درِ دنیا پر عذاب و عتاب کی للکار و پھنکار

اب تو باز آ جاو¿

سب ٹھا ٹھ پڑا رہ جائے گا۔
جب لاد چلا جائے گا بنجارہ
رواں حالات کے تناظر میں اس شعر سے آغاز کلام و کالم سے ممکن ہے میرے محترم و مکرم قارئین اس گمان میں مبتلا ہو جائیں کہ مجھ جیسا قلم کارجو ہمیشہ سی ہی رجائیت اور رحمت الٰہی سے شراربور رہتا ہے آج یاسیت و قنوطیت کی باتیں کیوں کرنے لگا ہے۔
بہتر ہے میں آغاز میں ہی اس تاثر کو زائل کرتا چلوں کہ بخدا اپنے اللہ سوہنے کی عطا کردہ توفیق سے میں آج بھی اپنے رحیم و کریم رب عظیم کی رحمت سے جڑا ہوا ہوں۔ کرونا وائرس ہو یا کوئی دوسرا عذاب مجھے اپنے اللہ کے فضل و کرم سے لمحے بھر کیلئے مایوس نہیں کرپاتا۔
ہاں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کی تمام تر رعنائیوں، شادابیوں اور آبادیوں سے جڑت رکھنے کے باوجود یہ فقیر موت جیسی ابدی حقیقت کولمحے بھر کے لئے بھی فراموش نہیں کر کتا۔ ہمارا تو المیہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہر طرح کی منصوبہ بندی اور پلاننگ کرتے ہیں مگر اس میں اس زندگی کی حفاظت کرنے والی موت کو ہرگز شامل نہیں کرتے۔
ذرا غور کیجئے اگر ہم زندگی کی نوع بنوع ہمہ ہمی میں موت جیسی حقیقت کو یاد رکھیں تو ہمارے معمولات کس قدر اجلے ہو جائیں۔ جب ایک انسان کو اس حقیقت کا ہمہ وقت ادراک میسر رہے کہ وہ زندگی میں جوکچھ کر رہا ہے اس کا انجام کارآخر کو موت ہی ہے تو وہ جرائم اور گناہوں کی دلدل سے غیر معمولی حدتک محفوظ رہ سکتا ہے۔ سو یہی وہ لازوال ابدی حقیقت ہے جس کا اظہار اس مکالمے کے آغاز میں اس اکھان سے ہوتی ہے۔
سب ٹھا پڑا رہ جائے گا
جب لاد چلا جائے گا بنجارہ
ان دنوں کرونا وائرس یا Covid 19 کے نام سے جو عالمگیر موذی وبا کرہ ارض پر دندناتی پھر رہی ہے۔ وہ در حقیقت ایک زبردست انتباہ اور وارننگ ہے میرے اللہ سوہنے کی طرف سے ان کے لئے جنہوں نے کرہ ارض پر اپنے خالق کے عطا کردہ فرامین کو پس پشت ڈال کر شیطنت صفتی سے رشتہ و تعلق جوڑ رکھا ہے۔ دنیا کو ”میری اور تیری“ کمزور اور طاقتور، غریب اور امیر کی تقسیم میں پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ سرکار علی کرم اللہ کا قول زریں ہے کہ معاشرے کفر پر تو قائم رہ سکتے ہیں، ظلم پر نہیں۔ لکھوکھا سال کی انسانی تاریخ اس حققت ثابتہ کی شاہد ہے اور آج کا نسان تو کئی اعتبار سے ظلم و ستم اور شیطنت صفتی پر غیر معمولی حد تک ہر سطح کی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی ناانصافی اور ظلم کا مرتکب ہو چکا ہے۔ کتاب میں ہے کہ کچھ اسی نوع کے ظلم و ستم اور انتہا پسندی اور اللہ کریم بستیوں پر اپنے انتباہی اقدام اور عذاب اتارتا رہتا ہے۔ جو گاہے قحط، سیلاب، آسمانی آفات، ٹڈی دل کے حملوں یا پھر ڈر اور خوف کے لباس کی صورت میں ہوتے ہیں۔ ہم اگر اپنے گردو پیش ایک طائرانہ نظر ہی ڈال لیں تو ہمیں کرہ ارض پر ہر جگہ انسانیت مرغ بسمل بنی تڑپتی اور پھڑکتی ملے گی۔ سماج کے طاقتور طبقوں نے کمزور، لاغر اور پسماندہ لوگوں کو اپنے ذاتی مفادات کا غلام اور اسیر بنار رکھا ہے۔ آج لیبیا، شام، یمن اور مصر کے حالات کا جائزہ لے لیجئے۔ اپنے ہمسایے بھارت کو دیکھ لیجئے۔ جہاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور جبر و قہر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اور پچھلے سال 5اگست سے آج تک یعنی 8مہینوں سے ظلم و شاتم موذی مودی نے نہتے کشمیریوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کررکھا ہے۔ اورکرہ ارض پر پاکستان ترکی یا ایک آ دھ دوسرے ملک کے سوا ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔ قوموں معاشروں اور ملکوں کا معیار عدل محض و محض اپنے مفادات کا اسیر ہو کررہ چکا ہے۔ اور پھر اگر ہر معاشرے قوم اور ملک کے اندر جھانکیں تو ہر سو ظلم و ستم، جبر و قہر اور لوٹ کھسوٹ  کے بازار ملتے ہیں۔
دورنہ جایئے خود ہمارے اپنے ہاں نفسا نفسی کا عجب پاکھنڈ لگا ہوا۔ ٹھگی، نوسربازی، ٹکے ماری، مکاری، چالاکی اور عیاری روز مرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ کرپشن سکہ رائج الوقت بن چکا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں جاینئے کہ انسانیت کارواں رخمی ہو چکا ہے اور مسیحا کو سمجھ نہیں آتی کہ زخموں کی بھرمار کے سامنے اس کے پاس مرہم کی تعداد بہت کم ہے۔ تبھی تو وہ پکار اٹھتا ہے کہ
پنبہ پنبہ کجا فہم
دل ہمہ چاک چاک شد
یعنی دل تو جگہ جگہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے۔ مرہم اور پھاہا کہاں کہاں رکھا جائے۔
پر اس سب ناگفتہ بہ صورتحال کے باوجود میرا یقین اور ایمان ہے کہ میرے مولا کریم کی رحمت و برکت کا فیضان موجود ہے۔ اور وہ عمران خان جیسے بطل جلیل اور رجل رشید کے ذریعے اہل پاکستان کو خود پاکستان کو ریاست میدنہ کی نعمت و برکت سے ضرور نواز کر رہے گا۔ انشاءاللہ

You might also like More from author