کشمیرکو بھی آزاد کریں اور ہمیں بھی شکریہ کا موقع دیں، عمرا ن خان

  • مودی سن لیں امن انصاف سے ہوتا ہے ،ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے، مسئلہ کشمیر خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ،،وہ دن دور نہیں جب تنازعہ حل ہوجائے گا ، کشمیریوں کو حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی
  • وزیراعظم کی سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے جنم دن کی مبارک باد ، کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین

نارووال:۔ وزیر اعظم عمران خان کرتارپور راہداری کاافتتاح کررہے ہیں

کرتارپور (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے جسے ہم ہمسائیوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں،مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے، لیڈر نفرتیں انسانیت اور محبت کی بات کرتے ہیں ، نفرتیں پھیلا کر ووٹ لینا لیڈر نہیں ہوسکتا ،مسئلہ کشمیر خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے،مودی نے 80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے بند کر دیا ہے ،اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا،نا انصافی سے انتشار پھیلتا ہے ،وہ دن دور نہیں جب کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا ، کشمیریوں کو حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی ۔ ہفتہ کو کرتارپور راہداری کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دی۔وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے حکومت اتنی محنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے،انسانیت اور انصاف جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے، جہاں نہ انسانیت ہوتی ہے نہ انصاف ہوتا وہاں جو صرف طاقتور ہوتا ہے بچ جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ گرونانک کا نظریہ فلسفہ بھی انسانیت اور محبت کی بات کرتے ہیں، انسانوں کو تقسیم کرنے، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ جتنے بھی صوفی حضرات آئے وہ انسانیت کےلئے آئے تھے ، بابا فرید گنج شکر ، نظام الدین اولیاء، حضرت معین الدین چشتی ؒکے مزاروں پر لوگ جاتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں ،وہ انسانیت کےلئے آئے تھے ۔انہوںنے کہاکہ آپ دل میں گر و نانک کا عقیدہ ہے ، مجھے خوشی ہے کہ آپ آئے اور ہم آپ کےلئے یہ کر سکے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آپ یقین کریں مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کرتارپور کی کیا اہمیت ہے ؟ یہ ایسے ہے جیسے ہم مدینہ کو چار پانچ کلو میٹر دور سے دیکھ سکیں مگر جا نہ سکیں ۔وزیر اعظم سکھ برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ، آپ کے دل سے دعائیں نکل رہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی حکومت نے اس کو کامیاب بنانے کےلئے بہت محنت کی جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ اللہ کے سارے پیغمبر لیڈر تھے لیڈر ہمیشہ انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے ،تقسیم نہیں کر تا ، نفرت نہیں پھیلاتا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ نفرت پھیلا کر ووٹ لینے والا لیڈر نہیں ہوتا ۔ انہوںنے کہاکہ نیلسن منڈیلا جب تک ساﺅتھ افریقہ میں رہے گا ہمیشہ لوگ دعائیں دینگے کیونکہ اس نے انسانوں کو اکٹھا کیا ، گورے ، حبشی اور ایشین سارے تقسیم تھے کوئی نہیں کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ساﺅتھ افریقہ میں بھی کبھی امن ہوگا اور انصاف ملے گا ؟کہتے تھے ایک دن خون ہوگا لیکن ایک لیڈر 27سال جیل میں گزارتا ہے اور پھر ظالموں کو معاف کر دیتا ہے اور ساﺅتھ افریقہ کو خون سے بچا لیتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے نبی رحمت اللعالمین تھے انسانوں کو اکٹھا کیا ، نفرتیں نہیں پھیلائیں ،انسانیت کی بات کی ،اس کے بعد صوفی حضرات نے بھی انسانیت کی بات کی ہے ہمارے دین میںلکھا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری دنیا کا قتل ہے ۔انہوںنے کہاکہ میں جیسے ہی وزیر اعظم بنا تو بھارتی وزیر اعظم سے بات کی کہ ہمارے خطے کا سب سے بڑا مسئلہ غربت کا ہے ، غربت کو ایسے ختم کر سکتے ہیں کہ ہمارے حالات اچھے ہوں ، تجارت شروع ہو جائے ہمیں بھی فائدہ ہوگا آپ کو بھی فائدہ ہوگا خوشحالی آسکتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کا ایک مسئلہ تھا یہ بھی ہمسائیوں کی طرح بات چیت کر کے مسئلہ حل کر سکتے تھے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ایک کانفرنس میں مجھے کہا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو سارا بر صغیر اٹھ سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج جو کشمیر میں ہورہاہے ،یہ انسانی حقوق کا ایشو ہے 80لاکھ لوگوں کو ان کے سارے انسانی حقوق ختم کر کے نو لاکھ فوج کے ذریعے بند کیا گیا ہے یہ انسانیت کا ایشو ہے یہ زمین کا ایشو نہیں ہے ،یہ انسانیت کاایشو ہے کس طرح لوگوں کو جانوروں کی طرح رکھا جارہاہے ، زبردستی حق لے لیا گیا ہے ،کبھی اس طرح امن قائم نہیں ہوگا اور اس کی وجہ سے سارے تعلقات رک گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ میںبھارتی وزیر اعظم مودی کو کہنا چاہتا ہوں انصاف سے امن ہوتا ہے نا انصافی سے انتشار پھیلتا ہے ،کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں بر صغیر کو آزاد کر دیں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ نو جوت سنگھ سدھو نے کہا کہ اگر ہمارا بارڈر کھل جائے ،تجارت شروع ہو جائے اور پھر دیکھیں کس طرح خوشحالی آئےگی اور ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکیں گے ۔انہوںنے کہاکہ میں نے آپ کے ساتھ یہ دن منایا ہے اس پر خوشی ہے ، پہلی دفعہ بھارت سے لوگ پاکستان آسکتے ہیں ، آپ کے کیا تاثرات ہیں مجھے معلوم ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مجھے امید ہے یہ شروعات ہیں ،انشاءاللہ ایک دن ہمارے تعلقات بھارت سے وہ ہونگے جو ہونے چاہئیں اگر کشمیر کا مسئلہ شروع سے حل ہو جاتا ، یہ نفرتیں ستر سال سے نہ ہوتیں جو مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئیں ۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح فرانس اور جرمنی نے جنگیں لڑیں ، ان کے کروڑوں لوگ مرے آج فرانس اور جرمنی تجارت کرتے ہیں ،بارڈر کھلے ہیں خوشحالی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جب کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائیگا تو بر صغیر میں خوشحالی آئیگی سارا خطے خوشحال ہوگا اور وہ دن دور نہیں ہے ۔

Scroll To Top