امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں نسلی فسادات کے بعد ایمرجنسی نافذ

شمالی کیرولائنا: امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے تجارتی و کاروباری شہر شارلٹ میں نسلی فسادات کے شدت اختیار کرجانے کے بعد ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔

شمالی کیرولائنا میں حالیہ نسلی فسادات اس وقت شروع ہوئے جب گزشتہ ہفتے لیمنٹ اسکاٹ نامی ایک سیاہ فام شخص پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے چند روز بعد ہی اوکلاہوما کے شہر میں ٹلسا پولیس نے ایک اور سیاہ فام شخص ٹیرنس کرچر کو قتل کردیا جس کے بعد شمالی کیرولائنا اور اوکلاہوما کے علاقوں میں احتجاج شروع ہوگیا اور کشیدگی بڑھ گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے نسلی فسادات میں بدل گئی۔

دونوں جگہ حالات قابو سے باہر ہوجانے پر شمالی کیرولائنا کے گورنر نے وہاں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔ سیاہ فام امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد غیرمسلح تھے جنہیں پولیس نے بے گناہ قتل کیا، اور اگر وہ مسلح تھے یا پولیس کے لیے کسی خطرے کا باعث تھے تو اس موقعے کی ویڈیو جاری کی جائے جو پولیس نے بنائی تھی۔ لیکن شمالی کیرولائنا کا محکمہ پولیس اب تک وہ ویڈیو جاری کرنے سے انکاری ہے۔

برطانوی اخبار گارجیئن کے مطابق امریکی پولیس اس سال کے دوران 194 سیاہ فام افراد کو ہلاک کرچکی ہے جب کہ گزشتہ سال امریکی پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیاہ فام شہریوں کی تعداد 306 تھی۔

Scroll To Top