ثبات اک تغیر ہے کو ہے زمانے میں (آخری قسط)

غیر متبدل اصول مگراٹل! نظم کائنات کی قوسِ قزح

اس سلسلہ تحریر کے دوسرے جزو کا اختتام اہم نکتے پر ہوا تھا کہ اسلام اپنے ماننے والوںکو اعتقادات، عبادات، ذات(SELF) معاشرت، حکومت اور ریاست کے سبھی شعبوں کے لئے مکمل ضابطہ حیات اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس مرحلے پر اللہ رحیم و کریم قرآن میں یہ بجا دعویٰ بھی رکھتا ہے کہ دین اسلام اور اس کا عطا کردہ نظم زندگی کرہ ارض کے ہر ہر انسان کے لئے ہے اور یہ کہ یہ پیغام الہٰی اور قرآنی نظام حیات قیامت تک کے لئے ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج سے چودہ صدیاںپہلے جب قرآن پاک اللہ پاک کے اس دعوے کی اصابت کا اعلان کرتا ہے تو ایک واجبی علم کا اہل شخص بھی اس حیرت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ یہ کیونکہ ممکن ہے کہ چودرہ صدیوں پہلے یہ دعویٰ کر دیا جائے ، لیکن اگر ہم ذرا بنظر ِ غائر اللہ سوہنے کی اس حکمت عظمیٰ کو تدبر، تفکر اور تعقل کے جلو میں دیکھے پرکھے اور جانچے تو ہمارے فہم و فراست کے روبرو جہان معانی کھلتے چلے جاتے ہیں۔اب آپ اللہ پاک کے عطا کردہ نظم حیات کو اس زاویے سے دیکھیں۔ جب ایک کتاب اپنے احکامات کے حوالے سے یہ دعویٰ کری ہے کہ اس تاقیامت اور کرہ ارض کے ہر حصے کے لئے لوگو ہونا ہے تو اس کے ہاں اس حقیقت کا ادراک بھی موجود ہوتا ہے کہ اسے مستقبل نادیدہ میں ہونے والے سماجی، دستکاری، صنعتی ، تجارتی اور سائنسی و معاشی ارتقاءکے ساتھ کس طرح جوڑا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں اللہ کریم نے ایک انتہائی موثر جامع اور پہلو دار طریقہ اپنایا ہے۔ اس ضمن میں کچھ مثالوں سے صورت حال کی بہتر تفہیم ممکن ہوگی۔
اللہ پاک کی حکمت عملی ہے کہ اپنے نظریہ حیات کے حوالے سے اپنے قوانین کو دو واضح حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک حصے میں وہ غیر متبدل قوانین دے دیئے جنہیں تاقیامت بلا ترمیم واضافہ ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ مثلاً سچ بولنا، عدل واحسان کا ضابطہ، ان معاملات کو پوری شرح و نسبط کے ساتھ بیان کر دیا ہے تاہم حکومت و ریاست کے معاملات میں عدل و احسان اور مشاورت کا کلیدی ضابطہ عطا کر کے حکومتی و ریاستی معاملات بابت حکیمانہ خاموشی اختیار کر لی۔ کیوں، اس لئے کہ اللہ پاک سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ انسانی معاشرت، معیشت اللہ زندگی کے دیگر معاملات ارتقا پذیر ہونے کے سبب سے نئے قواعد و ضوابط کی متقاضی ہوگی۔ اب اگر اللہ کریم پہلے دن ہی عدل واحسان اور باہمی مشاورت کے کلیدی اصولوں کے ساتھ تفصیلات و جزئیات دے دیتا تو یہ امر وقت کے ساتھ ہمہ جہتی معاشی و معاشرتی ارتقا سے متصادم ہوتاہے۔ سو مثال کے طور پر حکومت و ریاستی اور بابت چند ایک کلیدی اصول دینے کے بعد حکومت و ریاست کے معاملات اور ان کی تفصیلات و جزئیات بابت حکمت سے کام لیتے ہوئے خاموشی اپنالی۔ اور رہنمائی کر دی گئی کہ آپ لوگ کرہ ارض پر جہاں چاہو رہو اور کوئی زمانہ بھی ہو، تم اسلام کے عطا کردہ بنیادی اور کلیدی اصولوں کو اپنائے رکھتے ہوئے تفصیلات وقت، معاشرت اور معیشت کی رو سے طے کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں طریقہ کار حکومت و ریاست کی کوئی اہمیت نہیں۔ آپ بادشاہت قائم کریں خواہ پالیمانی ، صدارتی یا چینی و کوریائی ماڈلز میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔
حرف آخر، اسلامی معاشرتمیں عدل و احسان کو کلیدی(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر63
اہمیت حاصل ہے۔مثلاً اگر مزدور کی محنت کی اجرت ایک ہزار روپیہ ہے مگر اس کی ضرورت بارہ سو روپے سے پوری ہوتی ہے۔ تو اسلامی حکومت و ریاست اس مزدور کو اس کی ضرورت کے باقی دوسو روپے احسان کے کھاتے سے ادا کر دے گی۔
انہیں تفصیلات کی روشنی میں ہم اسلام کے غیر متبدل اور اٹل اصولوں اور ان کی روشنی میں تفصیلی جزیات کے فلسفہ و حکمت کی اصابت کی بہتر تفہیم کر سکتے ہیں اس سلسلہ تحریکر کا خلاصہ یہ ہوا کہ یہ کائنات بیک وقت غیر متبدل اور اٹل اصولوں کے ساتھ ساتھ عصری ارتقا کے اصول کے تحت ہر آن تفسیرومتبدل سے بھی مزین ہے۔

You might also like More from author