آئین میں وزیر اعظم کی سولو فلائٹ کی گنجائش نہیں، سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے وفاقی کابینہ کوبائی پاس کرنے کے اختیارکوکالعدم قراردیاتھا ،فیصلے کیخلاف حکومت نے نظرثانی کی درخواست دائر کی جسے مستردکردیاگیا
  • حکومتی امور کےلئے مضبوط وزیراعظم کی ضرورت ہے،حکومتی اپیل پر اٹارنی جنرل کے دلائل،آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ وزیراعظم یا کوئی وزیر و مشیر تنہا وفاقی حکومت ہے، جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی کابینہ کوبائی پاس کرنے کے وزیراعظم کے اختیار کوکالعدم کرنے کےخلاف حکومت کی نظرثانی درخواست مستردکردی ہے۔ جمعہ کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حکومت کی نظرثانی درخواست پرسماعت کی۔ اٹارنی جنرل پاکستان نے حکومتی اپیل پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی امور کےلئے مضبوط وزیراعظم کی ضرورت ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ آئین میں وزیراعظم کی سولوفلائٹ کی گنجائش نہیں، ٹیکس استثنا اور لیوی ٹیکس کا نفاذ وفاقی حکومت کا اختیار ہے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ وزیراعظم یا کوئی وزیر و مشیر تنہا وفاقی حکومت ہے، رولز کبھی بھی آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتے۔جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم کابینہ کی منظوری کے بغیر جو چاہے کرسکتاہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہروفاقی وزیر وفاقی حکومت کہلائے گا، اس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئین میں وفاقی حکومت کی تعریف بیان نہیں کی گئی ¾ وفاقی حکومت کابینہ کے مجموعے کو کہا جاتاہے۔سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کابینہ کو بائی پاس کرنے کے معاملے پر وفاق کی نظر ثانی اپیل خارج کردی۔

Scroll To Top