مداری کی ڈگڈی

ایک طرف اخلاص عمل ہے۔
دوسری طرف عیاری مکاری اور چالاکی ہے۔
ایک طرف بہادر پاک فوج تھر کے ریگستانوںمیں بھوکے پیاسے لوگوں کو خوراک فراہم کر رہی ہے۔
دوسری طرف میرے ممدوح زرداری تھر سے دور سندھی وڈیروں کے اوطاقوں اور حویلیوں میں پچاس پچاس ڈشوں پر مشتمل ضیافتیں اڑا رہے ہیں۔
لوگ عیاری، مکاری اور چالاکی کا مطلب پوچھتے ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ وڈیرہ شاہی ، سرمایہ شاہی اور ملا شاہی کے نمائندہ کسی ایک حکمران کی طرف اشارہ کر دیجئے۔ بس یوں جانئے وہی عیاری مکاری اور چالاکی کے شیطانی، مکروہ اور قبیح ملغوبے کی چلتی پھرتی تصویر ہوگا۔ میرے ممدوح آصف زرداری کا شمار بھی انہی چند چنیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جن کی نو عمری اور نوجوانی کی اٹھان ہی کراچی کے بمبینو سینما کے باہر ٹکٹ بلیک کرنے کی تہمت سے ہوئی اور پھر ایک شہد کی مکھی کے ڈنک کی معرفت بے نظیر سے ہوتی ہوئی ملک کے ”مرد اول“ اور مسٹر ٹین پرسنٹ اور مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ تک جا پہنچی۔ معاملہ یہیں تک بس نہ ہوا۔ طبقہ بدمعاشیہ ، جو ملک کے اقتدار پر پچھلے ستر سالوں سے چمٹا رہا تھا، کے لئے زرداری سے بڑھ کر دوسرا جوہر قابل اور کون ہو سکتا تھا۔ سو اس نے اسے صرف اپنے سرکا تاج ہی نہ بنایا بلکہ اس سوختہ نصیب 22کروڑ افراد پر مشتمل قوم کے سر پر بھی بطور صدر مملکت مسلط کر دیا۔
زرداری اور اس کے چیلے چانٹے بڑے فخرے سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نے پانچ سالہ مدت حکمرانی پوری کی اور اس دوران اس نے اس منصب پر اپنی عیاری مکاری اور چالاکی کے جو جو ناٹک کھیلے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔
ایوان صدر میں اونٹنیوںاور گھوڑوں کے اصبطل پروان چڑھتے رہے یا پھر گھوڑ دوڑ کے ٹریک تعمیر ہوئے، آج جو اومنی گروپ کے قصے اور انو مجید اینڈ سنز، اویس ٹپی، اسلم مسعود، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، ڈاکٹر عاصم، نثار مورانی، عزیر بلوچ، ایان علی، راو¿ انور اور خالد شہنشاہ جیسے کرداروں اور مہروں کے نام کالے کرتوں کی فہرست میں دکھائی دیتے ہیں یہ سب انہی صدر زرداری صاحب کے ”حلقہ کارگیراں“ میں شمار ہوتے ہیں۔ اور ہاں ایک نام کو میں کیونکر بھول سکتا ہوں یعنی پیر جاجی چاہ محترم اعجاز شاہ صاحب۔ جو ” ایک زرداری سب پر بھاری“ پر بھی بھاری ثابت ہوتا رہا۔ روائت کے مطابق پیر صاحب ہر روز زرداری صاحب کی معرفت ایوان صدارت یعنی ہم غریبوں کے ٹیکسوں سے جمع شدہ خزانے کو پانچ سے سات کالے بکروں کا چونا لگاتے رہے۔ راوی کے بقول بسااوقات ہوتا یہ تھا کہ پیر موصوف امام بری لطیف کے مزارکے گردونواح کسی قصائی سے مطلوبہ تعداد میں کالے بکروں کی سریاں بوری میں بند کر کے ایوان صدرلے آتا اور پھر انہیں خوبصورت سیلو فین کے شفاف، پیپر میں ایک ٹرالی میں سجا کر صدر یعنی میرے ممدوح حضرت زردای کے حضورت پیش کرتا ان کے روبرو کچھ دم تعویذ کرتا اور یوں صاحب بہادر کو ” بدی کی قوتوں“ کے شر سے محفوظ ہو جانے کی ضمانت دے کر لوٹ آتا۔ اگر صدقے کے کالے بکروں کی تحقیقات کی جائیں تو معلوم ہوگا کہ پیر دکاندار سے پانچ یا سات بکروں کی صرف سریاں خریدتے تھے مگر خزانے سے رقم بکروں کی اینٹھ لیتے تھے۔  معاملہ یہیں ختم نہ ہوتا۔ پیر جاجی شاہ زرداری کی صعیف الاعتقادی اور بزدلی کو کئی دوسرے طریقوں سے بھی ڈراتا اور بلیک میل کرتا رہتا۔ ان میں سے ایک یہ تھا۔ اسے جب کبھی کسی ذاتی ضروت کے تحت کراچی جانا ہوتا وہ ” ایک زرداری سب پر بھاری“ پر اس انداز سے بھاری پڑ جاتا کہ حضور کو پہاڑوں کی قربت سے خطرہ ہے اور فلاح تاریخ سے فلاح تاریخ تک آپ کے لئے ضروری ہے کہ پہاڑوں سے حتی المقدور دوری پر تشریف لے جائیں گویا دارالحکومت اسلام آباد سے جنوب سے کراچی چلے جائیں۔ یاد کیجئے میرے ممدوح زرداری اپنے دور صدارت میں کئی بار اسی ضعیف الاعتقادی کے سبب سے ایک پیر کے اشاروں پر ناچتے رہے۔ اس دوران وہ بلاول ہاو¿س میں اعلیٰ سطحی سرکاری میٹنگز کا انعقاد بھی فرماتے رہے۔ اس ساری شوراشوری پر غریب عوام کو کتنا چونا لگتا رہا، یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے اگر کوئی پرجوش تحقیقات رپورٹر اس باب میں کام کر بیڑا ٹھائے تو ایک اچھا خاصا سکوپ اس کے کیئریئر کی زینت بن سکتاہے۔

You might also like More from author