اندلس کی تاریخ پاکستان میں دہرائی نہیں جانی چاہئے

 اسرائیل کی مثال سامنے رکھئے۔۔۔۔۔)آخری حصہ(

قائداعظم ؒ کے اندیشے غلط ثابت نہیں ہوئے ۔ 1973ءکے آئین کے ذریعے پاکستان پر ایک ایسا نظام مسلط ہوچکا ہے جو ایک طرف تو مملکت ِپاکستان کی فکری اساس کی اور دوسری طرف اہل ِپاکستان کی قومی شناخت کی نفی کرتا ہے۔ دنیا کی تمام حقیقی جمہوریتوں میں چیف ایگزیکٹو کا انتخاب براہ راست عوام کرتے ہیں۔ اگر نظام پارلیمانی بھی ہو تو بھی ووٹر جب اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے نکلتے ہیں تو ان کے ذہن میں اس شخص کا نام گونج رہا ہوتا ہے جس کے ہاتھوں میں وہ اپنا مستقبل اور اپنا مقدر دینے کا فیصلہ کرچکے ہوتے ہیں۔ اور یہاں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ بھارت کے علاوہ دنیا میں اور کوئی ایسی جمہوریت نہیں جو اتنی ساری لسانی و نسلی شناختوں پر مشتمل ہو جتنی شناختوں پر پاکستان مشتمل ہے ۔ اور شناختیں بھی ایسی جنہیں الگ الگ جغرافیائی حدود بھی میسر ہیں !بھارت ایک ایسا ملک ہے جو صدیوں سے قائم ہے۔ مگر ایک مملکت کا تصور بھارت میں بھی ایک دو ادوار میں ہی نظر آیا۔ صرف انگریزوں کا عہد ایسا تھا جس میں بھارت نے مکمل طور پر ” ایک مملکت “ کا درجہ حاصل کیا۔ آج اگر بھارت ایک مملکت نظرآتا ہے تو اس کا کریڈٹ اس کے جمہوری نظام کو نہیں مسلمانوں کی بھاری اکثریت کو ملنا چاہئے اور ساتھ ہی مشرق و مغرب میں قائم دو مسلمان مملکتوں کو جن کا خوف ” ہندوتوا“ کے پجاریوں کو ہمیشہ متحد رکھے گا۔

جب میں پاکستان میں علاقائیت ¾ نسلیت اور لسانیت کی بنیاد پر جد اجدا شناختوں پر بڑھتا ہوا زور دیکھتا ہوں تو مجھے بڑا ڈر لگتا ہے۔ مجھے اندلس یاد آتا ہے جہاں مسلمانوں نے سات آٹھ سو برس حکومت تو کی مگر جب وہاں طوائف الملوکی نے زور پکڑا اور اندلسگ ¾ قرطبہ اشبیلیہ ¾ طلیطلہ ¾ غرناطہ اور المریہ وغیرہ میں تقسیم ہوگیا تو وہاں مسلمانوں کے زوال بربادی اور سقوط کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔

اگر پاکستان کو ایک عظیم اسلامی وحدت اور مسلم مملکت کے طور پر ہمیشہ قائم رکھنا مقصود ہے تو ان تمام رحجانات کی بیخ کنی کرنی پڑے گی جو اسے لسانی ¾ نسلی وعلاقائی شناختوں میں منقسم دیکھنا چاہتے ہیں ¾ اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان شناختوں میں مزید اضافہ کیا جائے۔

اگر مقصود مقامی حاکمیت کے تصور کو مضبوط کرنا ہے تو پھر مملکتِ خداداد پاکستان کی تقسیم انتظامی یونٹوں میں ہونی چاہئے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہونی چاہئے کہ کوئی مقامی لیڈر ہاتھ میں بندوق پکڑ کر یہ نہ کہہ سکے کہ میں بلوچوں کے حقوق کا علمبردار ہوں یا میری ٹوپی ہی میری شناخت ہے۔

بلوچستان کے سرداروں کو بلوچستان پر حاکمیت کا حق اپنے لئے چاہئے ¾ بلوچ عوام کے لئے نہیں ¾ سندھی وڈیرے سندھی نیشنلزم کو فروغ اپنی حاکمیت قائم رکھنے کے لئے دیتے ہیں ¾سندھی عوام کے حقوق کے لئے نہیں ۔ یہی بات دیگر صوبوں کے حکمران طبقوں پر صادق آتی ہے۔

یہ درست ہے کہ عصبیت تھوڑی بہت ہم سب میں پائی جاتی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ بنی نوع انسان حقیقی معنوں میں دو طبقوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک طبقہ وہ جس کا وسائل پر قبضہ ہے۔ اور ایک طبقہ وہ جو وسائل سے محروم ہے۔ پاکستان میں جو طبقہ وسائل پر قابض ہے وہ اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے پارلیمانی جمہوریت کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے۔ اور جو طبقہ وسائل سے محروم ہے ۔اس سے کہا جاتا ہے کہ جاﺅ ہمیں ووٹ دے کر ہماری حکمرانی میں شرکت کے دعویدار بن جاﺅ۔

امراءشاہی کے اس نظام کے خلاف جلد یا بدیر پاکستان کے عوام کو ” پرچم ِبغاوت “ بلند کرنا ہوگا۔ سلطانی ءجمہور حقیقی معنوں میں یہاں اس روز نافذ ہوگی جس روز اٹھارہ کروڑ عوام میں حق رائے دہی رکھنے والا ہر فرد اپنا لیڈر براہ راست خود منتخب کرنے کے لئے ووٹ ڈالے گا۔ اور یہی عمل جب پاکستان کے تمام انتظامی یونٹوںمیں دہرایا جائے گا تو کسی بھی شخص کو یہ شکایت نہیں ہوگی کہ اسے حکمرانی کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔

ہمارے سامنے یہا ں امریکہ کی مثال موجود ہے۔ کانگریس کا کام وہاں صرف قانون بنانا ہے۔ اس کا حکمرانی کے عمل اور انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ اتنے بڑے ملک کی انتظامیہ میں صرف ایک عہدیدار ایسا ہے جسے عوام نے منتخب کیا ہے۔ اور اس کا نام ہے اوباما !

آخر میں میں پھر اس حقیقت کی نشاندہی پورا زور لگا کر کروں گا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ایسے نظام کے تحت قائم ہونی چاہئے جس میں علاقائی اور نسلی شناختوں کا جغرافیائی وجود کوئی نہ ہو۔ ہمارے سامنے اسرائیل کی مثال موجود ہے۔

)یہ کالم اس پہلے 10-04-2011کو شائع ہوا تھا(

 

You might also like More from author