نعیم الحق۔۔ جہد حیات میں نعمت اور حق کی علامت

ایثار، وفا، استقلال اور یقین کے جواہر میں گُندھی ہستی

 

کچھ لوگ مگر مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کا وجود منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے، پر ان کا اجلا اور تابندہ کردار روشنی اور خوشبو بن کر لوگوں کے دلوں ذہنوں ، جذبوں، ولولوں اور عملوں میں زندہ رہتا ہے ، نعیم الحق کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاو¿ں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاو¿ں گا
قبرستان موت رسیدہ افراد سے اٹے پڑے ہیں ۔ بڑے بڑے طرم خان اکڑ فوں میں یکتا، تکبر اور غرور میں بجھے ہوئے گویا زمین پر ایڑھی ماریں تو اسے پھاڑ ڈالیں یا بازو اٹھائیں تو آسمان کو دھرتی پر لا پٹخیں ، پر آج وہ منوں مٹی تلے دبے مٹی ہو چکے ہیں۔
کال پاو¿ں ایک کاسہ ءسرپر جو آگیا
یکر سر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھو کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پُر غرور تھا
اس کے برعکس مگر کچھ لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں ان کا جسم بلاشبہ منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے پر ان کا کردار خوشبو اور روشنی بن کر لوگوں کے دلوں میں ، جذبوں میں اور عملوں میںز ندہ رہتا ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ نعیم الحق بھی انہیں خوب صورت اور خوب سیرت انسانوں کے قبیلے اور خانوادے کے ایک اہم اور جاندار رکن تھے تو اس میں ہرگز کوئی مبالغہ ہوگا۔
سالہ نعیم الحق اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نرم خود انسان تھے۔ انہوں نے ابتدائی زندگی میں بنکاری کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے چنا۔ اس سلسلے میں بیرون و اندرون ملک ممتاز بنکوں میں اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔ تا ہم انسانی سرشت میں گندھا ہوا یک تخلیقی جوہر ایسا بھی ہوتا ہے جو اسے شعلہ بداماں بنائے رکھتا ہے۔ نعیم الحق بھی اسی جوہر کے شناور نکلے ۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے اندر سے آواز آئی کہ جو حق اور سط کی نعمت اللہ رحیم وکریم نے تجھے تخلیقی جوہر کی صورت و دیعت کر رکھی ہے اگر اس کے اظہار کے لئے بنکاری کا میدان محدود ہے تو پھر تو اپنے اللہ پاک کی دی ہوئی فہم و فراست کے بل بوتے پر اپنے لئے کوئی اور وسیع میدان تلاش کر لے۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب ان کے وجدان، شعور فہم و فراست، تجربے، مطالعے اور مشاہدے نے ان کے روبرو معاشرتی و معاشی تبدیلی کے عظیم مقصد کے حصول کے لئے میدان سیاست کی وسعتوں کو کھول کر رکھ دیا۔ چنانچہ ایک کامیاب بنکار اور مادی لحاظ سے مال و زر اور عزت و شہرت سے آراستہ بینکنگ کے شعبے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیبر باد کہہ و شت سیاست میں کود پڑا۔ اس سلسلے میں وہ ابتدا میں ایئر مارشل اصغر خاں مرحوم کی پارٹی پاکستان تحریک استقلال میں شامل ہوئے تاہم جب انہیں اس جماعت میں بھی اپنی جولانی طبع کی مناسب سے قدرے تنگنائی کا احساس ہوا تو پھر انہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد 1996سے2020میں اپنے دم واپسیں تک انہوں نے پیچھے مڑکر نہ دیکھا۔
پچھلے 24سال میں تحریک انصاف کی پرداخت کے دوران عمران خان اور نعیم الحق نے اپنے دیگر رفقا کے ساتھ کیا کیا، نشیب و فراز نہیں دیکھے اور کیسے کیسے دکھوں کا ذائقہ نہ چکھا یہ ایک جداگانہ واستان ہے جس کے تفصیلی بیان (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر24
کے لئے ایک دفتر درکا ہے بس یوں جانیے کہ پاکستان کو طبقہ بدمعاشیہ کے قائم کردہ ظالمانہ اور غیر عادلانہ سٹیٹس کو سے نجات دلانے اور اس کی جگہ ایک ایسی مثبت، صحت مند اور تعمیری تبدیلی لانے کا عظیم مشن اس قدر کٹھن اور دشوار گزار کام تھا جس کی شدت اور حدت کا اندازہ اور احساس فقط اسی کو ہو سکتا ہے جو اس تجربے سے گزر رہا ہوتا ہے۔
بس مختصر یوں جانیے عمران خان اور نعیم الحق صاحب جیسے عشق ومستی میں ڈوبے ہوئے مستانے اور دیوانے ہی عشق کی راہ وفا پر چلتے ہوئے آزمائش کے کٹھن امتحانوں میں سرخرو ہوا کرتے ہیں۔
ڈیڑھ سال پہلے عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے جو بے مثل جدوجہد کی اور نعیم الحق جیسے رفتا نے اپنے دوست اور قائد کی جس بے لوث انداز سے معاونت کا حق ادا کیا اس کے نتیجے میں آج پی ٹی آئی سٹیٹس کو کی کم وبیش ساری پارٹیوں کو پچھاڑ کر مسند حکومت پر آبراجمان ہوتی ہے مگر حکومت منزل نہیں حصول منزل کا ایک ذریعہ ہے اور پی ٹی آئی کو مکمل معاشرتی اور معاشی تبدیلی کے لئے ابھی بہت کام کرنا ہے ۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں(جاری ہے)

You might also like More from author