امریکہ چین خلافت راشدہ اور پاکستان 11-11-2015

کیا آپ کے لئے یہ بات اچھنبے کی نہیں کہ دنیا کی سب سے طاقتور اور کامیاب جمہوریت میں حکومتی سیٹ اپ کے اندر صرف ایک ” منتخب ایگزیکٹو “ ہوتا ہے اور باقی پورے حکومتی سیٹ اپ میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ہوتا جسے عوامی نمائندہ کہا جاسکے ؟
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں امریکہ کی بات کررہا ہوں جو دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ماناجاتا ہے اور جو یقینی طور پر دنیا کا سب سے طاقتور جمہوری ملک ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ براک اوباما کے علاوہ امریکی حکومت یا انتظامیہ میں کون سا دوسرا شخص ہے جسے عوام نے منتخب کیا ہو ؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی نام نہیں آرہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کوئی شخص امریکی حکومت میں موجود ہی نہیں۔
گویا پوری انتظامیہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جنہیں صدر اوباما نے ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت حکومت چلانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ میری معلومات کے مطابق ایسے افراد کی تعداد تقریباً دس ہے جو وزراءکا درجہ رکھتے ہیںجو صرف اور صرف صلاحیت یعنی میرٹ کی بنیاد پر حکومت کا حصہ بننے ہوئے ہیں یا بنتے ہیں۔ کسی ایک کا بھی اوباما کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اُن کا کوئی تعلق آپس میں ہے۔ گویا دنیا کے سب سے طاقتور ملک کو گیارہ افراد اپنی صلاحیت اور کارکردگی کے ذریعے چلا رہے ہیں جن میں صرف ایک ایسا ہے جو تقریباً سوا سال پر محیط انتخابی عمل کے ذریعے صدر بنتا ہے اور بنا ہے۔
جہاں تک پارلیمنٹ کا تعلق ہے )جسے کانگریس کہتے ہیں( اس کا کام صرف قانون سازی کرنا اور اس بات کوزیادہ سے زیادہ یقینی بنانا ہے کہ حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں قانون کے دائرے سے نہیں نکل رہی۔
یہاں میں دنیا کی اس جدید ترین اور طاقتور ترین جمہوریت کا موازنہ خلافت راشدہ سے کروں گا۔ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) تھے۔ ان کا آنحضرتﷺ سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا اور انہیں اس دور کے مروّجہ جمہوری طریقے )بیعت(کے ذریعے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے اپنی ساری انتظامیہ اپنی مرضی اور ضروریات کے مطابق خود منتخب کی۔حضرت ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) کے بعد حضرت عمر فاروق(رضی اللہ عنہ) پھر حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) اور پھر حضرت علی(رضی اللہ عنہ) خلیفہ بنے اور کسی کا دوسرے سے خونی رشتہ نہیں تھا۔ دوسرے الفاظ میں ان کی حکمرانی کا کوئی تعلق وراثت سے نہیں تھا اور سب کے حکومتی سیٹ اپ کی بنیاد ویسی ہی تھی جیسی آج کے دور کے امریکہ کی ہے۔
میں نے یہ مثال صرف اس لئے دی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ جس جمہوریت پر امریکہ فخرکرتا ہے وہ اس کی ایجاد نہیں، اس کا کامیاب تجربہ پہلی مرتبہ ساتویں صدی میں کرلیا گیا تھا۔
امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا طاقتور ملک چین ہے۔ وہاں نظامِ حکومت نہ تو روایتی جمہوری ہے، نہ ہی موروثیت اور بادشاہی ہے اور نہ ہی روایتی آمریت ہے۔
وہاں کمیونسٹ پارٹی حکمران ہے جو اندرونی جمہوریت کے ذریعے اپنی قیادت کا فیصلہ کرتی ہے ہر دس برس کے بعد اقتدار ایک فرد سے منتقل ہو کر دوسرے فرد کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید بہت زیادہ نادرست نہ ہو کہ چین میں ” یک جماعتی جمہوریت “ رائج ہے جو اپنے انداز میں خلافت راشدہ کے قریب ہے۔یہ بات یہاں مغربی جمہوریت کے لبرل علمبرداروں کو پسند نہیں آئے گی کہ اسلام میں کثیر الجماعتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام خود ایک دین بھی ہے، ایک نظام بھی ہے اور ایک جماعت بھی ہے۔
جس المیے سے پاکستان دوچار ہے اسے سمجھنے کے لئے میں نے یہ موازنہ یا تجزیہ کیاہے۔
حکومتیں چلانے والا جو ہر قابل انتخابی عمل کے ذریعے سامنے نہیں آسکتا۔ سیاست کو تجارت سمجھنے والے طبقے کو جو بھی قوم اپنی تقدیر بنائے گی، تباہی و بربادی کا راستہ منتخب کرے گی۔

Scroll To Top