سکے کو کھڑا کرنے کے لئے کسی تیسرے کو میدان عمل میں اترنا پڑے گا 08-01-2010

میاں نوازشریف اور صدر آصف علی زرداری تقریباً بیک وقت ”عوامی“ سیاست کرنے کے لئے اپنی ”قلعہ بندیوں“ میں سے باہر نکلے ہیں۔ صدر زرداری اس لئے باہر نکلے ہیں کہ انہیں عدلیہ کے 16دسمبر2009ء کے فیصلے کے بعد فضاؤں سے سازشوں کی بو آرہی ہے۔ این آر او کے سپرد خاک ہونے کے بعد صدر زرداری اپنے ”صدارتی منصب“ کو زیادہ مضبوط و محفوظ محسوس نہیں کررہے اور انہیں خدشہ ہے کہ سپریم کورٹ سے جو اگلا فیصلہ آئے گا اس پر عملدرآمد کرنے کا مطلب ”منصب صدارت“ کو الوداع کہنا بھی ہو سکتا ہے۔ اور زرداری صاحب اب یہ اظہار برملا کررہے ہیں کہ یا تو وہ ”ایوان صدارت“ میں رہیں گے یا جیل جائیں گے۔ تیسرا کوئی راستہ نہیں۔ مطلب اس بات کا یہ ہوا کہ وہ ایسے کسی فیصلے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں جو انہیں ”منصب صدارت“ سے منسلک اختیار اور تحفظ سے محروم کردے۔ گویا وہ اس نوعیت کے ہر فیصلے سے ٹکرائیں گے۔ حکومت چونکہ ان کی اپنی ہے اس لئے عدلیہ کے سامنے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کا واحد راستہ ”فوج کی امداد“ طلب کرنا رہ جائے گا۔ جب زرداری صاحب ”جیل“ میں جانے کے واحد دوسرے آپشن کی بات کرتے ہیں تو وہ یہ حقیقت سمجھ کر کرتے ہیں کہ صرف فوج ہی انہیں وہاں پہنچا سکتی ہے)ان کی اپنی حکومت نہیں (
یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی کبھی بالواسط طور پر اور کبھی کبھی براہ راست فوج کو للکارے چلے جارہے ہیں۔ اپنی اس للکار میں زور پیدا کرنے کے لئے انہوں نے اپنے خاص ”جاں نثاروں“ کو جارحانہ بیانات دینے کی ہدایات بھی جاری کر رکھی ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا،جناب سلمان تاثیر اور راجہ ریاض کے دھواں دار بیانات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
دوسری طرف میاں صاحب بھی عدلیہ کی حمایت میں فوج کی ممکنہ مداخلت کو اپنے لئے خوش آئند بات نہیں سمجھتے۔ انہیں ڈر ہے کہ اقتدار کا پکا ہوا پھل ان کی جھولی میں گرنے کی بجائے کہیں ادھرادھر نہ گرے اور ایسے لوگ اسے دبوچ نہ لیں جو اس وقت نظر تو نہیں آرہے مگر موجود ضرور ہوں گے۔اگر میاں صاحب کے لب و لہجے اور بیانات کو غور سے پڑھا اور پرکھا جائے تو یہ جاننا مشکل نظر آتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ اس بات پر پورا زور دیتے نظر آرہے ہیں کہ وہ جمہوریت کا تحفظ تو ضرور کریں گے لیکن کرپشن کا ساتھ نہیں دیں گے۔ لیکن وہ یہ واضح نہیں کرپا رہے کہ وہ ان دو ”متحارب“ مقاصد کی بیک وقت تکمیل کیسے کریں گے۔ وہ پورا زور لگا کر بھی ابھی تک 17ویں ترمیم ختم نہیں کراسکے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدر زرداری بظاہر کچھ بھی کہیں بباطن اس بات کے لئے بالکل تیار نہیں کہ اپنے ہاتھ کاٹ کر طشتری میں اپنے مخالفوں کو پیش کردیں۔ کون نہیں سمجھتا کہ ایک 27رکنی کمیٹی کا بیٹھنا واضح طور پر ایک ناممکن بات کو ممکن بات بنانے کی سعی کرنا ہے۔ 27افراد کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے ”عمر خضر“ چاہئے۔
مجھے یہاں ایک مثال یاد آرہی ہے۔ ہوسٹل میں دو دوست اکٹھے رہتے تھے۔ ایک رات ایک نے کہا کہ ہم ٹاس کرتے ہیں ٗ اگر ”ہیڈ“ ہوا تو فلم دیکھنے جائیں گے، اگر ”ٹیل“ ہوئی تو آرام سے سوئیں گے۔ اور اگر سکہ کھڑا ہوگیا تو دل لگا کر پڑھیں گے۔
سکہ کھڑا ہوگا تو سترہویں ترمیم جائے گی۔اور یہ بات میاں نوازشریف بھی جانتے ہیں؟
پھر اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
سکے کو کھڑا کرنے کے لئے کسی تیسرے کومیدان عمل میں اترنا پڑے گا۔
میرے حقیر خیال میں اب وقت اقتدار کی تقسیم کے کسی فارمولے پر عملدرآمد کرنے یا کرانے کا نہیں،ملک و قوم کو صحیح سمت میں چلنے کے لئے ایک ”فعال اور غیر منقسم“ قیادت فراہم کرنے کا ہے۔
اور یہ بات مجھے اب بالکل ممکن نظر آرہی ہے۔
کیسے؟
یہ شاید چند ہفتوں میں واضح ہوجائے۔۔۔

Scroll To Top