پاپ فرانسس کی مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایسٹر رسومات کی ادائیگی

پاپ فرانسیس نے ایسٹر کا مرکزی اجتماع منسوخ کرکے لوگوں کو انٹرنیٹ پر براہ راست دیکھنے کی ہدایت کی، فوٹو : ٹویٹر

مسیحوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کی تقریبات کورونا وائرس کے باعث محدود کر دی گئیں جب کہ پاپ فرانسس نے بھی مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ چند مخصوص افراد کے ہمراہ ویٹی کن میں رسومات ادا کیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر میں مسیحی برادری اپنا مذہبی تہوار ’ایسٹر‘ منا رہی ہے، دیگر معمولات زندگی کی طرح کورونا وائرس نے اس مذہبی تہوار کو بھی متاثر کیا ہے، اکثر گرجا گھر بند ہیں تاہم کچھ گرجا گھروں میں احتیاطی تدابیر کیساتھ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

ایسٹر کا سب سے بڑا اجتماع ویٹی کن میں ہوتا ہے جہاں پاپائے روم ایک بڑے اجتماع سے خطاب بھی کرتے ہیں تاہم اس سال اجتماع منسوخ کردیا گیا ہے اور پاپ فرانسس نے نہایت مختصر افراد کے ہمراہ ایسٹر کی رسومات ادا کیں جس کے دوران مختصر شرکاء ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کیے ہوئے کھڑے تھے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے روم سمیت تقریباً تمام ہی ممالک میں لاک ڈؤن ہے، پاپ فرانسیس نے لوگوں کو گھر میں رہنے اور حکومتی احکامات کی پاسداری کا درس دیتے ہوئے ایسٹر کی تقریبات کو براہ راست انٹرنیٹ پر دیکھنے کی ہدایت کی تھی۔

ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم نے بھی اپنے پیغام میں ایسٹر کے موقع پر شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسٹر کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا تاہم قدرے مختلف انداز سے ضرور منایا جا سکتا ہے۔ ایسٹر ہمیں کورونا وائرس کے اندھیرے سے لڑنے کے لیے روشنی مہیا کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حفاظتی اقدامات کے تحت گرجا گھر جانے کے بجائے اپنے گھر ہی میں ایسٹر کی براہ راست نشریات دیکھیں۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کردیا تھا کہ ایسٹر سے قبل صورت حال قابو میں آجائے گی اور چرچ کھول دیئے جائیں گے تاہم امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔

یاد رہے کہ پاپ فرانسس کا ایک پھیپھڑا انفیکشن کی وجہ سے نوجوانی میں ہی نکال دیا گیا تھا جس کے باعث 83 سالہ پاپائے روم کورونا وائرس سے بچنے کے لیے خصوصی اہتمام کر رہے ہیں اور گزشتہ ماہ ان کی طبیعت بھی بگڑ گئی تھی جس کے باعث انہیں آئیسولیٹ کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 16 لاکھ اور 15 ہزار ہے جب کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں۔

You might also like More from author