بھٹو کی پھانسی (آخری قسط) غیر ملکی قیافہ شناس حسینہ کا کردار آہ ! وہ آدھے سچ کا سورج

کچھ دنوں پہلے اپنے سابقہ ممدوح اور ایک معین مفہوم میں عشرہ60کے اوآخر اور70کے شروع کے دور کے اپنے ہیرو جناب بھٹو کی بابت کوئی تحریر پڑھ رہا تھا تو ان کی پھانسی سے جڑے کئی واقعات دھندلے سے فلیش بیک کی طرح میری لوح یاداشت پر ابھر آئے۔ سوچا انہیںضبط تحریر میں لایا جانا چاہئے مگر واقعات کی ترتیب اور صحت کے لئے درکار دستاویزی حوالوں کی عدم موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔ وقت کی کمی بھی حارج تھی۔ لمحے بھر کے لئے اس موضوع کو ملتوی کرنے کا سوچا مگر پھر خیال آیا کہ اس واقعے کو تصحیح کی گنجائش کے ساتھ” تاریخ کے خام مال“ کے طور پر قارئین کے حضور پیش کر دیا جانا چائیے۔ ہو سکتا ہے یہ واقعہ آنے والے مورخ کے کسی کام آسکے۔
تو میری یاد داشت کی رُو سے اس تحریر کے آغاز میں جس واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے وہ 3اپریل1979کی شام راولپنڈی میں رونما ہوا تھا، جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا ہے ریجینا یوسف صدر ضیاءالحق اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں بڑے پرجوش انداز میں تعریفی کلمات اور ادا کرتی رہی تھیں۔ مگر میں نے اس طرز تکلم اور شینگی کو آداب مہمانی کا حصہ ہی جانا۔ اس کی تہہ میں مہمان اور میزبان کے مابین استوار” پیش بینی“ کا کوئی پوشیدہ رشتہ و تعلق بھی ہو سکتا تھا اس کا مجھے کوئی وہم وگماں تک نہ تھا۔
مجھے یوں لگتا ہے 3اپریل1979کی شام بھٹو کی زندگی و موت کے حتمی فیصلے میں مہمان خاتون کی پیشگوئی ضرور اثر انداز ہوئی ہوگی۔ ضیا الحق کے بارے میں یہ روائت سننے کو ملتی ہے کہ پیروں فقیروں ، دست شناسوں اور قسمت کا حال بتانے والوں سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی۔ اسلام آباد کے بابا عنائت شاہ نے جب 8-8-88کے دن کے بارے میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ اس روز چار ایک جیسے ہندسوں کا ملاپ اور اجتماع سربراہ مملکت کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے تو روائت کے مطابق ضیا الحق اس روز روائتی طریق سفر ترک کرتے ہوئے بذریعہ ہیلی کاپٹر آرمی ہاو¿س راولپنڈی سے ایوان صدر اسلام آباد تک آئے تھے۔ وہ دن بخریت گزر گیا تو رات گئے ضیا الحق نے اپنے بعض بے تکلف دوشتوں کو قہقہہ بار انداز میں مجذوب بابے عنائت شاہ کی پیشگوئی غلط ثابت ہونے اور خطرہ ٹل جانے کی خوشخبری سنائی تھی۔ مگر اس کے ٹھیک9روز بعد ضیا الحق17-8-88کو طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ اس پر بابا عنائت شاہ نے اپنی پیشگوئی کی اصابت پر اصرار کیا اور دعویٰ کیا کہ علم اعداد میں17کے ہندسے کا مطلب ایک جمع سات مساوی آٹھ ہوتا ہے۔ گویا ضیا الحق پر ایک جیسے چار ہندسوں کا اجتماع بہت مہلک ثابت ہوا۔
قوموں کی زندگی میں بعض اوقات معمولی واقعات بھی بڑے نتائج کا موجب بن جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے بھٹو کی زندگی اور موت کے بارے میں شدید باطنی و خارجی دباو¿، کچھاو¿ اور تناو¿ سے دوچار ضیاالحق کے رُوبَرو ان کی زندگی کے کٹھن ترین فیصلے سے پہلے ایک پیشگوئی کرنے والی خاتون اگر بھٹو کے حق میں ایک ہلکا سا اشارہ بھی کر جاتی تو شائد آج ملک کی تاریخ اور تقدیر بہت مختلف ہوتی۔
مگر نہیںمیرے اندر سے آواز آئی۔
ایک کیا لاکھوں پیشگوئیاں بھی بھٹو کا کچھ نہ بگاڑ سکتیں بشرطیکہ؟
اس نے لوکاٹی سے کیا گیا وعدہ نبھایا ہوتا، اس کے خوابوں میں رنگ بھرے ہوتے، وڈیرہ شاہی سے اپنا طبقاتی تعلق توڑ لیا ہوتا، خود کو آدھی سچائی کا سورج نہ رہنے دیا ہوتا اور اس کی پارٹی کے پاس وہ میکانزم موجود ہوتا کہ جو کروڑوں دلوں میں موجزن اس کے عشق کو لاوے کی شکل میں ڈھال کر پوری سرزمین پر پھیلا دیتا۔
اگر ایسا ہوتا تو کم ازکم پھانسی کے حوالے سے 4اپریل1979بھٹو کا یوم جدائی نہ ٹھہرتا۔
بھٹو کی موت سے میری اپنی ذات کا اتنا حصہ بھی پھانسی گھاٹ کی نذر ہو گیا جسے آدھی سچائی کے اس سورج نے اپنی روشنی سے سینچا تھا۔
میرے دیس میں، ہماری لوکاٹی میں پوری سچائی کا، پوری روشنی کا مطلوب سورج کب طلوع ہوگا؟ میرا وجدان کہتا ہے جلد یا بدیر، اس سورج کا طلوع ہی ہمارا نصیبہ ہے۔۔۔۔

You might also like More from author