سندھ میں بہتری لانا بلاول کا امتحان ہے

شہر قائد میں چند لمحوں میں ٹارگٹ کلنگ کے تین مختلف واقعات میں پانچ افراد کا قتل ہونا بلاشبہ تشویشناک ہے۔ گذشتہ روز ہونے والی ان کاروائیوں کا ہولناک پہلو یہ رہا کہ سب ہی کاروائیاں فرقہ وارنہ رنگ لیے ہوئے تھیں۔کراچی میں بالخصوص اور ملک بھر میںبالعموم ایسے عناصر ماضی میں بھی سرگرم رہے جو بیک وقت مختلف مسالک کے لوگوں کو نشانہ بنا کر مذہبی بنیادوں پر کشیدگی پیدا کرنے کی ناکام کوشیش کرتے رہے۔ گذشتہ سالوں میں شہر میں ٹارگٹ آپریشن کے نتیجے میں یقینا حالات بہتر ہوئے ۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کی جان ومال کو تحفظ ملا تو وہی علاقائی اور عالمی سطح پر یہ تاثر بھی ابھرا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اتینی اہلیت ضرور رکھتے ہیں کہ وہ ان مسلح گروہوںکو لگام دے ڈالیں جو کئی دہائیوں سے ریاست کی رٹ چیلنج کررہے تھے۔
اس حقیقت کو شاےد کم لوگ جانتے ہیں کہ قومی ایکشن پلان میں یہ بھی شامل تھا کہ کراچی میں قیام امن اس انداز میں بحال کیا جائے جس کی نظیر ماضی میں ملنی مشکل ہو۔ سب جانتے ہیں کہ مخصوص لسانی جماعت نے عملا شہر کو طویل عرصے سے یرغمال بنا رکھا تھا۔ ٹارگٹ کنلگ ، بھتہ خوری، قبضہ مافیا غرض کون سا ایسا سنگین جرم تھا جو شہر قائد میں دھڑلے سے نہیں ہوا۔ یہ بات بھی اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ساحلی شہر میں امن وامان بحال کرنے کے لیے عسکری قیادت پورے عزم کے ساتھ سامنے آئی جس کے بعد وفاقی حکومت نے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
کراچی میں تشدد کے حالیہ واقعات عملاًاس نظریہ پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کرگے کہ سب سے بڑے شہر میں امن وامان کی بحالی عارضی ہے۔ یعنی تادم تحریر نہ تو پولیس کو سیاسی اثر رسوخ سے آزاد کیا جاسکا اور نہ ہی صوبائی حکومت دل وجان سے اس پر تیار ہے کہ کراچی میں بہتری کے لیے ٹھوس اقدمات اٹھائے جائیں۔
یقینا وفاقی یا صوبائی حکومت کو گوارہ نہی ہونا چاہے کہ کراچی کے حالات ایک بار پھر خراب ہوجائیں۔ ملک وملت کے بدخواہ پاکستان کو بطور ریاست ان زمہ داریوں کی ادائیگی میںناکام کرنے کے درپے ہیں جن سے منہ موڈنا کسی طور پر خیر کا حامل نہیں۔یہ سمجھ لینا ہوگا کہ شہر میں جاری ٹارگٹیڈ آپریشن کو کامیاب بنانا تمام ریاستی اداروں کی مشترکہ طور پر زمہ داری ہے۔ صوبائی حکومت کو ہر قسم کی مصلحت سے پاک ہوکر ان منفی کرداروں کو انجام تک پہنچانا ہوگا جن کی موجودگی سندھ دھرتی کے لیے کسی طور پر خیر نہیں رکھتی۔
ایک خیال یہ ہے کہ ایم کیوایم لندن پھر کراچی کے حالات کو خراب کرنے کے درپے ہے ۔بعض علاقائی اور عالمی طاقتوں کے تعاون سے برطانوی شہریت کا حامل شخص درپردہ ایسی کوششوں میں مصروف ہے جو کراچی کے رہنے والوں کے امن وسکون کو برباد کرڈالے۔ روشنیوں کے دیس میں تارکیوں کی بالادستی قائم کرنے والوں کو جان لینا چاہے کہ اب امن پاکستانیوں کی خواہش نہیں ضرورت بن چکا۔ پاک چین اقتصادی راہدای کی شکل میں جو موقعہ قوم کو میسر آیا ہے اس سے حقیقی معنوں میں اسی وقت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب کسی بھی دہشت گرد گروہ کو من مانی کرنے کا موقعہ نہ دیا جائے ۔ اگر اس رائے کو مان لیا جائے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی مشکلات میں نمایاں کمی لاسکتا ہے تو پھر دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے بھی ہمیں کسی ذاتی اور گروہی مفاد کے تابع نہیں ہونا۔
کراچی میں امن وامان کی صورت حال میں مستقل بہتری لانے کے لیے صوبائی حکومت کے کردار کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ پوری سنجیدیگی کے ساتھ محکمہ پولیس کی ان خامیوں کو دور کرے جو مسائل پیدا کررہیں۔ صوبائی درالحکومت میں امن وسلامتی برقرار رکھنا بلاول کے لیے یقینا چیلنج سے کم نہیں۔ بلاول زرداری کا حقیقی اپوزیشن رہنما بنے کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوگا جب وہ سندھ کی حد تک اپنی اہلیت کو ثابت کرڈالیں۔ گذشتہ روز ڈھرکی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے وزیراعظم میاں نوازشریف اور عمران خان پر تابڑ توڈ حملے کیے مگر حقیقی سیاسی کامیابی دوسروں کی خامیاں نمایاں کرنے کی بجائے خود میں خوبیاں پیدا کرنے سے ہی مل سکتی ہے۔
نوجوان چیرمین کو سمجھ لینا چاہے کہ خبیر تا کراچی حمایت میں اضافہ اسی صورت ممکن ہے جب پنجاب اور خبیرپختوانخواہ سے بڑھ کر سندھ میں امن ، تعلیم ، صحت اور گورنس کے مسائل حل کیے جائیں۔ ایک مخصوص زوایہ کراچی میں بالخصوص اور سندھ بھر میں بہتری بلاول کے سیاسی مسقبل کا تعین کردے گی لہذا لازم ہے کہ پی پی پی چیرمین کو پوری قوت سے منفی گروہوں کو شکست سے دوچار کر ڈالیں ۔
بلاول زرداری نے حکومت کو وارنگ دی ہے کہ اگر ان کے چار مطالبات تسلیم نہ کیے گے تو رواں ماہ ایسی بھرپور احتجاجی تحریک چلاسکتے ہیںجو حکمران جماعت کو دوہزار سترہ میں ہی عام انتخابات کے انعقاد پر مجبور کرڈالے گی۔ وفاق کی اہم سیاسی جماعت کے چیرمین کے طور پر سابق صدر زرداری کے فرزند سمجھ لیں کہ اگر قبل ازوقت عام انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے تو اس میں واضح کامیابی کے لیے ان کو بھی سو جتن کرنا پڑیں گے۔ الیکش میں ایک طرف متحرمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار نہ کرنا ان کے لیے مشکلات کھڑی کریگا تو دوسرا بدعنوانی اوربیڈ گورنس کا سندھ میں ختم نہ ہونا بھی پی پی پی مخالفین کے ہاتھوں میں بڑا ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔

Scroll To Top