عالمی برادری نوٹس لے: بھارت میں نفرت انتہا پسند نظریے کا نتیجہ ہے: عمران خان

نفرت انگیز نظریے کاخاتمہ خونریزی پرہی ہوتاہے، دنیا کوڈرانہیں رہا حالات سے آگاہ کررہا ہوں،عا لمی برادری نے نوٹس نہ لیا تو بہت براہوگا،گزشتہ20 سال پاکستان کے عوام کیلئے مشکل رہے

اسلام آباد (الاخبار نیوز) وزیراعظم عمران خان نےبھارت میں انتہاپسندی کامعاملہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے سامنے اٹھادیا اور کہا بھارت میں نفرت انتہاپسندنظریے کا نتیجہ ہے، نفرت انگیز نظریے کاخاتمہ خونریزی پرہی ہوتاہے، دنیا کوڈرانہیں رہا حالات سے آگاہ کررہا ہوں،عا لمی برادری نے نوٹس نہ لیا تو بہت براہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے افغان مہاجرین پرعالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا گزشتہ20 سال پاکستان کے عوام کیلئے مشکل رہے ، ہم نے کرکٹ میں افغانستان کی مدد کی، افغانستان کی انڈر19 ٹیم نے پاکستان کو ہرایا، ایک چیز میں نے سیکھی کہ دریا دلی کا کسی بینک بیلنس سے تعلق نہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو1947سےہی مہاجرین کے بڑے بحران کا سامنا رہا، مشکلات کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، مسلمانوں کی پہلی ہجرت ہمارے باہمی تعلقات کی بنیاد ہیں، حضور انسانیت کو اکٹھا کرنے میں یقین رکھتے تھے اور لوگوں کو اکٹھا کرنا ایک اچھے رہنماکی پہچان ہوتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ امیرممالک مہاجرین کے مسئلے کو تقسیم کیلئے استعمال کرتے ہیں، نائن الیون کے بعد ہمیں اسلاموفوبیا کا سامنا کرنا پڑا ، اسلام اور دہشت گردی کو ایک نظر سے دیکھاگیا اور مسلمان مہاجرین کو دیگر کی نسبت زیادہ تکالیف کا سامنا رہا۔ان کا کہنا تھا کہ یقین ہے افغان مہاجرین نے دنیا میں سب سے زیادہ تکالیف اٹھائیں، ہماری حکومت نے شروع سے ہی افغان امن کی کامیابی کیلئے بھرپور کوشش کی، پاکستان میں اب فوج اور حکومت ایک جیسی سوچ رکھتی ہے، پاکستان میں 14لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں اور دنیا میں افغان مہاجرین کو پناہ دینےوالادوسرابڑا میزبان ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں، پاکستان میں افغان مہاجرین کیلئے کیمپ موجود ہیں، مغرب میں افغانستان میں رنگ و نسل کی بنیاد پر لوگوں کو ماراپیٹا جاتاہے، افغانستان میں امن نہ ہونا ہمارے اپنے مفاد میں بھی نہیں۔عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ نے لوگوں کو بہت متاثر کیا ہے، سرحد پر باڑ غیرقانونی آمدورفت روکنے کیلئے لگارہےہیں ، افغانستان میں حملوں کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں، ہم افغان امن کی کامیابی کیلئے کوشش کرتے رہیں گے، افغانستان میں امن سےہی علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔بھارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں 2قوانین نے 20کروڑ سےزائدمسلمانوں کو متاثرکیا، مسلمان قوانین کیخلاف احتجاج کریں توکہتے ہیں پاکستان چلےجاو¿، بھارت میں نفرت شدت پسند اورانتہاپسندنظریے کا نتیجہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں پوائنٹ اسکورننگ نہیں کررہاہے،بھارت میں جو ہورہاہے اس پر فکرمند ہوں، بھارت میں سیاستدان لوگوں کو سیاست کیلئے تقسیم کررہےہیں ، بھارت میں کرکٹ کھیلی ہے وہاں کے حالات جانتا ہوں، آج کا بھارت وہ نہیں جسے میں جانتا تھا۔عمران خان نے خبردار کیا نفرت انگیز نظریے کا خاتمہ خونریزی پرہی ہوتاہے، 1930 میں نفرت انگیز نظریے کو نہ روکاجاتا تو کہیں زیادہ خون خرابہ ہوتا، دنیا کو ڈرانہیں رہا بلکہ حالات سے آگاہ کررہاہوں، عالمی برادری نے بھارت کے حالات کا نوٹس نہ لیاتو بہت برا ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ مجھے بھارت کے موجودہ حالات پر شدید تشویش ہے ، پاکستان کو 11تباہ کرنے کابیان دینےوالا وزیراعظم سمجھدار ہوسکتاہے، موجودہ بھارت گاندھی اورنہرہ کا بھارت نہیں ہے، مودی حکومت نازی ازم کے فلسفلےکو پروان چڑھا رہی ہے۔

You might also like More from author