ماہرین نے کئی برس کے مطالعے کے بعد کہا ہے کہ اگر دو طرح کی ورزشیں کی جائیں تو دماغی کارکردگی بہت اچھی ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل ملبورن، آسٹریلیا: ایک سروے کے بعد ماہرین نے دو اقسام کی ورزشوں کو دماغ کے لیے بہترین قرار دیا ہے۔ یہ بات اب سائنسی لحاظ سے ثابت ہوچکی ہے کہ ورزش کئی طرح سے دماغ کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کےعلاوہ ورزش کی باقاعدہ عادت الزائیمر سمیت کئی امراض کو ٹال بھی سکتی ہے۔ اس ضمن میں ایک عرصے سے بحث جاری تھی کہ آیا وہ کونسی ورزشیں ہیں جو دماغی نشوونما، صلاحیت اور لچک (پلاسٹیسٹی) کے لیے بہت مفید ہیں۔ اب ایک چھوٹے سے مطالعے کے بعد بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کم شدت کی مسلسل ورزشیں ( یعنی ایم آئی سی ٹی) اور ہائی انٹینسٹی انٹرویل ٹریننگ (ایچ آئی آئی ٹی) دونوں ہی دماغ کے لیے بہترین ثابت ہوئی ہیں۔ یونیورسٹی ساؤتھ آسٹریلیا نے ورزشوں اور دماغی لچک کے درمیان تعلق دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذہنی لچک اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں دماغ پوری زندگی نئے سرکٹ اور روابط بناتا رہتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تندرست ہے اور اکتسابی عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ دماغی لچک ہی بہتر یادداشت، نئے علوم سیکھنے، ردِ عمل اور نئے ماحول سے سیکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ دو طرح کی ورزشیں ایسی ہیں جو دماغی لچک کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ایشلی اسمتھ اور ان کے ساتھیوں نے بعض اقسام کی ورزشوں اور ایئروبک طریقوں کو بھی آزمایا لیکن اس کے بعد ایک مطالعے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 128 تندرست افراد کو بھرتی کیا جن کی عمریں 18 سے 65 برس تھیں اور ان سے مختلف ورزشیں کروائی گئیں۔ ان میں ایم آئی سی ٹی اور ایچ آئی آئی ٹی دونوں ہی شامل تھیں۔ اس دوران ماہرین کے دماغی اسکین بھی کیے جاتے رہے یعنی ورزش سے پہلے اور بعد میں دماغی تبدیلیاں نوٹ کی گئیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ اگر 20 منٹ کی ہائی انٹینسٹی انٹرویل ٹریننگ اور 25 منٹ مسلسل معتدل ایئروبک کی ورزشوں سے دماغی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ جیسے ہی رضاکار ورزش کرکے آئے 20 منٹ تک دماغ میں لچک کی کیفیت اور سرگرمی اپنے عروج پر دیکھی گئی۔ دوسری اہم بات یہ بھی دیکھی گئی کہ ان دونوں ورزشوں کے نتیجے میں ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے مضر ہارمون کارٹیسول کی شرح بھی کم ہوئی۔ واضح رہے کہ ماڈریٹ ورزش کی فہرست میں جاگنگ، دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلانا، ہلکے انداز میں تیراکی، ٹینس اوروالی بال کھیلنا وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب ایچ آئی آئی ٹی میں رسی کودنا، کھڑے ہوکر پاؤں پشت کی جانب گھمانا، تیزی سے اٹھک بیٹھک، پش اپ، جم میں چین کھینچنا اور تیز دوڑنا شامل ہیں لیکن یہ سب عمل تیز تیز کیے جاتے ہیں۔

ماہرین نے کئی برس کے مطالعے کے بعد کہا ہے کہ اگر دو طرح کی ورزشیں کی جائیں تو دماغی کارکردگی بہت اچھی ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل

ملبورن، آسٹریلیا: ایک سروے کے بعد ماہرین نے دو اقسام کی ورزشوں کو دماغ کے لیے بہترین قرار دیا ہے۔

یہ بات اب سائنسی لحاظ سے ثابت ہوچکی ہے کہ ورزش کئی طرح سے دماغ کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کےعلاوہ ورزش کی باقاعدہ عادت الزائیمر سمیت کئی امراض کو ٹال بھی سکتی ہے۔

اس ضمن میں ایک عرصے سے بحث جاری تھی کہ آیا وہ کونسی ورزشیں ہیں جو دماغی نشوونما، صلاحیت اور لچک (پلاسٹیسٹی) کے لیے بہت مفید ہیں۔ اب ایک چھوٹے سے مطالعے کے بعد بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کم شدت کی مسلسل ورزشیں ( یعنی ایم آئی سی ٹی) اور ہائی انٹینسٹی انٹرویل ٹریننگ (ایچ آئی آئی ٹی) دونوں ہی دماغ کے لیے بہترین ثابت ہوئی ہیں۔

یونیورسٹی ساؤتھ آسٹریلیا نے ورزشوں اور دماغی لچک کے درمیان تعلق دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذہنی لچک اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں دماغ پوری زندگی نئے سرکٹ اور روابط بناتا رہتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تندرست ہے اور اکتسابی عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ دماغی لچک ہی بہتر یادداشت، نئے علوم سیکھنے، ردِ عمل اور نئے ماحول سے سیکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔

دو طرح کی ورزشیں ایسی ہیں جو دماغی لچک کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر ایشلی اسمتھ اور ان کے ساتھیوں نے بعض اقسام کی ورزشوں اور ایئروبک طریقوں کو بھی آزمایا لیکن اس کے بعد ایک مطالعے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 128 تندرست افراد کو بھرتی کیا جن کی عمریں 18 سے 65 برس تھیں اور ان سے مختلف ورزشیں کروائی گئیں۔ ان میں ایم آئی سی ٹی اور ایچ آئی آئی ٹی دونوں ہی شامل تھیں۔

اس دوران ماہرین کے دماغی اسکین بھی کیے جاتے رہے یعنی ورزش سے پہلے اور بعد میں دماغی تبدیلیاں نوٹ کی گئیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ اگر 20 منٹ کی ہائی انٹینسٹی انٹرویل ٹریننگ اور 25 منٹ مسلسل معتدل ایئروبک کی ورزشوں سے دماغی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ جیسے ہی رضاکار ورزش کرکے آئے 20 منٹ تک دماغ میں لچک کی کیفیت اور سرگرمی اپنے عروج پر دیکھی گئی۔

دوسری اہم بات یہ بھی دیکھی گئی کہ ان دونوں ورزشوں کے نتیجے میں ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے مضر ہارمون کارٹیسول کی شرح بھی کم ہوئی۔

واضح رہے کہ ماڈریٹ ورزش کی فہرست میں جاگنگ، دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلانا، ہلکے انداز میں تیراکی، ٹینس اوروالی بال کھیلنا وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب ایچ آئی آئی ٹی میں رسی کودنا، کھڑے ہوکر پاؤں پشت کی جانب گھمانا، تیزی سے اٹھک بیٹھک، پش اپ، جم میں چین کھینچنا اور تیز دوڑنا شامل ہیں لیکن یہ سب عمل تیز تیز کیے جاتے ہیں۔

You might also like More from author