بابری مسجد کا فیصلہ: بھارتی سیکولر چہرے پر بد نما داغ ہے فردوس عاشق اعوان

  • مودی حکومت ےنے انتہاپسند اور آر ایس ایس نظریہ کے ساتھ کھڑے ہو کر ثابت کر دیا کہ بھارت کے اندر سوائے ہندوتوا کے باقی کسی نظریہ کی کوئی گنجائش نہیں
  • مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہر سطح پر ان کے لئے سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمائت جاری رکھیں گے


اسلام آباد (صباح نیوز)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بابری مسجد کے حوالہ سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلہ نے بھارت کے سیکولر چہرے کو داغدار کیا ہے، یہ بدنما داغ ہے جس کو بھارت کی ریاست کبھی نہیں دھو پائے گی۔ بھارتی عدالتیں اقلیتوں کے لئے واحد سہارا تھیں تاہم آج ہندوستانی انتہا پسندی کی سوچ نے اقلیتوں سے وہ سہارا بھی چھین لیا ہے اور اس ادارے نے بھی اپنے آپ کو حکومت کے ساتھ اور مودی مائنڈ سیٹ کے ساتھ ، انتہاپسند اور آر ایس ایس نظریہ کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کے اندر سوائے ہندوتوا کے باقی کسی نظریہ کی کوئی گنجائش نہیں اور کسی اور سوچ کو وہاں وہ پنپنے نہیں دیں گے اور اس فیصلہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری بھی ہوئی ہے ۔ ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہر سطح پر ان کے لئے سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمائت جاری رکھیں گے۔جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں کا سفیر، وکیل اور ترجمان بن کر پوری دنیا میں کشمیریوں کی آواز کو طاقت دی ہے ایسا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ان خیالات کا اظہار فردوس عاشق اعوان نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیپیکل آر ایس ایس نظریہ ہے کہ بھارت کا سیکولر چہرہ اور دنیا کے سامنے سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا جو بھارت دعویدار تھا ، مودی سرکار نے اس کو انتہاپسند سوچ کے ساتھ جڑ ی ریاست کے ساتھ طور پر دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے، ان کی سب سے بڑی عدالت نے آج یہ پیغام دے دیا کہ وہ ایک آزاد عدلیہ نہیں ہے ، وہاں پر یرغمالی آر ایس ایس کا نظریہ ہاوی ہو چکا ہے۔ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کے لئے بھارت کی حکومت ، ریاست اور قیادت ہے ان سب کا مائنڈ سیٹ اس فیصلہ میں نظر آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے حوالہ سے مودی سرکار کا جو ٹیپیکل مائنڈ سیٹ ہے اس سے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کی ایک نئی داستان شروع ہونے والی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بھی ختم کیا ہے اور اپنی من پسند ڈکٹیشن پر مبنی فیصلہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ مودی نے ہر ادارے کو اپنی گرفت میں لے کر اپنی سوچ کے ساتھ نتھی کر کے اب سیکولر بھارت کے نعرہ کو دفن کر چکا ہے اور گاندھی اور نہرو کا نظریہ بھارت میں دم توڑ چکا ہے اور مودی مائنڈ سیٹ اور مودی آر ایس ایس نظریہ نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یقیناً بھارت کے لئے بھی یہ نیک شگون نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی کی سوچ بھارت کی اپنی جمہوریت کی جڑوں کو کمزور کرے گی اور دنیا میں ایک اچھا پیغام نہیں گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے تفصیلی مﺅقف سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں کا سفیر، وکیل اور ترجمان بن کر پوری دنیا میں کشمیریوں کی آواز کو طاقت دی ہے ایسا پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے اپنے ہمسایہ اسلامی ممالک اور دیگر اسلامی ممالک سے ٹینشن ہوتے ہوئے بھی ان ممالک کے مسلمانوں کے لئے مکہ اور مدینہ کے دروازے بند نہیں کئے۔ کرتارپور بھی سکھ برادری کو انتا ہی عزیز ہے جتنا ہمیں مکہ اور مدینہ عزیز ہے، ہم مذہبی ہم آہنگی پر کام کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا کشمیر پر جو مﺅقف ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہم کھڑے ہیں اور ان کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہر سطح پر ان کے لئے سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمائت جاری رکھیں گے۔

Scroll To Top