عوامی امنگوں کا مرکز و محور!

غریب کی کٹیا سے گریہ و آہ زاری کے جلو میں رب کعبہ کے حضور دعا والتجا!
یا اللہ سوہنیاں، اپنے نہتے بندے کی لاج رکھ لینا، وہ تیری لوکائی کی بہتری کے لئے وقت کے فرعونوں اور زمین کے ”خداو¿ں سے متھا لگا بیٹھا ہے اسے تھوڑا یا زیادہ کامیاب کر دینا، ورنہ شائد یہاں مویسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے چھا جائیں!“
دعا، التجا اور گریہ کا یہ سلسلہ صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔
میں دن کے اجالے میں دعاو¿ں کے منبع اس کٹیا میں دوبارہ حاضر ہوا،
پوچھا ” با باجی، گزری شب ، اندھیرے اور اجالے کے سنگھم سمے آپ کسی نہتے بندے کے لئے اپنے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں کر رہے تھے۔
ادھر سے کچھ توقف اور خاموشی اور پھر دوٹوک انداز میں جواب
بچیا وہ عمران خان ہی تو ہے جو اندھیرے راستوں سے گزرتے ہوئے اس سوئی ہوئی قوم کو جگا بھی رہا ہے ، اسے دشمنوں کی چالوں سے خبردار بھی کر رہا ہے اور اپنی چھیکو چھیک جھولی لئے دربدر پھر بھی رہا ہے ۔ کسی سے مدد لے رہا ہے کسی کو مدد دے رہا ہے۔
بابا جی نے پھر کچھ توقف کیا اور لمحے بھر بعد دھیمے سروں میں گویا ہوئے ،
پترا اللہ دے ایس بندے ٹھگاں دی ٹھگی کی بہت ساری سٹرکیں، رستے اور چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیاں بند کر دی ہیں۔ جس سے حرام کھانے کے عادی ٹھگوں کی ٹھگی بند ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے گماشتوں اور ہر کاروں کا دھندا بھی ماند پڑ گیا ہے۔ ظاہر بات ہے ، مجرموں کے یہ ٹولے اور گینگ ہر اس ادارے، محکمے اور فرد کے دشمن بن جایا کرتے ہیں جو ان کی حرام پائیوں کے چلے چلائے دھندے میں رخنے اور رکاوٹیں ڈال دینے کا سبب بنا ہوتا ہے۔ بابا جی کہتے تھے اس وقت ان سب بدمعاشوں اور قوم کے مجرموں کو فقط عمران خان ہی میںاپنا دشمن اعظم دکھائی دیتا ہے۔
میں واپس آیا تو ایک سادہ لوح غریب مسکین بابا جی کی باتوںنے میرا دامن نہ چھوڑا۔ میں جوںجوں ان کی باتوں کی گہرائی اور گیرائی بابت سوچتا تھا۔ درپردہ اور پوشیدہ اسرار ورموز کی کڑیاں ایک کر کے میرے سامنے آتی چلی جا رہی تھیں۔
میرے روبرو2018کا ایک منظر کھلتا ہے۔قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس۔ جسے ہر مہذب جمہوری معاشرے میں قدرو منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ اجلاس، اس کا ماحول ، اس میں کی جانے والی تقاریر اور حکومت و اپوزیشن کے مابین مستقبل کے تعلقات کی نوعیت اور سطح۔ سو اس روز جونہی وزیر اعظم(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر29
تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اپوزیشن ارکان اور پارٹیوں نے ایک ہنگامہ ہاو¿ ہو برپا کر دیا۔ کئی ارکان اپوزیشن غصے میں وزیر اعظم کی جانب بڑھنے لگے۔ جنہیں سکیورٹی سٹاف نے روکا۔ جبکہ حکومتی ارکان نے وزیر اعظم کو اپنے حفاظتی حصار میںلئے رکھاتاکہ وہ ناپسندیدہ ماحول میں اپنی بابت قوم تک پہنچا سکیں ۔
بس وہ دن جاتا ہے اور یہ دن آگیا۔ ہماری نا ہنجار اپوزیشن نے عمران حکومت کو ایک روز بھی اطمینان سے اور صددر مملکت انجام دینے کا موقع فراہم نہیں کیا۔
اور پھر عمران فوبیا یعنی عمران خان کی ذاتی دیانت، امات اور صداقت کے جواہر سے خوف و ہراس میں مبتلا اپوزیشن ، جوجنم جنم سے بھان متی کے کنبے کی مانند کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا اور جوتیوں میں دال تقسیم کرنے والے ایک گٹھ جوڑ سے زیادہ کچھ بھی نہیں، تے پچھلے پونے دو سالوں سے عمران خان اور ان کی حکومت کا ناک میں دم کر رکھا ہےگاہے دونوں بڑی جماعتیں یعنی نون لیگ اور پیپلز پارٹی خود پردے کے پیچھے چھپ جاتی ہیں اور سامنے ایک سیاسی بروکر اور آڑھتی کو لے آتی ہیں۔ جو رینٹ اے ریلی کا دھندہ بھی کرتا ہے۔ چنانچہ ہم نے گاہے ملین مارچ ، لانگ مارچ ، آزادی مارچ اور آزادی دھرنا کے نام سے اپوزیشن کے تماشے دیکھے ہیں اور گاہے غریب عوام کی ہمدردیاں جیتنے کے لئے مہنگائی بے روزگاری اور امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال بابت ناٹک نوٹنکیاں بھی آراستہ کی جاتی ہیں۔
ابھی پچھلے مہینے مارچ کے حوالے سے حزب اختلاف کی پارٹیاں عمران حکومت کو گھر واپس بجھوالنے کے دعوے اور وعدے بیچنے کے جتن کر رہی تھیں مگر اس ”مشن“ میں انہیں بری طرح ناکامی ہوئی۔ اور اس کا بنیادی سبب اپوزیشن کے روائتی حکومت مخالف چورن میںعوام کی عدم دلچسپی ہے۔
قصہ مختصر پچھلے پونے دو سال کے دورانیے میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے کہ اگر اس مختصر عرصے میں اگر عمران خان بوجوہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہا سکے تو پچھلے ستر سالوں میں موجودہ اپوزیشن پارٹیاں تو لوگوں کو لوٹنے کے سوا کچھ نہ کر سکیں۔
سو یہی وہ حقیقت ہے جس کے حوالے سے عام آدمی اپوزیشن سے بد ظن اور عمران خان سے وابستہ نظر آتاہے۔۔

You might also like More from author