کیمیائی مصنوعات سے فرش کی صفائی ، بچوں میں دمے کی وجہ قرار

رش صاف کرنے والے کیمیائی اجزا بچوں میں سانس کے امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کینیڈا: کینیڈا میں کئے گئے ایک طویل سروے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اگر گھر کے فرش کو بار بار کیمیکل اور دیگر خوشبودار مائعات سے صاف کیا جائے تو اس سے فرش پر کھیلنے والے بچے دمے کے مریض بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی تین برسوں میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس دوران ان کےپھیپھڑے اور نظامِ تنفس تشکیل پارہاہوتا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے مشورہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے فرش صاف رکھنے کے لیے فینائل اور دیگر جراثیم کش ادویہ کا پونچھا لگانے میں احتیاط کریں۔

سائمن فریزر یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ٹِم ٹکارو نے کہا ہے کہ اس سے قبل ثابت ہوچکا ہے کہ کیمیکل سے فرش کی صفائی اور بڑی عمر کے افراد میں دمے کے درمیان تعلق ہے۔ ایسے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو اپنا 80 سے 90 فیصد وقت کیمیکل سے بھرے ماحول میں گزارتے ہیں۔ اس سے وہ لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کے پھیپھڑوں اور جلد میں کیمیکل سرایت کرجاتے ہیں۔

کینیڈا میں بچوں پر تحقیق کے ایک ادارے نے 3400 بچوں کا ماں کے پیٹ سے لے کر بچپن تک جائزہ لیا اور اس کے بعد ایک اور تحقیق میں مزید 2000 بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ سروے میں والدین سے 26 مختلف کیمیائی مرکبات کے بارے میں پوچھا گیا جو بچے کے ابتدائی تین برسوں میں استعمال کئے گئے تھے۔ ان میں برتن دھونے کے صابن، سطح صاف کرنے کے اسپرے، ایئر فریشنر اور فینائل وغیرہ شامل تھے۔

سروے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر کسی گھر میں بچے کی پیدائش کے فوری بعد ہی یہ کیمیکل استعمال ہوں تو تین سال کی عمر تک بچے میں دمے یا سانس کے کسی مرض کا خطرہ 37 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ صفائی ستھرائی کے کیمیائی بخارات بچوں کے سانس کی نالی میں جاکر اوپری تہہ کو متاثر کرتے ہیں اور وہاں سوزش اور تکلیف کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اگرچہ اب تک مزید تحقیق نہیں ہوئی لیکن مشاہداتی لحاظ سے کہا جاسکتا ہےکہ کیمیکل اور بچوں میں دمے کے دوران تعلق پایا جاتا ہے۔ لیکن دو سال قبل ناروے اور اسکینڈینیویائی ممالک میں سینکڑوں اسکولوں کے ہزاروں بچوں پر ایک تفصیلی سروے کیا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ فینائل کا اندھا دھند استعمال چھوٹے بچوں میں سانس کے امراض اور دمے وغیرہ کی وجہ بن سکتا ہے۔

You might also like More from author