ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں (قسط2)

غیر متبدل اصول مگر اٹل!

اس سلسلہ تحریر کے پہلے جزو میں جن تمثیلات کے توسط سے آغاز کالم و کلام کیا گیا تھا ان میں میں غالب طور پر ہماری سماجی، سائنسی اور معروضی حقائق سے جنم لینے والے ارشادات دیئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک کا تعلق دریا کی روانی اور اس سے جڑے انسانی تجربے کا احوال بیان کیا گیا تھا۔ دوسری تمثیل وقت کے مختلف اور متنوع دورانیوں کے سبب سے شخصیات اور انسانی رویوں میں در آنے والی تبدیلیوں اور اثرات کا تذکرہ ملتا تھا۔ ایک تمثیل انسانی جذبات و احساسات کی نزاکتوں اور ان کے اتار چڑھاﺅ کے بیان پر مشتمل تھی، جس میں ایک محبوب کی جدائی سے پہلے اور بعد متاثرہ شخص کی ذات گزرنے والے دکھڑے اور المیے کی نشاندہی کی گئی تھی اگر اس حوالے سے اس شخص کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ جدائی سے پہلے شخص کے مقابلے میں جدائی کے بعد والے فرد سے یکسر مختلف اور جداگانہ ہوگا۔ تغیر و تبدل کے انہی حقائق کے حوالے سے اس کالم کا عنوان جمایا گیا تھا۔
ثبات اک تغیرکو ہے زماے میں
مجھے قارئین محترم اجازت مرحمت فرمائیں گے کہ میں یہاں ایک بار پھر اس مسلمہ حقیقت کا اعادہ کر سکوں کہ میرے اللہ سوہنے نے اپنی اس کائنات کو دو واضح منطقوں میں تخلیق کیا ہے۔
ایک منقطہ ہے ماورائے طبیعات حقائق کے حوالے سے۔
دوسرا منطقہ طبیعات سے تعلق رکھتا ہے جسے ہم زیادہ آسان الفاظ میں اسباب و علل یا علت و معلول یعنی (EFFECT AND CAUSE) کے اصولوں پر استوار ہے۔ اس کی قدرے وضاحت یوں سمجھی جا سکتی ہے۔ اللہ کریم نے یہ کائنات جب ناپید سے پیدا کی تو وہ ماورائے طبیعات کا منقطہ تھا۔ میرے اللہ خالق مطلق نے فقط ”کن“ یعنی ہوجااور کائنات کی طرف سے تعمیل ارشاد الٰہی میں کہا گیا ”فیکون“ یعنی ہوگئی۔
اب اس کے بعد کائنات میں جب انسان کو اتار دیا گیا تو اسے اسباب و علل یا علت و معلول کے اصولوں پر مبنی منطقے میں پیوست کر دیا گیا۔ یہاں الٰہی قانون کے مطابق اسے بھوک پیاس لگے گی جس کی تسکین کے لئے اسے علت و معلول کے ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ یعنی انسان حیوان یا دیگر جانداروں میں بھوک پیاس کی حاجت کو فیڈ کر دیا گیا جس کی آسودگی کے لئے اسے حصول آب کے چشمنوں اور ماخذوں سے رجوع کرنا پڑے گا۔ کوہستانی علاقوں کی صورت میں وہ چشموں سے رجوع کرے گا، بارانی خطے میں ہوگا تو بارش کے ذریعے پیاس بجھائے گا، بارشیں چونکہ ہمہ وقت نہیں ہوتیں لہٰذا وہ خشک سالی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کے لئے تالاب، جوہڑ یا ڈیمز وغیرہ تعمیر کرے گا۔
جہاں تک بھوک مٹانے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں انسان نے ابتدا تہذیب میں جنگلی بیل بوٹو، پتوں، پھلوں اور پھولوں پر گزر بسر کی، درخت کی چھال اور پتوں سے ستر پوشی کاکام لیا۔ اسی طرح وحشی جانوروں سے بچاﺅ کے لئے ڈنڈے بھالے اور دیگر آلات وقت کے ساتھ معرض موجود میں آتے رہے۔
اب میں آپ کو ایک بار پھر اسلامی نظریہ حیات، معیار زندگی اور انفرادی و اجتماعی معاملات بابت الٰہی ہدایت کی طرف لے کر آ رہا ہوں۔
اللہ المصور و الخالق نے کن فیکون کے اسلوب میں آدم کو تخلیق کردیا۔ تاہم نسل آدمی ک پرورش و پرداخت، فروغ و وسعت کے لئے”زوجین“ کا طبعی اصول وضوع کر دیا۔ یعنی ہر شے کو نر اور مادہ کے جوڑے کے ساتھ بنایا۔ یہ اسباب و علل کے قوانین پر عمل کریں گے تو نیا انسان معرض وجود میں آئے گا مگر تائید الٰہی کی شرط کے ساتھ۔
اسلام نے اپنے پیروکاروں کو اعتقادات، عبادات، ذات Self معاشرت، حکومت اور ریاست کے معاملات میں مکمل رہنمائی عطا کررکھی ہے تاہم گاہے غیر متبدل اصولوں کی صورت میں اور گاہے تفصیلات و جزئیات سمیت، مثال کے طورپر طہارت ووضو، صفائی وغیرہ کی ہدایات پوری جزئیات و تفصیلات کے ساتھ دے دی گئیں۔ تاہم طرز و طریق حکومت بابت فقط چند بنیادی اور غیر متبدل اصول دیئے گئے یعنی عدل و احسان اور شوری بینھم یعنی باہمی مشاورت۔ اس کے بعد تفصیلات بابت حکیمانہ خاموشی برتی گئی۔ کیوں؟ اس اہم بات میں ہم انشاءاللہ اپنی اگلی فکری صحبت میں مکالمہ کریں گے۔

You might also like More from author