کرتار پور۔۔۔ دوستی اور رواداری کی راہداری

جغرافیائی رشتہ ایک اٹوٹ ابدی حققیت ہے
دنیا میں ابھی تک ایسی کوئی سائنس ، کوئی میکانزم یا گیدڑ سنگھی وجود میں نہیں آسکی(اور شائد ایسا کبھی ہو بھی نہ سکے) جس کے ذریعے کوئی اپنا جغرافیہ پسند کی دوسری جگہ منتقل کرسکے۔
اس ابدی حقیقت یا جبری صورت حال سے ایک ہی سبق ملتا ہے کہ جغرافیائی ہمسائیگی کے تقاضوں کی پاسداری ازبس ضروری ہے۔ اور جب کسی جغرافیائی اکائی میں دو حریف قوتیں پائی جاتی ہوں تو علاقے میں امن ، رواداری اور سلامتی کے تقاضوں اور تعلقات کو نبھانا فریقین پر لازم آجاتا ہے ۔
اسی گہرائی اور گیرائی والی سچی حقیقت سے آگہی اور شعور ہی تو تھا کہ مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے فوراً بعد عمران خان نے بطور وزیر اعظم پاکستان اپنے اہم ترین ہمسایے بھارت کو امن، سلامتی اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت دوستی میں ایک قدم آگے آئے گا تو ہم ان شا اللہ دو قدم آگے ہونگے۔
افسوس صد افسوس کہ ادھر بھارتی قیادت کی طرف سے عمران خان کی اس امن پیش قدمی کی عزت قدرنہ کی۔ اور محض اپنے عامیانہ مفادات کی غرض سے خطے کے امن کو تباہ کرنے کی سازشیں جارکھیں۔ اس ضمن میں بھارتی وزیر اعظم مودی، مقتدر پارٹی بی جے پی اور اس کی لے پالک دشہتگرد اور نسل پرست تنظیم آر ایس ایس نے اپنے ملک میں پاکستان کے خلاف مہم جوئی کا چورن خوب بیچا۔ اس سلسلے میں مودی نے اپریل مئی میں منعقدہ ریاستی انتخابات میں پاکستان دشمنی پر مبنی بیانیے کو بہت فروغ دیا۔ اسی دوران پلوانہ ناٹک رچایا گیا جس میں بھارت کو شدید عسکری سبکی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ابھی پلوامہ ڈرامہ ختم ہوا تھا کہ بھارت نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر اپنے تئیں قانون اور آئین کے نام پر شدید حد تک غیر آئینی دہشتگردی کا ارتکاب کر ڈالا۔اور کشمیر کو بھارتی ریاست میں ضم کرنے کا یک طرفہ اعلان کر دیا۔ 5اگست کو کی گئی اس واردات کے خلاف اہل کشمیرسراپا احتجاج بن گئے، وادی میں جگہ جگہ احتجاجی سلسلے پھوٹ پڑے۔ بھارت نے وہاں پہلے سے موجودسات لاکھ فوج میں مزید تین لاکھ نفری کا اضافہ کر دیا اور تب سے اب تک دس لاکھ بھاری فوج نہتے کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے گھروں کے پنجروں میں بند رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان نے اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے خلاف اس بہیمانہ دہشتگردی پر کشمیرعوام کی ہر اعتبار سے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد جاری رکھی۔ یہاں تک کہ ستمبر کے اوآخر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جرنل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کا مقتدر انتہائی شاندار اور مدلل انداز میں پیش کیا عمران خان ایک ہفتہ امریکہ میں رہے اس دوران انہوں نے شبانہ روز سفارت کاری اور عالمی لیڈروں سے 70سے زیادہ بالمشافہ ملاقتیں کر کے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقومی درجے پر موضوع بحث بنا دیا۔ اس صورت حال کے باعث امید پیدا ہو چلی تھی کہ اقوام متحدہ کے بعد دوسرے عالمی فورم پر بھی مسئلہ کشمیر سنجیدہ بحث و تمحیص کے لئے چن لیا جائے گا اور یوں ضمیر عالم بھارتی کو مجبور کر دے گا کہ وہ پچھلے 72سال سے حل طلب مسلے کو عدل و انصاف کے ساتھ اس کے منطقی انجام تک پہنچائے۔
مگر پھر پاکستان میں” ملا فضلو“ کی وبائی مرض پھوٹ پڑی۔ ہمارا برخود میڈیا جواب تک مسئلہ کشمیر کو اپنی خبروں اور ٹاک شوز میں مرکزی موضوع بنائے ہوئے تھا یکبارگی اپنا رخ اس نئی وبا کی طرف موڑ بیٹھا۔ اب صبح شام میڈیا پر ملا فضلو کا تذکرہ ہونے لگا۔ یہ مردود جہاں سیاسی وچولہ خود اپنے آبائی حلقوں یعنی ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں سے پی ٹی آئی کے امیدواروں سے شرمناک شکست کھا چکا تھا۔ اور اب اسی شکست خوردگی کے بوجھ سے نجات پانے کے لئے کرپشن میں دھنسی پی پی پی اور نون لیگ کی قیادتوں کے ہتھے چڑھ گیا۔
کرپشن کے الزامان کے مارے سارے سیاستدانوں کو خود کو بچاو¿ کے لئے اپنے اپنے مفاد میں ملا کہ کنٹینر پر چڑھ دوڑے اور عمران خان کے استعفے اور ازسر نو انتخابات کے مطالبوں پر یک زبان ہو گئے۔ اسی دوران یہ سیاستدان نام نہاد آزادی مارچ کے نام پر ”دھرنے“ کے ایشو پر ملا فضلو سے الگ ہوگئے مگر بعض عمران کی قدر مشترک نے انہیں کسی نہ کسی درجے پر باہمدگر جوڑے رکھا۔
یہ ہے وہ ساری صورت حال جس میں پاکستان کی نو سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی اور نون لیگ اسی ایجنڈے پر گامزن ہیں جس پر بھارت کارفرما ہے۔
گو یا دوسرے لفظوں میں یوں کیئے کہ اب ایک طرف اکیلا عمران خان ہے جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجال رہا ہے اور قومی سطح پر ملک کو کرپشن کے ناسور سے پاک کرنے کا عزم رکھنا ہے ۔ اپنے ان مقاصد کے حصول کے لئے ہی عمران خان نے سفارتی محاذ پر بھارتی کو زچ کرنے کی غرض سے”امن حملے“PEACE OFFENSIVEکے ذریعے پیش قدمی کی۔ اور اس کا ایک نہایت خوبصورت مظہر بنی کرتار پور راہداری۔۔۔۔۔ سکھ برادری کا ایک دیرینہ خواب۔ اور آج عالم یہ ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کروڑوں سکھوں کے دلوں میں عمران خان ایک ہیرو کی طرح گھر بنا چکے ہیں۔
اور آج یعنی 9نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاھ کر دیا گیا۔ دنیا بھر کے کروڑوں سکھوں کا ایک نمائندہ احتجاع آج کرتارپور میں منعقد ہوا۔ جہاں سکھ برادری نے اپنے جن جذبات کا اظہار کیا ان کا خلاصہ یہ ہے کہ کرتارپور راہداری محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ دو مذاہب کے پیروکاروں اور ہمسایوں کے مابین محبت، اخوت اور رواداری کی راہداری ہے۔ بھارتی نسل پرستوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار، جس کے موجد ہیں عمران خان۔۔(جاری ہے)

Scroll To Top