سندھ حکومت نے صوبے میں نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی- ترمیم شدہ نوٹیفکیشن جاری

سندھ حکومت نے صوبے میں نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کردی جس کا نیا ترمیم شدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر عائد پابندی کو فوری طور پر اٹھالیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ عوام کو ویکسی نیشن کے لیے جانے کی خاطر سہولت دینے کے لیے ڈبل سواری پرپابندی کو ختم کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑیوں میں بھی 2 سے زائد افراد کے سفر پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے جب کہ رکشا، ٹیکسی، چنگ چی کو بھی اپنی حدود میں چلانے کی اجازت ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں دودھ کی دکانوں اور بیکریوں کو بھی ٹائمنگ میں استثنیٰ دیا گیا ہے جس کے بعد دودھ کی دکانوں اور بیکریوں پر شام 6 بجے بند کرنے کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال کے پیش نظر نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر  پابندی اور گاڑیوں میں بھی دو سے زائد افراد کے سفر پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے حکم نامے کے مطابق رکشہ، ٹیکسی، چنگ چی کو بھی اپنی حدود میں چلانے کی اجازت ہو گی۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری ایک اور نوٹیفیکیشن کے تحت تمام سرکاری دفاتر بند کردیے گئے ہیں تاہم محکمہ صحت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کھلے رہیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 8 اگست تک سندھ کے تمام سرکاری محکموں کو بند رکھا جائے گا اور ان بند کیے گئے سرکاری محکموں کے ملازمین گھروں سے کام کریں گے۔

کراچی میں شارع فیصل، ملیر ہالٹ، ایف ٹی سی، تین ہٹی، گلشن چورنگی، لیاقت آباد اور دیگر مقامات پر پولیس اور ٹریفک پولیس کی جانب سے ناکے لگا دیے گئے ہیں تاہم ترمیم شدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شہریوں کی آمد و رفت میں نرمی کر دی گئی ہے۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں سے سڑکوں پر آنے کی وجوہات معلوم کی جارہی ہیں جب کہ بعض مقامات پر اہلکاروں کی جانب سے شہریوں سے ویکسی نیشن کارڈ دکھانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے، گھروں سے باہر نکلنے کی معقول وجہ نہ بتا پانے پر شہریوں کو واپس جانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

دوسری جانب شہر میں اب بھی کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آرہی ہیں اور شہری بغیر ماسک لگائے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری کا سفرکررہے ہیں۔

You might also like More from author