ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

کوئی شخص ایک ہی دریا میں کبھی دو مرتبہ پاو¿ں نہیں ڈال سکتا کہ دریا کا پانی مسلسل بہتا رہتا ہے ، اور دریا ہر لحظ نیا ہوتا ہے۔
تم اس وقت وہ نہیں ہو نیم ساعت پہلے اپنی محبوبہ کو خدا حافظ کہتے وقت تھے کہ اب تمہارے ساتھ ایک نیا تجربہ اور ایک نیا دکھ بھی ہے ، محبوبہ کی جدائی کا دکھ،
وقت خلیج بن کر بیچ میں حائل ہو جاتا ہے۔ شخصیت کا ارتقا مختلف طریق پر ہوتا ہے۔ کوئی قدر مستقل نہیں رہتی۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں اس ایک حقیقت مسلمہ کا اظہار کرتا چلوں۔ اور وہ یہ کہ اسلامی و قرآنی نظریہ حیات کے تحت اس کائنات، ہماری زندگی اور اس کے معمولات کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکت اہے ۔ ایک وہ اقدار اور معیارات جو غیر متبدل ہیں۔ یعنی حق، سچ توحید الیٰ اور ختمِ نبوت۔ عدل و احسان، توازن ، تناسب، اعتدال ، طہارت پاکیزگی اور شرم و حیا کی اقدار و معیار تاقیامت برقرار رہیں گے۔
اس غیر متبدل نظام اقدار کے پہلو بہ پہلو ایک دوسرا نظام ارتقاءبھی جاری و ساری ہے۔ جو سماج میں تہذیبی ، ثقافتی، دستکاری، زرعی، صنعتی وتجارتی ترقی و فروغ کے ساتھ ساتھ نت نئی شکلیں، جہتیں اور پرتیں اختیار کرتا رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ سے ہی دی جا سکتی ہے۔
میرا اللہ سوہنا قرآن حکیم کی صورہ انفال میں ارشاد فرماتا ہے کہ تم اپنے تھانوں پر گھوڑوں کو بالکل تیار اور توانا و چوبند رکھو۔ کیوں؟ تا کہ دشمن ان کی ہیبت سے ہی خوفزدہ ہو کر جنگ سے باز آجائے۔ اب اگر ہم اللہ کریم کی اسی ہدایت و حکم کو آج کے جدید ترقی یافتہ دور پر منطبق کریں تو ہمیں گھوڑوں کے ساتھ اپنے جدید ترین زمینی وفضائی ہتھیاروں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ مثلاً آپ یہاں جے ایف17تھنڈر کی مثال دے سکتے ہیں۔ قرآنی اصول یعنی یہ کہ آپ اپنی جنگی تیاریاں بھرپور رکھو۔ جنگی تیاری کا اصول بالذات اور غیر متبدل ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ گھوڑوں کی جگہ ٹینک، بکتر بند جنگی گاڑیاں بھی جہاز اور لڑاکا طیارے شامل جنگی سازوسامان ہوتے رہیں گے۔
یہاں میں ایک اور مثال دینا چاہوں گا۔ مسلمانوں پر ادائے زکوٰة فرض کر دی گئی ہے۔ جناب ابوبکر ؓ کے عہد خلاف میں جب چند فتنہ گروں نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا تو آپ نے تلوار سونت لی اور ان عناصر کی سرکوبی کا فیصلہ کر لیا۔
حضرت عثمانؓ کے دور مبارک آنے تک مسلمانوں کی معیشت اسقدر پھل پھول گئی اور اسلامی ریاست میں عام شہریوں کی خشحالی کا یہ عالم ہو گیا کہ زکوٰة دینے والے تو تھے مگر لینے والا کوئی نہ تھا۔ آپ اس مثال سے مطلب ہرگز اخذ نہ کیجئے کہ اس سے ادائے زکوٰة کی لازمی ادائیگی بدستور موجود و برقرار رہی۔ ہاں البتہ یہ ایک الگ معاملہ ہوا تھا کہ فروغ معیشت کے سبب سے زکوٰة لینے والا کوئی موجود نہ رہا تھا۔
اب تک یہی حقائق ۔ مسلمہ طور پر سامنے آچکے ہیںکہ جن مستقل بالذات اقدار و اصولوں کو اللہ کریم نے واضح حکم دے دیا ہے ان میں قیامت تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ البتہ صنعتی، تجارتی اور ثقافتی ۔ ارتقاءکے نتیجے میں مستقل اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے ہر دور کے ترقی پذیرمعیارات کو اپنایا جا سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے مستقل اسلامی اقدار کی نفی نہ ہوتی ہو۔
اس ضمن میں ایک اور مثال دی جا سکتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ باجماعت اور بروقت نماز ادا کی جائے۔ یعنی ترجیحی طور پر مسجد میں اب یہ اصول تا قیامت برقرار رہے گا۔ البتہ مساجد کا اندرونی ماحول وقت کے ساتھ تغیر پذیر(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر30
ہو سکتا ہے۔ قرون اولی کی طرح اب مساجد میںکھجور کے پتوںکی بجائے سیمنٹ کا فرش دریاں اور قالین نظر آتے ہیں۔ بجلی کی روشنی ، لاو¿ڈسپیکر اور ایئر کنڈیشنز نصب ہو چکے ہیں۔ بس یہی وہ فرق ہے جس کے حوالے س کالم کا عنوان رکھا گیا ہے۔ ”ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں (جاری)

You might also like More from author