’ کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائیں‘

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ذریعے کروائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بات انھوں نے بدھ کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔

وزیراعظم محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ امن چاہتا ہے اور بات چیت دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے تاہم کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائے اور اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشمیر بھجوایا جائے تاکہ وہ انڈیا کے بہیمانہ تشدد کی تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی قیدیوں کی رہائی، کرفیو کے خاتمے اور زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے ناقابلِ قبول پیشگی شرائط باہمی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ’جموں کشمیر میں نوجوان نسل انڈیا کے غیر قانونی قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔‘

اپنے خطاب میں انھوں نے انڈیا کو تمام متنازع مسائل پر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نیوکلئیر سپلائر گروپ کی رکنیت کی اہلیت رکھتا ہے اور ایٹمی تجربات روکنے کے معاہدے پر بات چیت کے لیے بھی تیار ہے۔

نواز شریف نے انڈیا پر الزام عائد کیا کہ انڈیا ہتھیار جمع کر رہا ہے اور پاکستان کو اس پر تشویش ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا۔

’شرط صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے‘

ادھر انڈین دفترِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے پاکستانی وزیراعظم کے خطاب پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’اقوام متحدہ کے سب سے بڑے فورم پر پاکستانی وزیراعظم نےحزب کے دہشت گرد برہان وانی کی ستائش کی ہے۔ یہ پاکستان کے دہشت گردوں کے ساتھ مسلسل جڑے رہنے کو ظاہر کرتا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے انڈیا کی شرط صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

انھوں نے اوڑی میں ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے اس سے بالکل لاتعلقی ظاہر کی ہے جبکہ سرحد سے رواں برس 19 بار دراندازی کی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے خطے کی موجودہ صوتحال کے پیشِ نظر جمعرات کو بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا۔

بعدازاں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نے انھیں انڈین فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکتوں کے ثبوت دیے۔

وزیراعظم ہاؤس کے مطابق انھوں نے سیکریٹری جنرل کو ظلم وستم کا شکار بننے والے کشمیریوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اوڑی سیکٹر میں کنٹرول لائن کے قریب انڈین فوج کے ایک اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

افغان مسئلے کا حل بات چیت

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے مربوط پالیسی بنائی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

’پاکستان کا ضربِ عضب آپریشن دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کی کامیاب ترین مہم ہے‘

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں 15 سالہ خانہ جنگی کے بعد بین الاقوامی برادری نے تسلیم کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

افغان صدر کی درخواست پر پاکستان نے مفاہمتی عمل میں کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامید ہے کہ افغان پناہ گزین اپنی مرضی اور باعزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔

Scroll To Top