تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض تشویشناک

قومی سلامتی کے منافی خبر بارے حکومت نے جس انداز میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اس پر اپوزیشن نے ابھی سے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق نے کھلے الفاظ میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس ریٹائر عامر رضا کی صاحبزادی کے بارے میں اتفاق گروپ سے وابستگی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ پی ٹی آئی نے یہ مطالبہ بھی کر ڈالا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی وزیراعظم کی بجائے چیف جسٹس آف پاکستان کو پیش کی جائے“۔
دوسری باخبر زرائع یہ دعوے بھی کر رہے کہ معاملے کی غیر جانبداری سے تحقیق کے خواہشمند حلقوں کے لیے بھی مذکورہ پیش رفت حوصلہ افزاءنہیں ۔ ایک قومی اخبار کے مطابق آنے والے دو دنوں میں اہم قومی اداروں کی جانب باضابطہ ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔
حیران کن ہے کہ ایسا معاملہ جس سے پاکستان کی علاقائی اور عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی غیر سنجیدہ انداز میں لیا جارہا ۔ اس سوال کا جواب بہرکیف دیا جانا چاہے کہ ایسے کسی بھی شخص کو کیونکر تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیاگیا جس پر اپوزیشن نے ابھی سے اعتراض کرنا شروع کردیا۔ حکمران جماعت کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی بحران کا حل اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسے افہام وتفہیم سے حل کرلیا جائے۔ افسوس تاحال یہ توقع کسی طور پر پوری نہ ہوسکی کہ ارباب اختیار مسائل بڑھانے کی بجائے انھیں کم کرنے کی پالیسی پر کاربند رہیں۔
پاکستان کے کسی بھی ہوشمند شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر قومی اداروں میں کسی قسم کے اختلاف کی حمایت کرے۔ بلاشبہ اہم قومی ایشوز کو حل کرنے کے طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتا ہے مگر کسی اہم سرکاری شخصیت کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ۔ملک وملت کا وقار اسی صورت قائم رہیگا جب انفرادی مفادات اور گروہی تقاضوں کو ملک وملت پر قربان کردیا جائے۔ بدلے ہوئے حالات میں یہ ممکن نہیں رہا کہ کوئی بھی کسی کو تادیر دھوکے میں رکھنے میں کامیاب رہے چنانچہ ارباب اقتدار کے لیے بھی یہ سچائی جلد ازجلد تسلیم کرنے میں ہی عافیت ہے۔
کالعدم تنظیموں بارے امریکہ اور بھارت کے موقف میں زیادہ فرق نہیں۔ انکل سام آئے روز پاکستان پر سرعام یہ الزام عائد کرنے میں پس وپیش سے کام نہیں لیتا کہ ہمارے ہاں ایسے شدت پسند موجود ہیں جو امریکہ ، بھارت اور افغانستان کے لیے یکساں خطرناک ہیں۔ حقانی نیٹ ورک ، جیش محمد اور حافظ محمد سعید کی جماعت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت اپنی سفارتی مہم کو اس انداز میں پروان چڑھاتی کہ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جاتا جو یقینا دنیا کے کسی بھی ملک سے کئی گنا زیادہ ہیں۔کم وبیش ساٹھ ہزار سے زائد نہتے پاکستانیوں اور سیکورٹی افسران واہلکار کی شہادت صرف ہمارے حصہ میں ہی آئی ۔ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جس کی تلافی کی کوئی صورت تاحال ہوتی نظر نہیں آتی۔ مگر ناقدین کے بعقول حکومت کے بعض عناصر نے بین الاقوامی سطح پر اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی بجائے بالواسطہ یا بالاواسطہ طور پر یہ تاثر دینا شروع کردیا کہ بعض قوتیں اسے مطلوب گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے سے باز رکھے ہوئے ہیں۔
شک شبہ نہیں کہ حکمران جماعت کو ان تمام گروہوں بارے ازسر نو سوچ وبچار کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا بھر میں پاکستانیوں کو رسوا کرنے کے درپے ہیں مگر اس کے لئے ریاستی اداروں میں مشاورت کو فروغ دینا ہوگا۔ ایسا کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ چند افراد یا تنظیموں کی خاطر پاکستان کے 22 کروڈ شہریوں کا مستقبل خطرات سے دوچار کردیا جائے۔بلاشبہ ملک اہم ہوتا ہے افراد نہیں۔وقت آگیا ہے کہ ہر معاملے میں سازش تلاش کرنے کی بجائے ان اندرونی خامیوں کو دور کیا جائے جو عالمی برادری میں پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ مگر اس کام کے لیے ایک طرف اخلاص اور بصیرت درکار ہے تو ساتھ اتفاق اور اتحاد کی اہمیت کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ رائے کی مسملہ ہے کہ قومی سلامتی بارے خبر کا جلد ازجلد نمٹا دیا جائے۔مذکورہ تنازعہ کو مختلف حیلے بہانوں سے لٹکانا شائد کسی کے لیے بھی فائدے مند نہ ہو۔ اگر تحقیقاتی کمیٹی پر کسی سیاسی جماعت یا قومی ادارے کو تحفظات ہیں تو حکومت کو ممکن حد تک ان اعتراضات کو دور کرنا ہوگا۔ ایسا نہیںہونا چاہئے کہ ایک مسلہ کوحل کرتے کرتے اور مسائل پیدا کرلئے جائیں۔ پانامہ لیکس کے نتیجے میں قومی سیاست میں پائی جانے والی ہلچل کسی سے مخفی نہیں چنانچہ کسی اور محاذ کا گرم ہونا ملک وملت کے علاوہ خود حکومت کے لیے نیک شگون نہیںہوگا۔
بطور قوم ہمیں اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ یہاں کسی اہم معاملے کو درکار اہمیت نہیں دی جاتی۔ یعنی ہر اہل اقتدار کی پالیسی یہ ہے کہ ایک تنازعہ کے بعد دوسرے مسلہ کے ابھرنے کا انتظار کیا جائے تاکہ پہلے کی اہمیت کو کم کیا جاسکے۔ افسوس کہ تاحال یہ کہنا مشکل ہے کہ اعلی ترین سطح پر کب اور کیسے انواع واقسام کے ہتکھنڈوں سے تائب ہوکر صحت مندانہ رجحانات اختیار کرنے کا کلچر فروغ پائے گا۔۔ ریاستی امور میں بڑی زمہ داری حکومت کی ہوتی ہے جو ہر معاملہ کوکم وقت میںاس کی اہمیت کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائے۔

Scroll To Top