بھٹکی ہوئی بدروحوں کا مسکن 07-01-2010

جب تقدیر روٹھ جائے تو چاروں طرف سے بری خبروں کی ہی یلغار ہوا کرتی ہے۔
گزشتہ برس ہماری عدلیہ نے جو تاریخ ساز فیصلے کئے ان کے باوجود تقدیر بدستور پاکستان سے روٹھی ہوئی ہے۔ جس تبدیلی کی آس میں لوگ ہر آنےوالے کل کا انتظار کررہے ہیں شاید اسے بھی کسی معجزے کا انتظار ہے۔ ہمارے آنے والے تمام ”کل“ بھی ہمارے گزرے ہوئے ہر ” کل“ کی طرح ہمیں مایوسیوں کے سوا کچھ دیتے نظر نہیں آرہے۔
آج کی صبح کا آغاز گورنر پنجاب کا ایک دلچسپ بیان پڑھ کر ہوا۔ ” دلچسپ“ اس بیان کو البتہ صرف ان لوگوں کے لئے کہا جاسکتا ہے جو بری خبروں میں بھی ظرافت کا پہلو تلاش کرتے ہیں۔
جناب سلمان تاثیر کا بدستور ” پنجاب کا گورنر“ رہنا بذات خود ایک دائمی بری خبر ہے۔
جس قسم کے بیانات وہ داغتے رہتے ہیں وہ کسی بھی معاشرے کا ” منہ چڑانے “ کے قابل سمجھے جاسکتے ہیں۔ اور ہمارے معاشرے کے مقدر میں تو ” بدنصیبی “ لکھی جاچکی ہے۔
اپنے تازہ ترین بیان میں جناب سلمان تاثیر نے فرمایا ہے کہ جو ” خوش فہم“ کسی تبدیلی کا انتظار کررہے ہیں انہیں ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کا کرب سہنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
” ابھی تو گیلانی صاحب کا دوسرا ٹرم باقی ہے۔ پھربلاول کے تین ٹرم ہوں گے، اس کے بعد آصفہ کی باری آئے گی ۔“
خدا جانے وہ بختاور بی بی کو وزارت عظمیٰ کے قابل کیوں نہیں سمجھتے۔۔۔!
بہرحال جناب سلمان تاثیر نے یہ ” مژدہ“ سنا دیا ہے کہ پاکستان بھی برطانیہ جیسی ” بادشاہت“ بننے جارہا ہے۔
اس قسم کا بیان یا تو کوئی مخبوط الحواس آدمی دے سکتا ہے یا پھر کوئی ایسا شخص جسے ملت پاک کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں مزہ آتا ہو۔
سلمان تاثیر کے بیان کے بعد پوری قوم پر یہ خبر بجلی بن کرگری کہ پاکستان سڈنی ٹیسٹ ہار گیا ہے۔
رات کولوگ ایک یقینی فتح کا جشن منانے کے ارادے کے ساتھ سوئے تھے۔ آج وہ یہ دکھ لے کر سوئیں گے کہ ہنوز کوئی اچھی خبر ہمارے دروازے پر دستک دینے کے لئے تیار نہیں۔
یوں لگتا ہے کہ بھٹکی ہوئی بدروحوں نے ڈیرہ ڈالنے کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انتخاب کرلیا ہے !

Scroll To Top