ہندوتوا نظریہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کےلئے خطرہ ہے: عمران خان

  • 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کہاں جاسکتی ہے کسی کو علم نہیں، پاکستان کشمیر کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہے ، مودی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر نہیں دباسکتی، مسئلہ کشمیر حل ہوئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں
  • مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے 100 دن سے زیادہ ہوچکے، محاصرے سے کشمیر کی 80 لاکھ کی آبادی اذیت میں ہے، بھارت میں جرمنی کی نازی پارٹی کی طرح نسل پرستی جڑ پکڑرہی ہے، مارگلہ ڈائیلاگ کانفرس سے خطاب

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے، امن جنوبی ایشیا کے لیے بہت ضروری ہے، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کہاں جا سکتی ہے کسی کو علم نہیں۔اسلام آباد میں مارگلہ ڈائیلاگ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے 100 دن سے زیادہ ہوچکے، کرفیو سے کشمیر کی 80 لاکھ کی آبادی اذیت میں ہے۔ مودی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر نہیں دباسکتی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں جرمنی کی نازی پارٹی کی طرح نسل پرستی جڑ پکڑرہی ہے، نسل پرستانہ نظریے کی وجہ سے 45 کروڑ افراد متاثر ہیں، ہرگزرتے دن کے ساتھ مودی کے موجودہ نظریات کے ساتھ وقت گزارنا مشکل ہوگا۔بھارت میں ہندوتوا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے ،ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوئے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ممکن نہیں،ہم ماحولیاتی تبدیلی اور غربت کے خلاف مل کر جدو جہد کرسکتے ہیں، ہم چین اور امریکا سے سبق حاصل کرسکتے ہیں، امریکا نے جنگ پر رقم خرچ کی جبکہ چین نے پیسہ انفرااسٹرکچر پر خرچ کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی،، ہم نے سیکھا پاکستان آئندہ کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوگا اور اب کسی تنازع کا حصہ بننے کے بجائے مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان کی اسٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے بہت اہمیت ہے، پاکستان اپنے پڑوس میں امن کے لیے کوششیں کر رہاہے، افغانستان کی صورتحال درست سمت میں جارہی ہے، افغانستان میں حالیہ پیش رفت سے سیاسی حل ہوگا اور امن آئےگا۔ایران اور سعودی عرب کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان، سعودیہ اور ایران میں ثالثی کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے، امریکااورایران میں مذاکرات شروع کرنے کے لیے بھی پاکستان نے کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو جب بھی ضرورت پڑی سعودی عرب نے ہمیشہ ساتھ دیا، جب کہ 60 کی دہائی میں تنازع کے دوران ایران پاکستان کی مدد کو آیا، پابندیاں اٹھیں تو ایران خطے کی اہم اقتصادی طاقت بن کر ابھر سکتاہے، ایران کے اہم اقتصادی طاقت بننے سے پاکستان کو فائدہ ہوگا،وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے جنگوں پر کئی ٹریلین ڈالرز جھونک دیے لیکن اس کے برعکس چین اپنا پیسہ جنگ کے بجائے عوام کی ترقی پر خرچ کرتا ہے، پچھلے20سال میں چین نےجوترقی کی ہم اس سے سبق سیکھ سکتے ہیں، کاروبارکوآسان بنانےکے لیے اقدامات کر رہے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ویزے میں نرمی سمیت کئی اصلاحات کیں، پہلے دہشتگردی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار آنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اب دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستان کے پڑوس میں مزید تنازعات نہ ہوں اور بھارت کے ساتھ بھی حالات بہتر ہوجائیں لیکن بدقسمتی سے بھارت میں انتہا پسند اور آرایس ایس نظریاتی پارٹی برسراقتدار ہے اور آرایس ایس نظریے کے پیروکار ہندوبالادستی پریقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نسل پرستانہ برتری کے خطرناک نظریہ پر عمل پیرا ہے اور وہاں جرمن نازی کی طرح ہندوتوا نظریہ جڑیں پکڑ رہا ہے اور ہندو توا نظریہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے

You might also like More from author