خوف کے لباس میں مبتلا دنیا

میرے باب جی میاں محمد بخش فرماتے ہیں
اصلاں نال جو نیکی کریئے
نسلاں تک نئیں بھلدے
بداصلاں نال جے نیکی کریئے
پُٹھیاں چالاں چلدے
سچ تو یہ ہے کہ یہ فقیر قومی بلکہ بین الاقوامی اور عالمی وبا کے اس موسم میں میدان سیاست کی غلاظتوں سے صرف نظر کئے رکھنے کا خود سے عہد کرچکا تھا مگر کیا کیجئے کہ جب غلاظت اپنے اندر کے غبار اور بخار کے سبب سے خود ہی ادھر ادھر چھینٹے اور بھبھکے اڑاتی پھر تو پھر اگلے کو اپنا بچاﺅ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔
جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے میں یقین ہے کہ اپنے تمام تر بشریٰ تقاضوں کے باعث خامیوں، کوتاہیوں اور کمیوں کھجیوں کے باوصف نہایت دیانت دار اور امانت دار شخص ہیں۔ اور ان کی اس شخصی خوبی کا اعتراف ان کے کٹر دشمن تک کھلے بندوں کرتے ہیں، مگر اس حقیت کو کور چشمی کے عارضے میں مبتلا ہماری اپوزیشن بطور خاص نون غنے
دیکھ نہیں پاتے یا دیکھتے ہیں تو اعتراف کی ہمت نہیں رکھتے۔
کون نہیں جانتا کہ جس وقت حکومت پاکستان عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں عالمی وبا کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سو سو تدابیر اختیار کر رہی تھیں تب نون غنوں کے نام نہاد رہنما از قسم شوباز اور نواز نا شریف اپنے آقاو¿ں کی ہدایات کے تحت ” لندن پلان“ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عمران حکومت ہی نہیں ریاست پاکستان کے مفادات کے خلاف نوع بنو سازشوں پر عمل پیرا تھے۔
اور اب کہ ملک ایک کورونا وائرس کے عنوان سے ایک بڑے عذاب سے دوچار ہے شوباز نے پاکستان واپسی کا سفر اختیار کیا اور آتے ہی اب تک عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں کورونا وائرس کے تدارک اور بچاو¿ کی جو تدابیر روبہ عمل تھیں ان میں کیڑے ڈالنے شروع کر دیئے۔ کبھی تفتان بارڈر سے پاکستان واپس آنے والے زائرین کے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور گاہے پورے ملک کو ”سماجی فاصلے “ کی راہ پر ڈالنے یا لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے عوام میں غلط فہمیاں پروان چڑھائی گئیں۔ یہاں تک کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے پارلیمانی لیڈروں کی جو بیٹھک بلائی گئی تھی اور جس میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی دوسری گونا گوں مصروفیات کے باوجود صرف اس شرط پر شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی، اور وہ اپنی تقریر کے بعد طے شدہ شیڈول کے مطابق واپس چلے گئے تو اس پر شوباز اور زرداری زادے نے بلا وجہ اس بیٹھک کا بائیکا ٹ کر دیا۔ اور یوں ابھی تک یہ دونوں سیاسی گرگے کورونا وائر س کے حوالے سے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کا جو ناٹک چائے ہوئے تھے وہ سب کچھ ٹیں ٹیں فش ہو کر رہ گیا۔
میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ قومی وبا کے دنوں میں میری ترجیح ہوگی کہ اگر کوئی بڑی مجبوری دامن گیر نہ ہوگئی ہو تو خود کو سیاسی غلاظت سے دور ہی رکھوں گا۔ سو اپوزیشن کے اس ایک مکروہ دھندے کا پردہ چاک کر دینے کے بعد میں دوسرے موضوع کی طرف آتا ہوں۔
قارئین کرام، کورونا وائرس سے بچاو¿ کے ایک ناگزیر عمل یعنی ”سماجی فاصلے“ کی روشنی میں الاخبار پر جن تین دنوں میںمنصہ شہود پر نہ آیا تو اس فقیر نے اس کمی کو دور کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا رخ اختیار کئے رکھا۔ اور کتاب چہرہ یعنی فیس بک اور وٹس ایپ وغیرہ کے توسط سے اپنے قارئین کرام کے ساتھ اختصاریہ نما مکالمہ برقرار رکھا ۔ چند جھلکیاں آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
کورونا وائرس کے حوالے سے یہ مختصر مکالمہ کچھ یوں تھا۔
جو محدود وہ محفوظ
پاکستانیو! ڈرنا نہیں لڑنا ہے
ذرا سوچئیے میرا اللہ سوہنا قوموں کو خوف کا لباس کب اور کیوں پنہا دکا کرتا ہے ۔
کورونا وائرس کی برائی میں موجود خیر مستور کا کھوج لگائیے۔ لاک ڈاو¿ن سے فائدہ اٹھائیے۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ کیجئے، اور اپنے باطن اور دل کا سفر اختیار کیجئے۔ اپنے آپ سے ملاقات کیجئے۔ اپنے آپ سے باتیں کیجئے۔ پھر دیکھئے آپ پر آپ کا اپنا آ کیا کیا حقیقتیں کھول کر رکھ دیتا ہے۔
کاش بلاول ہاو¿س جاتی عمرہ اور دوسرے محلات کے مکین کورونا وائرس کے قومی المیے سے نمٹنے کے لئے لوٹ کھسوٹ کی دولت قومی خزانے میں جمع کرادیں۔
7´24/چینلز پر براجمان اینکرز ۔۔ عہداروں کا نیا مافیا
کائنات کی حقیقی میگا سپر پاور کی چال نے کرہ ارض کی نام نہاد سپر پاورز ” کو بھیگی بل بنا کر رکھ دیا۔ سوچئیے کیوں؟؟؟؟

You might also like More from author