رائیونڈ مارچ: لاہور ہائیکورٹ میں تین رکنی بینچ تشکیل

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رائیونڈ مارچ کو روکنے کے لیے دائر درخواست پر تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر کے مطابق ہائیکورٹ میں دائر رٹ میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ کسی سیاسی مخالف کے گھر کے سامنے احتجاجی ریلی آئین و قانون کے خلاف ہے اور اس سے اشتعال انگیزی اورتصادم کا خدشہ ہے۔

تحریک انصاف کے رائیونڈ مارچ کے خلاف درخواست ایک شہری عاطف ستار نے ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر کی توسط سے دائر کی تھی۔ 17 ستمبر کو درخواست کی پہلی سماعت میں جسٹس شاہد کریم نے کیس چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس شاہد کریم کی سفارش پر جمعرات کے روز جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا جس میں جسٹس محمد انوارالحق اور جسٹس محمد قاسم خان شامل ہیں۔

جسٹس محمد قاسم کے بیرون ملک دورے سے واپسی پر درخواست کی سماعت کی تاریخ طے کی جائے گی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون ہر شہری کو تحفظ فراہم کرتا ہے جس کے تحت کسی کی چادر و چار دیواری کی پامالی کی اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن رائے ونڈ میں وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی رہائش گاہ کے سامنے تحریک انصاف کے مارچ اور ممکنہ دھرنا سے آئین و قانون کی پامالی کے ساتھ تصادم اور اشتعال انگیزی کا بھی خدشہ ہے۔


رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ رائے ونڈ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں

ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر کے مطابق درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت قومی مفاد کے پیش نظر عمران خان کے ممکنہ دھرنے کو روکنے کا حکم صادر کرے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف نے پاناما پیپرز میں وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کے افراد کے نام آنے کے بعد سے ان کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کر رکھی ہے اور اس سلسلے میں ان کی جماعت نے 30 ستمبر کو رائے ونڈ میں جلسہٓ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پر رائے ونڈ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے مسلم لیگ ن کے کارکن کسی قسم کی اشتعال انگیزی پر ردعمل ظاہر نہ کریں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائدین بھی جلسوں میں جمہوری، سیاسی و مشرقی اقدار کو پیش نظر رکھیں اور عمران خان بھی سیاسی بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے دوسروں کے بارے میں توہین آمیز لب و لہجہ اختیار نہ کریں۔

Scroll To Top