اے اجل آ۔۔۔ گلے لگ جا!

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا
یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔

زندگی بڑی خوبصورت چیز ہے ۔ زندگی کے ساتھ پیار انسان کی رگ رگ اور سانس سانس میں رچا بسا ہوتا ہے۔ ایک نارمل آدمی ساری زندگی اگر کسی چیز

سے پوری توانائیوں کے ساتھ دور بھاگتا ہے تو وہ موت ہے۔ اگر کوئی خوف اسے ناقابل برداشت لگتا ہے تو وہ موت کا خوف ہوتا ہے ۔
پھر یہ لوگ کون ہیں جو مرنے کی تیاری کرکے ‘ موت کا سامان اپنے ساتھ باندھ کر اور موت سے بغلگیر ہونے کا عزم و یقین لے کر نکلا کرتے ہیں ¾ اور ایک منتخب مقام پر پہنچ کر بڑے اطمینان سے خود کو بھی ایک دھماکے کے ساتھ اڑا ڈالتے ہیں اوراپنے ساتھ کئی بے گناہوں کو بھی موت کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں ؟
کون ہوتے ہیں یہ لوگ؟
ایسا بھیانک فعل کیسے کرڈالتے ہیں ؟ ایسا دہلا دینے والا جرم کیسے ان کے ہاتھوں سرزد ہوتا ہے ؟ کیا انہیں اپنے رب کا ذرا سا بھی خوف نہیں ہوتا جس کا کہنا ہے کہ جس کے ہاتھوں ایک بے گناہ کا بھی خون ہوا وہ ساری انسانیت کا قاتل سمجھا جائے گا۔؟
کون ہوتے ہیں یہ لوگ جو موت اور خدا دونوں کا خوف دل سے نکال دیا کرتے ہیں ؟
مقبول عام تھیوری یہ ہے اور ہمارے بیشتر اکابرین اور اہل دانش اسی تھیوری کو سچ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ لوگ کمزور ذہن رکھنے والے ایسے ” ذی جان“ ہوتے ہیں جنہیں ” بعد از موت “ایسی دلکش اور پر لطف زندگی کا لالچ دے کر برین واش کردیا جاتا ہے جو حق کی راہ میں جان دینے اور شہادت پانے والوں کو ملا کرتی ہے۔
اس مقبول عام تھیوری کی جڑیں مغرب کے اس پروپیگنڈے میں پائی جاتی ہیں جو صدیوں سے اسلام کے فلسفہ شہادت کے خلاف ہوتا چلا آرہا ہے ۔ مغربی مفکرین اور اکابرین صدیوں سے ایک ہی دلیل بڑے تمسخر انہ اور تضحیک آمیز انداز میں دہراتے چلے آرہے ہیں کہ مسلمانوں کے ” شوق جہاد“اور ” جذبہ شہادت“ کے پیچھے جنت کی حوروں کے ساتھ عیش و عشرت بھری دوسری زندگی بسر کرنے کا ارمان ہوتا ہے۔
میں اس مضحکہ خیز استد لال کے جواب میں صرف اتنا کہوں گا کہ ” اسلام“ کا مطلب ہی رضائے الٰہی کے سامنے جھکنا ہے اور زندگی کو اس کا انعام سمجھ کر اور موت کو اس کی مشیت مان کر خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرنا ہے۔ موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا تصور واقعی موت کے خوف میں نمایاں کمی کردیتا ہے۔
مگر پھر بھی یہ لوگ کون ہوتے ہیں جو بعد از موت کسی بڑے انعام کی آرزو دل میں بٹھا کر اپنی ” جان“ کے ساتھ ساتھ دوسری کئی جانوں کو بھی دھماکے کے ساتھ اڑا دیا کرتے ہیں۔؟
زندہ رہنے کی آرزو ان کے اندر سے کیوں نکل جاتی ہے ؟
دوسروں کی زندگی لینے کا فیصلہ کرتے وقت انہیں خوف خدا کیوں محسوس نہیں ہوتا؟
یہ دو چار دس بیس یا پچاس ساٹھ ” خود کش حملہ آوروں“ کی بات نہیں۔ یہ ” ہلاکت آفرین سوچ“ ایک مذہب کا سا درجہ اختیار کرتی جارہی ہے جس کے پیروکار بڑی خطرناک رفتار کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
میری حقیر دانش کسی سوال کا درست جواب دینے کے قابل نہیں لیکن ایک بات میری سمجھ میں آئے بغیر نہیں رہتی۔
احترام زندگی اور احترام آدمیت کا خاتمہ آدمی کے اندر اس وقت ہوتا ہے جب ” امید“ کی ہر کرن اس کے لئے بجھ جاتی ہے اور شاہراہ زندگی پر دور دور تک اسے انصاف کی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔ جب سیلاب اور طوفان اسے اپنا ایسا مقدر دکھائی دیتے ہیں جس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ جب یہ یقین اس کے اندر راسخ ہو جاتا ہے کہ ”مرنا تو اسے بہرحال ہے ہی۔ پھر کیوں نہ ایک ” آن بان اور شان“ کے ساتھ مرا جائے؟“ جب زندہ رہ کر زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس سے باہر ہو جاتا ہے ۔ جب بے بسی کا خنجر اس کی روح میں اتر جاتا ہے اور وہ چیخ کر کہتاہے ۔
”اے اجل آ۔۔۔ گلے لگ جا!“
(یہ کالم اس سے پہلے بھی 19-07-2007کو شائع ہوا تھا)

You might also like More from author