کرونا ئی کرپشن کلچر کی کچرا کنڈی (قسط 3)

دبانے، دھمکانے، دہلانے کے سارے حربے بے ثمرے 25اپریل۔۔۔۔ کون کِدھر؟

انہیں گھیرنے کے بڑے حربے برتے گئے۔
جب کوئی حربہ کار گر ثابت نہ ہوا تو بالواسطہ ہتھکنڈے اور وچولے آزمائے گئے۔ مگر کہاں کہ سامنے عزم و ہمت کا کوہ گراں، کوہ ہمالہ کھڑا تھا ۔
تب انہیں پیش آمدہ اور ممکنہ شکست اور درشکست کے حوالے سے ڈرانے، ہلانے اور دہلانے کی عیاریاں، چالاکیاں اور مکاری کی ناٹک نوٹنکیاں لگائی گئیں۔
پر اس کوہ گراں کوہ ہمالہ پر ذرہ برابر اثر مرتب نہ ہو پایا۔ ہاں اگر کوئی جملہ ادھر سے سننے میں آیا تو فقط یہ کہ
یہ اقتدار اللہ کی امانت ہے اور یہ امانت عوام کی خدمت کے لئے ہے۔
عمران خان کے دو ٹوک اور مسکت جواب نے ان تمام عناصر کو کھڈے لائن لگادیا جب سو بھیس بدل کر، بالواسطہ اوربلا واسطہ طریقوں سے اقتدار و اختیار کے مرکز پر ہمیشہ ہی اثر انداز ہوتے آئے ہیں۔ لالچ، ترغیب ، حرص و ہوس کے ست رنگے جال ناکام ہو جائیں تو پھر ڈرانا، دھمکانا، دبانا کا معاملہ چلایا جاتا ہے مثلاً عمران خان سے کہا جاتا رہا کہ آپ کرپشن کے خلاف نعرہ ضرور مارتے رہیں مگر عملی اقدامات کو دھیما رکھئے، لوگ سخت اقدامات کو ہضم نہیں کر پائیں گے۔ پھر یہ کہا سنا گیا کہ آٹا چینی بحران میں جن لوگوں کے نام سامنے آرہے ہیں۔ موجودہ پارلمانی ڈھانچے اور اس میں حکومتی پارٹی کی کمزور عددی پوزیشن کے حوالے سے انہیں چھیڑنے کا مطلب ہوگا کہ وہ رد عمل میں عمران حکومت کو چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پی ٹی آئی حکومت کو بہر حال گھر جانا ہوگا۔
عمران خان مگر ڈٹے رہے، کسی دھمکی، خوف اور ممکنہ پسپائی کی پروا کئے بغیر انہوں نے طے کئے رکھا کہ انہوں نے ایف آئی اے کے سربراہ اور نڈر و بے خوف پولیس آفیسر واجد ضیا کو آٹا چینی بحران کی جس انکوائری کے لئے چن رکھا ہے اس انکوائری رپورٹ کو بہر حال پبلک کرنا ہے یعنی عوام کو اس رپورٹ تک رسائی دینی ہے۔
عمران خان کو عزم اپنی جگہ مسلمہ تھا۔ تاہم ملک کے سٹیٹس کو پر مسلط طبقہ بدمعاشیہ اور اس کے گماشتے آسانی سے شکست تسلیم کرنے والے نہ تھے۔ اب انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں کو آلہ کار بنانے کے جتن شروع کر دیئے۔ ہمارے سیاسی منظر نامے پر مسلط اپوزیشن جماعتیں تو پہلے سے ہی عمران خان کی کرپشن مخالف تحریک سے نالاں تھیں کیونکہ ان کی قیادتیں اپنی ٹھگیاں اور نوسر بازیاں پکڑی جانے پر مختلف احتسابی شکنجوں میں پھنسی ہوئی ہیں۔ سو انہوں نے آو¿ دیکھا نہ تاو¿ فی الفور(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر29
آٹی چینی بحران کے ذمہ دار کارٹلز اور مافیا کا ساتھ دینے کا طے کر لیا۔ اور عمران خان نے تاریخ میں پلی بار ایک قومی ایشو پر بنائی گئی انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا جو فیصلہ کیا اس میں سے بلاوجہ کیڑے نکالنے شروع کردیے۔ بس یہی وہ مقام تھا جب عوام نے اپوزیشن کو بری طرح جھٹک دیا۔ عام لوگ اپوزیشن کے دوہرے معیار اور دوغلے پن سے پہلے ہی نالاں تھے۔ اب جب کہ عمران خان نے اپنے حلقہ قرابت و وزارت کے اہم افراد کے خلاف تیار شدہ رپورٹ کو سیاسی مصلحت کے تحت دبا دینے کی بجائے عام کر دینے کا جرا¿ت مندانہ فیصلہ کر لیا تھا اور اپوزیشن پارٹیاں جانتی تھیں کہ پی ٹی آئی کے قائد کی اس جرا¿ت رندانہ پر ان کا عوامی امیج اور ساکھ بہت مضبوط اور مقبول ہو جائیں گے جو اپوزیشن کو کسی طور قابل قبول نہیں چنانچہ اس نے آٹے چینی بحران بابت واجد ضیا جیسے دیانات دار آفیسر کی سربراہی میں تیار ہونے والی رپورٹ بابت شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شروع کر دیا مگر عمرانخان جیسا عزم و استقلال کا کوہ گراں اپنے موقف پر پوری دلجمعی سے ڈٹا رہا۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس طرح اسے اپنے بہت سارے قریبی اور دیرنہ سیاسی رفقا کار، اتحادی ارکان اسمبلی اور سیاسی سپورٹرز سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ آٹا چینی بحران کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سے عمرانخان وفاق اور پنجاب کی سطح پر اپنے تین اہم مشیروں اور وزراءسے ہاتھ دھو چکے ہیں اور25اپریل کو کمیشن کی فرانزک رپورٹ آنے پر کئی دوسرے مقتدر پردہ نشینوں کے نام بھی سامنے آسکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر کئی ارب پتی منافع خور جیلوں میں بھی پھینکے جا سکتے ہیں۔ تب کیا ہوگا۔ عمران خان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے یا انہیں کسی اندرونی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔۔(جاری ہے)

You might also like More from author