کورونا کلچر کی کچرا کُنڈی

کیا ہم ایک بری پود چھوڑ کر جائیں گے؟

توجہ ، تدبر، تفکر اور تعفل کا طالب

مشق شروع کیجئے فی الوقت یہ سطور حاضر خدمت ہیں

” ہمارے بزرگوں جا دور، ہمارے اجداد کے زمانے سے بدتر تھا، ہم ان کے فرزند ان سے کہیں بڑھ کے نکمے اور بے مول ہیں، لہٰذا اپنی باری پر ہم دنیا کو اس سے بھی بری اور بد عنوان پود سونپ کر جائیں گے“۔

جی جناب کہئے اوپر درج یہ چند سطریں کیسی لگیں، بے توجہی اور سرسری انداز سے پڑھئے تو یہ حروف ابجد کے جنجال سے زیادہ کچھ نہیں نظر آئیں گی۔ پر اگر آپ نے اس فقیر کی درخواست پر ان سطور کو توجہ ، تدبر، تفکر اور تعقل کے آلات سے پڑھا اور دیکھا ہوگا تو آپ نے یقینا محسوس کیا ہوگا کہ آپ نے سطریں نہیں پڑھیں بلکہ بارودی سرنگوں کا سامنا کیا ہے ایسی بارودی سرنگیں جو آنکھوں اور سوچوں کے راستے آپ کے پورے وجود کو بھسم کر دینے پرتُلی نظر آئیں گی۔ اور آپ سمجھو ذرا اور توجہ دیں گے تو آپ کو ان میں ہماری اپنی سوسائٹی کی اجتماعی تصویر نظر آئے گی۔ تہذیبی آشوب اور اخلاقی گراوٹ سے لتھڑی ہوئی۔ دعوی مسلمانی کا مگر اسلام سے تعلق فقط کلام اور طعام تک، نظام سے سراسر بیگانہ ۔ دعوی ایک اللہ اور ایک رسول کو ماننے کا مگر عمل یہ کہ اللہ اور رسول کی ایک نہیں مانتے۔ بات بات پر حضرت عمر فاروقؓ کا حوالہ۔ مگر عمل میں اس سے یکسر جداگانہ، اگر بغور دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے عمر کا نام اپنا لیا جبکہ عمر کا کام غیروں نے سنبھال لیا۔ ملاحظہ کیجئے یورپ اور سکینڈے نیویاکے ممالک کا معاشرتی و معاشی ڈھانچہ۔ جہاں حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں رائج کئے گئے فلاحی اقدامات پر بھرپور عمل ہو رہا ہے۔ کینڈا میں تو ایسے کئی فلاحی منصوبوں اور قوانین کو معنون ہی حضرت عمر ؓ سے کیا گیا ہے۔

اب آئیے آج کے درپیش سب سے مہلک وباءکورونا وائرس کی طرف۔ جس کے حوالے سے ہمارا قومی بیانیہ اور ذہنی رویہ انتہائی منافقانہ اور بچگانہ ہے۔ باوجود یہ کہ حکومت اور ریاستی ادارے جب عمران خان کی فعال قیادت اور سربراہی میں اس موذی مرض کے تدارک، بچاو¿ اور علاج معالجے کے لئے تمام تر سرکاری و سائل مختص کئے ہوئے ہیں مگر اس کے باوصف ہماری آشوبی اپوزیشن کا نون غنہ حصہ بلا جواز حکومت حکومتی اقدامات پر الزام، دشنام اور اتہام کا کی قوالی الاپے جا رہا ہے۔ بلا سوچے سمجھے ہر حکومتی اصلاحی اقدام کو تنقیص کی سانی پر چڑھا کر میڈیا میں ہیڈ لائنز میں جگہ تو مل جاتی ہے او ر لہجے میں شدت پیدا کر کے جذباتی و وٹرز سپورٹرز سے بھی تالیاں بھی پٹوائی جا سکتی ہیں مگر اس طرح کورونا وائرس کے تدارک اور علاج معالجے کے سلسلے میں بنیادی سطح کی کوئی مثبت خدمت انجام نہیں جا سکتی۔

اس کے علاوہ اپوزیشن کے اسی حصے بابت یہ حقیقت بھی زبان زد عام ہے کہ زرداری اور جاتی عمرہ کے نام نہاد ” شرفا“ سمیت ملک بھرمیں ڈیڑھ ہزارکے لگ بھگ ایسے پارلیمانی نمائندگان موجود ہیں جو غریب عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے قومی خزانے سے سالانہ کروڑوں میں نہیں اربوں روپے کو چونا لگا رہے ہیں۔ نواز شریف،شہباز شریف اور ان کے دامادوں، بیٹوں اور بیٹیوں اور زرداری خانوادے کے ہر فرد نے قومی خزانے سے جو اربوں روپے مختلف ٹھگیوں اور نو سربازیوں کے ذریعے اینٹھے اور ان سے اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں، پلازے اور محلات خریدے۔ اگر یہ لوگ انسانیت کے ساتھ ذرہ برابر بھی رشتہ و تعلق رکھتے ہوں تو عذاب و ابتلاکی اس گھڑی میں اپنا سیاسی وجود ”زندی“ رکھنے(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر65

کے لئے کارروائی گروپ کی طرح محض حکومتی اقدامات پر تنقیص ہی نہ کرتے بلکہ لوٹ کھسوٹ کی دولت کا غالب حصہ قومی خزانے کو لوٹا دیتے یا براہ راست لاک ڈاو¿ن کے سبب سے لاکھوں بے روزگار، دہاڑی داروں کے گھروں میں راشن پانی بہم کر دیتے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ بلکہ ہو یہ رہا ہے کہ ہماری اپوزیشن سے وابستہ بہت سارے صنعت کاروں ، تاجروں ، آڑھتیوں اور دکانداروں نے بے شرمی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا دھندہ اختیار کر لیا ہے۔ ان کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ ایسا کرنے والے دراصل اپنے بھائی کا گوشت کھاتے ہیں ۔

اور یہاں آپ ایک کالم کے آغاز کی سطور پر نظر ڈال لیجئے ۔ اور دیکھئے کہ یہ سطور ہمارے لیے ہی تو نہیں لکھی گئیں۔۔۔

 

You might also like More from author