”ترجیح وزیراعظم کے خلاف الزامات ہیں “

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے اہم مقدمہ کی تازہ سماعت کے دوران فریقین کو 15نومبر تک دستاویزی ثبوت جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال ترجیح وزیراعظم کے خلاف الزامات کو ہی دیکھنا ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جائیدار اور رقوم کی منتقلی کا جائزہ لے کر ہی اس کا فیصلہ کریگی کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے کہ نہیں۔ پیر کے روز چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا تو وزیراعظم نوازشریف کے بچوں کی جانب سے جوابات داخل کیے گے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے عدالت عظمی کی جانب سے پانامہ لیکس کا جلد فیصلہ دینے کا عزم سامنے آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلاءسے مشاورت کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسا کچھ نہیں کرینگے جس سے عدالتی کاروائی متاثر ہو۔“
وطن عزیز میں قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے ہر اس شخص کے لیے باعث مسرت ہے کہ عدالت عظمی ایسے مالی سکینڈل کی تحقیقات کرنے کے لیے آگے بڑھی ہے جس میں عام پاکستانی نہیں بلکہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کا نام سامنے آیا ۔ ملک کا ہر باشعور شہری باخوبی آگاہ ہے کہ یہاں سیاست اب اس انداز میں تجارت بن چکی کہ اس میں کسی طور پر خسارے کا امکان نہیں ۔ ریکارڈ پر ہے کہ قومی منظر نامہ پر موجود بعض سیاسی خاندانوں نے تو چند دہائیوں میں ایسی معاشی ترقی کہ واقعتا حیران کن ہے۔ مقام افسوس ہے کہ ارباب اقتدار کی صلاحتیں ذاتی اور خاندانی کاروبار میں تو نکھر کر سامنے آتی ہیں مگر ملکی معشیت مسلسل انحاط پذیر ہے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں مگر اس حقیقت کو سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں سرکاری حثیثت کا اس انداز میں استمال کیا جارہا جو آئینی ، قانونی اور اخلاقی طور پر کسی صورت مناسب نہیں ۔
اس پر تشویش بجا کہ بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے نظام عدل بھی اس انداز میں اپنی افادیت ثابت نہیں کرسکا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کرپٹ مافیا ہر گزرتے دن کے ساتھ طاقت ور اور جواب دہی سے بالاتر ہوتا چلا گیا۔ احتساب کے قوانین کو کمزور کرتے ہوئے ان کو اس حد تک بے اثر کردیا گیا کہ کسی بڑی مچھلی کے خلاف کاروائی کرنا اب عملا ممکن نہیں رہا۔ یہ کھیل کئی دہائیوں سے کھیلا جارہا مگر اب عوامی سطح پر اس کی مخالفت میں بظاہر اب شدت پیدا ہوئی ۔ عمران خان کو بہرکیف اس کا کریڈٹ جاتا ہے کہ سیاست میں پیسہ کمانے کے رججان کو انھوں نے پوری قوت سے نشانہ بنایا۔ جلسے جلوسوں ، پریس کانفرنس اور ٹی وی ٹاک شوز کے زریعہ مثیاق جمہوریت کو مک مکا نہ صرف قرار دیا گیا بلکہ مثالوں کے زریعہ بھی اس کی وضاحت کی گی۔مثلا پاکستان پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں رینٹل پاور پراجیکٹ، جج کرپشن سمیت لاتعداد سکینڈل سامنے آئے مگر مسلم لیگ ن نے کسی بھی مقدمہ دلجمی کا مظاہرہ نہ کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف نیب وہ مقدمات بھی مرحلہ وار ختم کردیے گے جن میں قومی احتساب بیورو نے عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے کروڈوں روپے خرچ کیے۔ آج قومی سیاست پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کو تیار نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں بارے بھی یہی حکمت عملی روا رکھی جارہی ہے۔
بدقسمتی سے سیاسی اشرافیہ اس تاثر کو ختم کرنے میں کسی طور پر سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی کہ ملکی قانون صرف کمزور کو گرفت میں لانے کا کام کررہا۔عدالتوں میں سال ہا سال سے وہی شخص انصاف کے حصول کے لیے کوشاں ہے جو سفارش اور رشوت دینے کی اہلیت سے محروم ہے۔درست کہ درپیش مسائل کی زمہ داری کسی ایک شخصیت یا ادارے پر عائد نہیں کی جاسکتی مگر اہم ریاستی اداروں کو کسی طور پر بری الزمہ بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ محض خوش فہمی نہیں بلکہ عملا ایسا معلوم ہورہا ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میںبہتری کا عمل شروع ہوچکا۔
سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا سامنے آنا بذات خود مثبت پیش رفت ہے۔ اب تک ہونے والی سماعت میں فاضل جج صاحبان کے ریمارکس سے یہ اندازہ لگانا غلط نہیں کہ وہ اس مقدمہ کی اہمیت اور اس کے فیصلے کے اثرات سے باخوبی آگاہ ہیں۔یقینا یہ یہ پارلمینٹ کی ناکامی ہے کہ وہ اس عالمی مالیاتی سیکنڈل کی صاف وشفاف تحقیقات کرنے میں میں ناکام رہی۔ ٹی او آز پر متفق نہ ہونے کی وجوہات کچھ بھی ہوں یہ طے ہے کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی سمیت ان کی ہم خیال دیگر جماعتیں اس تاریخی موقعہ پر اپنا اخلاص ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔بدعنوانی عالمی مسلہ بن چکا۔ پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں قانون سازی ہورہی ہے کہ کس طرح ان طاقتور سرمایہ داروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے پیسہ ٹیکس نیٹ ورک میں لائیں تاکہ دولت چھپانا کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔ آف شور کمپنیوں کے قانونی ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ۔ چنانچہ ہمارے ملک کے منتخب ایوانوں کی بھی زمہ داری ہے وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بجائے اصلاح احوال کے لیے عملی اقدمات اٹھائیں۔

Scroll To Top