستان کا بھی مؤقف ہے۔


’واز شریف کے ساتھ کئی اختلافات ہیں لیکن کشمیر کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک ہی ہے‘

سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر جامع تھی اور انھوں نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے۔

کشمیر کی حالیہ صورتحال کے بارے میں شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اب صورتحال انڈیا کی ناکام پالیسی کی بنیاد پر تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

’جس طرح سے انڈیا نے کشمیر میں تشدد کیا، افواج کا ظالمانہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اس کی وجہ سے اب وہاں کی نوجوان نسل اپنے سیاسی حقوق اور مقابلے کے لیے بیداری کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بعض عناصر نے درمیان میں اس موقف سے ہٹ کر بھی اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کشمیریوں کی رضامندی شامل نہ تھی۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ محمد نواز شریف کے ساتھ کئی اختلافات ہیں لیکن کشمیر کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ایک ہی ہے اور ان میں کوئی دو آرا نہیں ہیں۔

Scroll To Top