مداری کی ڈگڈگی

معاملہ یہیں ختم نہ ہوتا۔ پیر جاجی شاہ زرداری کی ضیعف الاعتقادی اور بزدلی کو کئی دوسرے طریقوں سے بھی ڈراتا اور بلیک کرتا رہتا۔ ان میں سے ایک یہ تھا ۔ اسے جب کبھی کسی ذاتی ضروت کے تحت کراچی جانا ہوتا وہ ”ایک زرداری سب پر بھاری“ پر اس انداز سے بھاری پڑ جاتا کہ حضور کو پہاڑوں کو قربت سے خطرہ ہے اور فلاح تاریخ سے فلاں تاریخ تک آپ کے لئے ضروری ہے کہ پہاڑوں سے حتی المقدر دوری پر تشریف لے جائیں گویا دارالحکومت اسلام آباد سے جنوب میں کراچی چلے جائیں۔ یا دکیجئے میرے ممدوح زرداری اپنے دور صدارت میں کئی بات اسی ضعیف الاعتقادی کے سبب سے ایک پیر کے اشاروں پر ناچتے رہے۔ اس دوران وہ بلاول ہاو¿س میں اعلیٰ سطحی سرکاری میٹنگز کا انعقاد بھی فرماتے رہے۔ اس ساری شورا شوری پر غریب عوام کو کتنا چونا لگتا رہا، یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے اگر کوئی پر جوش تحقیقاتی رپورٹر اس بابت میں کام کر بیڑا اٹھائے تو ایک اچھا خاصا سکوپ اس کے کیریئر کی زینت بن سکتا ہے۔
اور ہاں جب زرداری کے اوصاف خمیدہ و کبیدہ کا ذکر ہو تو پھر ہم سرے محل کو کیوں بھول سکتے ہیں جو قوم کو اربوں کا چونا لگا کر یورپ میں خریدا گیا۔ ایک خاص مرحلے پر اس قیمتی جائیداد سے لا تعلقی کا اقرار کر لیا مگر جب سیلاب بلا ٹل گیا تو اس کی ملکیت کا اقرار بھی کر لیا اور رقم بھی اینٹھ لی۔ جو اصولی طور پر حکومت پاکستان کے خزانے میں پہنچنی چاہئے تھی مگر اپنی فنکاری سے اسے زرداری صاحب نے اپنے تک ہی محدود رکھا۔ اور پھر سرے محل کی دستاویزات کے درجنوں کارٹن کسی طرح پاکستانی ہائی کمیشن سے غائب کر وائے گئے۔ وہاں اپنے لے پالک ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کس طرح برستی بارش میں منہ میں سگار دبائے اور سولہ پیٹ پہنے جیمز بانڈ کا بہروپ بھر کر ان دساویزا ت کو ایک پک اپ پر لوڈ کروایا اس کی آڈیو انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔
یہی نہیں نواز دور میں ان پر قائم کئے گئے مقدمات میں ان کا دفاع کا عجب طریق تھا، متعلقہ دستاویزات غائب گواہ غائب اور متعلقہ مشینری پر اپنے کارندوں کو لا بٹھاو¿۔
آج شب ہی بیرسٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ 2008میں صدر بن کر کس طرح زرداری نے نیب میں اپنی ایک خاتون (مہرے) کو نیب میں بھرتی کروا کر اس کے ذریعے اپنے خلاف متعدد مقدمات کا ثبوت غائب کروا دیئے تھے۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناو¿ں۔
ان دنوں کہ وہ جعلی بنک کھاتوں میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں عنقریب ” سرکاری مہمان“ بننے والے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص مگر بیہودہ انداز میں تین سال کی نوکری کرنے والوں کو للکار رہے ہیں۔
اے کاس کہ وہ آنکھ کھول کر دیکھ لیں کہ ان کے لذیز کھانوں کی ضیافتوں کے قریب ہی ” تین سال کی نوکری“ کرنے والوں کا مستقل رہنے والا ادارہ غریب بھوکے پیاسے اور بیمارو لاچار تھری لوگوں کے دوا دارو اور خوراک پانی کا بندوبست کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ ذمہ داری ان جیسے حکمرانوں کی ہے مگر ان حکمرانوں کے ہاتھ میں تو مداری کی ڈگڈگی ہے۔ جسے وہ بجاتے جاتے ہیں اور بے چارے غریب لوگ سادہ لوحی میں اس سے دل پشوری میں محو ہیں۔
یہ سب کب بدلے گا؟
آئیے سوچیں!

You might also like More from author