کرونا ئی کرپشن کلچر کی کچرا کنڈی (قسط 2)

عمران خان تاریخ کی عدالت میں سرخ رُو ہوئے

بہادر اور نڈر
جی دار اور ایماندار
بلند ہمت جس کی سرشت
پاکستان کا رجل رشید اور بطل جلیل
پختہ عزمی کا کوہ گراں، جواہر امانت و دیانت فراواں
فخر پاکستان، عزم پاکستان
میرا اور تیرا مان
جناب عمران خان!!!
ملکی تاریخ کا وہ پہلا حکمران جس نے نمبر گیم اور حکومتی تسلسل کے لئے مطلوبہ عددی قوت اور نمبر گیم کی نزاکتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے عدل و انصاف کا علم سر بلند کر دیا، جو وعدہ کیا پورا کر دیا، دوستی، اقابت داری اور اقتداری ساجھے داری کے ہر تقاضے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے
”بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق“
کرونائی کرپشن کلچر کی کچرا کنڈی پر ایک اور کلہاڑا
جناب عمران خان نے ایک اور وعدہ کیا پورا
”اپنوں“ کو اکھاڑ مارا
پوچھا جا سکتا ہے کہ میں نے کالم کے اصل موضوع پر آنے سے پہلے مجھے جناب عمران خان بابت اسقدر زیادہ توصیفی کلمات کی ادائیگی کیوں ضروری سجھی۔
اس کا مختصرجواب یہ ہے کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا کہ کسی صدر یا وزیر اعظم نے احتساب کا وعدہ کیا ہوا پھر اسے پورا بھی کر دیا گیا ہو۔ قارئین کو بخوبی علم ہوگا کہ قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کر دیا گیا اور اور اس کی سنگین و بہیمانہ واردات کے دستاویزی ثبوت لے جانے والے اعلیٰ آفیسر کا ہیلی کاپٹر راولپنڈی اور جہلم کے درمیان گر کر تباہ ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی لیاقت قتل کیس کی تمام تر شہادتیں اور دستاویزات بھی تاریخ کے ویرانوں میں بکھر کر رہ گئیں۔ ازاں بعد سقوط ڈھاکہ پر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ تیارہوئی، یہ تاریخی دستاویز بھارت میں توشائع ہو گئی مگر ہمارے ہاں پردہ اخفا میں ہی پڑی رہ گئی۔ چند سال پہلے اسامہ بن لادن قتل کیس کی ایبٹ آباد رپورٹ بھی کسی طاق نسیاں کی زینت بنی ہوگی۔ اور رواں صدی کے شروع میں کھلے آسمان کی شکل تک نہیں دیکھی اور 2014 میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے باقرنجفی رپورٹ بھی کبھی منظر عام پر نہ آسکی۔
ایسا کیوں ہوتا رہا۔ تہذیبی آشوب میں مبتلا ہمارا سماج اور اس پر مسلط طبقہ بدمعاشیہ کی حکومتیں، کبھی بھی مفاد عامہ میں اہم قومی سانحات کی جزئیات کو عوام سے شیئر کرنے کا تصور تک نہیں کرسکتی تھیں، اس مفاداتی اور اقتدار میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ساجھے داری اس بات کا تقاضا رکھتی ہے کہ ہر دور کے ظالم حکمرانوں ان کے ساجھے داروں اور گماشتوں کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ موجود رہا ہے جسے عوامی سطح پر یوں کہا جا سکتا ہے”رل کے کھا۔۔۔ رج کے کھا“ یعنی آپس میں ملی بھگت سے کھانے کھلانے (رشوت ستانی وغیرہ) کا دھند!
وقت کے ساتھ جب عوامی شعور میں قدرے اضافہ نظر میں آیا تو روایتی حکمرانوں نے عوام کو اطلاعات تک رسائی کے حق سے محروم رکھنے کے لئے ایک اور چور دروازہ تلاش کرلیا۔ جاتی عمرہ کے نام کے شریفوں نے ایسے ہتھکنڈوں سے خوب مال پانی بنایا۔ اس ہتھکنڈے کا اہم جزو کا مختصر نام یہ رکھا گیا تھا آتشزنی یعنی قابل گرفت دستاویزات کو آگ لگا کر بھسم کر دیا جائے۔ قومی وسائل کے اس طرح بے دردی سے اتلاف کو جاتلی عمرہ کے نام نہاد شرفا کے طویل دور حکومت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بنکر رہ گیا تھا۔
یہی وہ ناگفتہ بہ پس منظر تھا جس کے حوالے سے عام و خاص کو یقین تھا کہ جناب عمران خان حکومت نے حالیہ ایام میں ملک گیر سطح پر آٹے چینی کا بحران طوفان کی طرح اٹھا تھا، اس کی انکوائری رپورٹ بھی ماضی کی روایت کے مطابق غتر بود ہو کر رہ جائے گی۔
وارے جایے عمران خان کے جنہوں نے اپنے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے ایف آئی اے کے نہایت دیانتدار اور نڈر سربراہ جناب (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر27
واجد ضیاءکی نگرانی میں قائم کی گئی آٹے چینی بحران کی انکوائری رپورٹ بلا کم و کاست شائع کر دی۔ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ رپورٹ کی رو سے وزیر اعظم کے بعض انتہائی قریبی سیاسی رفقاءاور اہم وزراءتک کے نام سامے آ گئے۔25اپریل کو آٹے چینی بحران کی فرانزک رپورٹ بھی منظر عام پر آ جائیگی۔ پھر لگ پتہ جائے گا کون کتنے پانی میں ہے۔ ایک بات مگر طے ہے کہ جناب عمران خان نے انکوائری رپورٹ عام کرکے تاریخ کی عدالت میں سروخرو ہوچکے ہیں۔
(جاری ہے)

You might also like More from author